توجہ طلب معاملہ

توجہ طلب معاملہ


جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے فاٹا میں قیام امن کے لئے وفاقی سطح پر اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلا نے اور نقیب اللہ محسود کے قتل کیخلاف مطالبات بارے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان مطالبات کو عملی صورت دی جائے کیونکہ اس سلسلے میں تاخیری حربے اختیار کرنے کی مزید اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے خیبرپختونخوا میں غیر ضروری طور پر قائم چیک پوسٹوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔گوکہ فاٹا میں اصلاحات لانے کے عمل کو آخری وقت پر رکوانے کا سہرا مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی کے سرجاتا ہے لیکن اس کے باوجود مولانا فضل الرحمن کے محولہ مطالبات کی اصابت کی تائید نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کا فاٹا انضمام بارے کردار و عمل جو بھی ہو انہوں نے فاٹا اور خیبر پختونخوا میں غیر ضروری چیک پوسٹیں ہٹانے کا مطالبہ کرکے نہ صرف ایک بہت بڑے عوامی مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے بلکہ یہ صورتحال افسوسناک حد تک عوام میں تضادات اور تنقید و منافرت کا باعث بنتی جارہی ہے۔ عدالت عالیہ بھی اس قسم کے احکامات دے چکی ہے لیکن اس کے باوجود ابھی اس ضمن میں کافی سے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ صورتحال سے بعض عناصر جس قسم کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اس سے جذباتی کیفیت کا شکار افراد متاثر ہو رہے ہیں اور لوگوں کی بڑی تعداد ان کے پروپیگنڈے میں آرہی ہے۔ جملہ صورتحال توجہ کی متقاضی اور لمحہ فکریہ ہے جس پر جملہ عمال حکومت کو غور کرنے اور اس کا حل نکالنے کی ضرورت ہے۔

اداریہ