Daily Mashriq


وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے اصرار

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے اصرار

عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیے جانے کے بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ''کیوں نکالا'' کی مہم چلائی اور یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ یہ فیصلہ ان کے خلاف نہیں بلکہ جمہوریت کے خلاف ہے۔ انہوں نے اداروں کے خلاف محاذ آرائی کا رویہ اختیار کیا۔ جگہ جگہ جلسے کیے اور عوام کو اکسایا لیکن وہ پاکستان کے عوام کو اپنے بیانیہ پر قائل نہیں کر سکے ۔ پاکستان کے عوام کے شعور میں یہ بات راسخ ہے کہ عدلیہ اور فوج کے ادارے ہیں تو پاکستان کی ریاست ہے۔ محاذ آرائی کے اس بیانیہ پر اوس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے دو ٹوک بیانات نے ڈال دی۔آرمی چیف نے کہا کہ فوج جمہوریت کے ساتھ کھڑی ہے ، جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک میں صرف جمہوریت چلے گی ، جب تک وہ ہیں نہ مارشل لاء لگے گا ، نہ کوئی جوڈیشل مارشل لاء آئے گا۔ ''جمہوریت ' جمہوریت اور جمہوریت '' ۔ میاں نواز شریف نے لاکھ کہا کہ وہ اب مکمل طور پر نظریاتی ہو گئے ہیں کسی نے انہیں انقلابی تسلیم نہیں کیا۔ میاں صاحب کے مسلسل محاذ آرائی کا نقارہ بجانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی پارٹی کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے خواہش مند دوسری پارٹیوں کی طرف دیکھنے لگے کیوں کہ ان کے خیال میں محاذ آرائی جس کی کوئی بنیاد نہیں پھر یہ ہوا کہ ن لیگ کی صدارت پر میاں شہباز شریف کو نامزد کیا گیا جن کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ وہ میاں نواز شریف کے محاذ آرائی کے رویہ سے مختلف رویہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے بیان دیا کہ عدلیہ ' پارلیمنٹ ' فوج اور حکومت کو مل کر ملک کو مسائل سے نکالنا چاہیے۔ مسائل تو وہی گمبھیر ہیں جو ن لیگ کے تیس سالہ دور میں پیدا ہوئے لیکن فوری مسئلہ میاں نواز شریف کے خلاف نیب عدالت میں زیرِ سماعت ریفرنس ہے۔یہ بیان دے کرشہباز شریف اپنے طبی معائنہ اور بیگم کلثوم نواز کی عیادت کے لیے لندن چلے گئے ۔ وہاں سے ان کی اہم لوگوں اور پارٹی ورکروں سے ملاقاتوں کی خبریں آ رہی ہیں۔ چند دن کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی نجی دورے پرامریکہ روانہ ہوئے اور وہاں سے ان کی امریکی نائب صدر سے ملاقات کی خبر موصول ہوئی۔ موصوف نے اس ملاقات اور اپنی نجی مصروفیات سے پاکستان کے دفتر خارجہ کو دور رکھا۔ انہی دنوں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بیان دیا کہ وہ تمام اداروں کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کہا کہ ان کی حکومت اداروں سے مکالمہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاثر یہ قائم کرنا مقصود تھا کہ شاید کوئی این آر اوکہیں زیرِ غور ہے لیکن ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔ دوسری طرف نیب کی عدالت میں میاں نواز شریف کے خلاف زیرِ سماعت مقدمہ اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے نزدیک ہے۔ جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کے بیان اور ان پر جرح کے بعد صرف نواز شریف اور اہل خانہ کے بیانات باقی رہ جاتے ہیں۔ یکایک یہ بیانات سامنے آئے کہ واجد ضیاء نے تو میاں نواز شریف پر کوئی الزام عائد نہیں کیا اور انہیں کلین چٹ دے دی۔ حالانکہ اس مقدمے میں میاں نواز شریف کے خلاف کوئی کرپشن کوئی کک بیکس کا الزام ہے ہی نہیں۔ یہ بات سابقہ بنچ کے ججوں نے بھی کی تھی اور موجودہ سپریم کورٹ کے بنچ کے ججوں نے بھی کہی تھی کہ اس مقدمے میں نواز شریف پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں ہے۔ ریفرنس کرپشن کا نہیں ہے بلکہ لندن فلیٹس کی منی ٹریل کا ہے۔ واجد ضیاء کے حوالے سے اس مسرت کے اظہار کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کل اگر مقدمہ کا فیصلہ خلاف آئے تو یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جائے کہ کرپشن کا تو کوئی الزام نہیں تھا اس کے باوجود سزا ہو گئی۔ جب شہباز شریف 'نواز شریف اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے اداروں کے ساتھ مکالمہ کی پیش کش کا کوئی ردِعمل نہ آیا تو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی خود چیف جسٹس سے ملنے چلے گئے۔ (اس خبر سے بھی یہی پیغام جاتا ہے کہ شاید کوئی این آر او زیرِ غور ہے) وزیر اعظم ہاؤس سے کوئی اعلامیہ جاری نہ ہوا، سپریم کورٹ کے دفتر تعلقات عامہ نے جو بیان جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے لیے چیف جسٹس کو حکومت کے تعاون کا یقین دلایا۔کیا وزیر اعظم صرف یہی کہنے اچانک چیف جسٹس سے ملاقات کے لیے گئے تھے؟۔ وزیر اعظم نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی کس بات کے جواب میں چیف جسٹس نے اتنی وضاحت سے قانون کی پاسداری کی بات کی۔ عوام کو یہ معلوم ہونا چاہیے ۔ لیکن وزیر اعظم کا اصرار ہے کہ وہ فریادی بن کر چیف جسٹس کے پاس گئے تھے۔ ملک اور قوم کی فریادلے کر۔ یہ بتایا جاناچاہیے کہ کس کے خلاف فریاد کی گئی۔ حکومت انہی کی پارٹی کی ہے ، وہ خود حکومت کے سربراہ ہیں ۔ فریادی ہونے کا اعتراف مغالطہ آرائی ہے۔ ن لیگ کے رہنماؤں کے بیانیہ میں تبدیلی اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی چیف جسٹس سے ملاقات ایک طرف نیب عدالت کو نفسیاتی دباؤ میں لانے کی کوشش کی تھی کہ سپریم کورٹ سے رابطے ہو رہے ہیں ۔ دوسری طرف نیب عدالت میں زیرِ سماعت مقدمہ سے عوام اور میڈیا کی توجہ ہٹانے کی کوشش تھی۔ ایک اور کام شاہد خاقان عباسی نے یہ کیا کہ ریاست کے ایک اہم ادارے سینیٹ اور اس کے چیئرمین پر ہارس ٹریڈنگ کاالزام عائد کر دیا۔ اس طرح خود حکومت نے سینیٹ کی توہین کر دی۔وزیر اعظم کا کام الزام لگانا نہیں بلکہ معاملات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہونا چاہیے۔ حکومت اور تحقیقاتی ادارے سب ان کے تابع فرمان ہیں۔ سینیٹ کی توہین کرنے کی بجائے تحقیقات کریں اور اپنا الزام ثابت کریں ۔ وزیر اعظم نے لگتا ہے یہ موضوع بھی نواز شریف کے مقدمے کا فیصلہ آنے سے پہلے عوامی مکالمے میں شامل کرنے کے لیے کھولا ہے۔ مقصد نیب ریفرنس سے عوام کی توجہ ہٹانا ہے۔ تاکہ فیصلہ آئے تو اس پر اپنی مرضی کے مطابق تبصرے کیے جائیں۔

متعلقہ خبریں