Daily Mashriq


ٹرمپ ایک ٹویٹ اُدھر بھی

ٹرمپ ایک ٹویٹ اُدھر بھی

افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جون نکلسن نے روس پر طالبان کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔جنرل نکلسن کا کہنا تھا کہ روس نے تاجکستان کی سرحد پر جنگی مشقوں کے دوران جو اسلحہ جمع کیا تھا مشقیں ختم ہونے کے بعد اسے واپس لے جانے کی بجائے وہیں چھوڑ دیا گیا جو سمگل ہو کر افغانستان پہنچا اور وہاں سے اپنی اصل منزل یعنی طالبان کے ہاتھ لگ گیا ۔ان میں دوسرے اسلحے کے علاوہ بھاری مشین گنیںاور رات کو دیکھنے والے آلات بھی شامل ہیں۔روس نے امریکی جنرل کا یہ الزام مسترد کیا ہے اور کہا کہ امریکہ نے پہلے بھی کسی ثبوت کے بغیر اس طرح کے الزامات عائد کئے ہیں۔امریکی الزامات درست ہیں تو یہ بات افغان مسئلے کو مزید پیچیدہ بنانے کے لئے کافی ہے ۔اس وقت امریکہ کا موقف صر ف یک نکاتی تھا کہ افغانستان میں سارا فساد اور بے چینی حقانی نیٹ ورک کی بدولت ہے اورپاکستان اس کا سرپرست اور معاون ہے۔امریکہ نے اپنا یہ فلسفہ پوری دنیا میں عام کر کے پاکستان کو تنہا اور بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔دنیا کو یہ باور کرایا گیا کہ افغانستان میں سارے مسائل اور مشکلات کی جڑ پاکستان ہے ۔اس الزام تراشی میں امریکہ کو بھارت اور کابل حکومت کی معاونت بھی حاصل رہی ۔افغانستان میں امریکہ ،نیٹو اور ایساف سمیت درجنوں ملکوں کی فوجیں جدید ہتھیاروں سے لیس ہوکر لڑتی رہیں مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ زمین ان کے پیروں تلے سے کھسکتی رہی یہاں تک کہ کئی مغربی ملکوں نے افغانستان سے اپنی فوجوں کے انخلاء میں ہی عافیت جان لی ۔ افغانستان میں ہر نیا زخم سہنے کے بعد اور ہر نیا کچوکا لگنے کے باوجود امریکہ اپنی انا کا پرچم لہراتا رہا ۔اسے اپنی ناکامیوں کا ملبہ ڈالنے کے لئے جس سینڈ بیگ کی ضرورت تھی وہ پاکستان کی صور ت میں مل گیا تھا ۔پاکستان جیسی بے زبان اور بے ضرر مخلوق بھی امریکہ کو کہاں میسر آتی کہ جو امریکی ڈرون کو بھی اپنے کھاتے میں ڈال کر خود کو حالات کی بند گلی میں پھنساتے رہے ۔امریکہ نے پاکستان کا موقف سننے کی کبھی ضرورت ہی محسو س نہیں کی شاید وہ یہ موقف سننا ہی نہیں چاہتے تھے ۔کم وبیش ایک عشرہ اسی طرح گزر گیا امریکی الزامات عائد کرتے رہے اور پاکستان کٹہرے میں کھڑا وضاحتیں کرتا رہا ۔طالبان کے قدم آگے بڑھتے رہے اور وہ مزید علاقوں کا کنٹرول سنبھالتے رہے ۔افغان حکومت کی عملداری سمٹتی اور سکڑتی چلی گئی ۔ایک عشرہ گزر گیا تو افغان مسئلے کی کئی نئی جہتیں کھلتی چلی گئیں ۔2001میںجب امریکہ نے افغانستا ن پر یلغار کی تھی تو روس اس وقت اپنی معاشی حالت بہتر بنانے کی جنگ لڑ رہا تھا ۔ ایک خوفناک بحران سے نکلنے کی سرتوڑ کوششیں کررہا تھا اس لئے وہ اپنے پچھواڑے میں امریکہ کی آمد اور مستقل قیام کی جانب توجہ نہ دے سکا ۔روس نے اپنے داخلی مسائل پرقابو پالیا تو اسے خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی کا احساس کلبلانے اور ستانے لگا۔اس دوران امریکہ نے روس کے معاملات میں بھی سینگ پھنسانے کی کوشش شروع کی جو یوکرائن کے بحران پر منتج ہوئیں ۔اس کے بعد روس نے طالبان سے رسم وراہ پیدا کرنا شروع کی۔داعش کے اُبھرتے ہو ئے خطرے نے روس کو طالبان کے ساتھ معاملات بہتر کرنے پر مجبور کر دیا۔روس کو یہ خطرہ ہے کہ افغانستان میں داعش کا پھیلائو وسط ایشیائی ریاستوں اور آخر کار روس کو اپنی لپیٹ میں لے گا ۔ اس خطرے نے طالبان اور روس کو مزید قریب کر دیا ۔اب اگر امریکہ کو احساس ہو گیا کہ روس طالبان کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے تو پھر جناب ٹرمپ کے ذمہ ایک زوردار ٹویٹ تو واجب ہے ۔ایک ایسا ٹویٹ جس میں وہ روس پر امن عالم کو تباہ کرنے اور افغانستان میں بدامنی کا جزوی ہی سہی مگر الزام عائد ہو۔ایسا ٹویٹ جس میں دھوکے بازی اور عہد شکنی کی بات ہو اور تجارتی تعلقات کو محدود کرنے کی دھمکی ہو ۔ایک ٹویٹ میں یہ سب کچھ سمانا شاید مشکل ہو تو اس کے لئے ایک اور ٹویٹ کیا جا سکتا ہے ۔وہ عالمی فورمز پرروس کو اس طرح بدنام کیوں نہیں کرتا جس طرح پاکستان کے خلاف برسوں سے ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے مگرامریکہ میں اتنا دم خم نہیںکہ وہ روس کے خلاف الزام تراشی پر مبنی کوئی مہم چلائے ۔اس لئے کہ روس اور امریکہ کے درمیان تعلقات کا ایک توازن رہا ہے ۔اس کے برعکس پاکستان کے حکمران طبقات نے اس ملک کو عملی طور پر امریکہ کے ہاں گروی رکھ چھوڑا تھا۔ یہ تو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ کی ترجیحات اور ضرورتیں بدل گئیں اور امریکہ پاکستان سے نظریں پھیرتا چلا گیا یہاں تک کہ اب دونوں کے تعلقات میں ایک گہری خلیج پیدا ہو چکی ہے ۔پاکستان اس کھیل میں فقط جرم ضعیفی کا شکار ہے ۔روس سے پہلے چین اور ایران کے بارے میں کبھی کھلے تو کبھی ڈھکے انداز میں اسی طرح کی باتیں ہوتی رہیں ۔امریکی ڈرون حملے کا شکار ہونے والے طالبان کے سابق سربراہ کے پاسپورٹ پر کئی ملکوں کے ویزے لگے ہوئے تھے مگر امریکہ نے ان ویزوں کی تحقیق کی بجائے اس باب کو بند ہی رکھنے میں عافیت جان لی ۔ ٹویٹ کے اس کھیل میں امریکہ کے دوہرے رویوں میں پاکستان کے لئے سبق ہے کہ کبھی کسی ملک اور طاقت کے لئے راہ کی گھاس نہیں بننا چاہئے کہ آپ کو یک طرفہ ہی روندا جاتا رہے۔

متعلقہ خبریں