گرمی اورلوڈ شیڈنگ لازم و ملزوم

گرمی اورلوڈ شیڈنگ لازم و ملزوم

خیبر پختونخوا میں مارچ کے مہینے ہی میں بجلی لوڈشیڈنگ کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ وطن عزیز میں بجلی کا فی کس استعمال بہت کم ہے مگر اس کے باوجود بھی بجلی لوڈ شیڈنگ قابو کر نے میں موجودہ حکومت بہت سارے وعدوں کے باوجود ناکام ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو دنیا کے 219 ممالک میں بجلی کا اوسط فی کس خرچ 317 یونٹ ہے اور پاکستان ایک جوہری اور میزائل طاقت ہوتے ہوئے بھی21 ویں صدی میں یہاں بجلی کا فی کس خرچ 40 واٹ ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہم اگر ترقی یافتہ اقوام کی بات کریں تو آئرلینڈ میں بجلی کا فی کس خرچہ 5777 واٹ، ناروے میں 2750 واٹ اور کینیڈا میں 2500 واٹ ہے جبکہ پاکستان میں بجلی کا فی کس خرچ 40 واٹ یعنی ایک ٹیوب لائٹ کے برابر ہے۔ جنوبی ایشیاء کے وہ ممالک جو ہمارے پڑوسی ہیں اور دنیا کے انتہائی پسماندہ مفلوک الحال ممالک جو پاکستان سے حد سے زیادہ غریب ہیں وہاں پر بھی بجلی کا استعمال ہم سے کئی گنا زیادہ ہے۔ مثلاً بھارت میں بجلی کا فی کس استعمال 130واٹ، بھوٹان میں 317واٹ، چین میں فی کس بجلی استعمال 492واٹ اور پسماندہ ممالک جیسے الجیریا میں فی کس بجلی کا استعمال 136واٹ، پیرو میں 144واٹ، زمبابوے 62واٹ فی کس بجلی کا استعمال ہے۔ اگر ہم مزید تجزیہ کریں تو پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 25100 میگاواٹ ہے جس میں تیل اور گیس سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 14635 میگاواٹ (64 فیصد) پانی سے بجلی پیدا کرنے کی صلا حیت 6611میگاواٹ (29 فیصد) ایٹمی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 1327میگاواٹ ( 6 فیصد) ہے جبکہ بجلی کی اوسط طلب 17ہزار میگاواٹ ہے۔ ہم پانی سے ایک لاکھ میگاواٹ، ہوا سے 50 ہزار میگاواٹ، کوئلہ سے 2 لاکھ میگاواٹ دو سو سال کیلئے پیدا کر سکتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں ایک مربع میٹر پر دو کلو واٹ شمسی توانائی پڑتی ہے۔ جہاں تک خیبر پختونخوا میں بجلی کی پیداوار کا تعلق ہے تو پانی سے جو بجلی پیدا ہوتی ہے وہ 4200 میگاواٹ ہے اور حال ہی میں تربیلا سے مزید 1400 میگاواٹ یعنی کل 5700 کلوواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے جبکہ اس کے برعکس خیبر پختونخوا کی انتہائی گرمی میں ٹوٹل طلب 2000 اور 2500 میگاواٹ کے برابر ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ خیبر پختونخوا کو صرف ایک ہزار میگاواٹ کی لگ بھگ بجلی دی جاتی ہے اور باقی ایک ہزار میگاواٹ کے قریب گرمی میں لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔ جب میاں نوازشریف نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو عالمی سطح پر خام تیل جس سے پاکستان میں زیادہ تر بجلی بنائی جاتی ہے کی قیمتوں میں کافی کمی واقع ہوئی۔ پی پی پی کے دور میں خام تیل کی قیمت113ڈالر فی بیرل تھی۔ نوازشریف کے دور میں2015 میں خام تیل کی فی بیرل قیمت 43ڈالر، 2016 میں 29-30 ڈالر فی بیرل، 2017 میں 47 ڈالر فی بیرل اور 2018 میں تیل کی فی بیرل قیمت 60 ڈالر ہو گئی مگر تیل کی کم قیمتوں کے باوجود بھی بجلی کی قیمتوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ چور کون ہوتا ہے اور موردالزام کس کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ حال ہی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین خورشید شاہ کو بتایا گیاکہ سالانہ 213 ارب روپے بجلی چوری یا لائن لاسسز کی نذر ہو جاتے ہیں اور بجلی چوری میں سب سے زیادہ پختونخوا کو موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ اگر ہم غور کر لیں تو سال 2009 میں بجلی کے 2کروڑ 75لاکھ کے لگ بھگ کنکشن تھے۔ ان میں پنجاب میں 2کروڑ 13لاکھ کنکشن، خیبر پختونخوا میں 26لاکھ، سندھ میں 16لاکھ کنکشن، بلوچستان میں 5لاکھ اور فاٹا میں 3لاکھ کنکشن تھے۔ اگر ہم پنجاب کے شہروں لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، پنڈی، ملتان کے بجلی لاسسز یا چوری کا اندازہ کریں تو یہ 57فیصد بنتی ہے اور اگر پنجاب کے2کروڑ 13لاکھ صارفین میں 57فیصدکا اندازہ لگائیں تو اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اس وقت پنجاب میں ایک کروڑ28لاکھ صارفین بجلی چوری کرتے ہیں یا لائن لاسسز ہیں جبکہ اس کے برعکس خیبر پختونخوا کے 26لاکھ صارفین میں 32 فیصد کے حساب سے 7لاکھ صارفین بجلی چوری میں ملوث ہیں جبکہ الزام پھر بھی خیبر پختونخوا کو دیا جاتا ہے۔ یہ بھی انتہائی افسوس کی بات ہے کہ حال ہی میں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میٹنگز میں بتایا گیا کہ وطن عزیز میں بجلی صارفین کی تعداد 2کروڑ 60لاکھ ہے مگر واپڈا ویب سائٹس کے مطابق2009 میں واپڈا صارفین کی تعداد 2کروڑ 75لاکھ تھی اور اگر 7فیصد کے حساب سے اس میں اضافہ ہو تو 2009 کے بعد 2018 میں بجلی صارفین کی تعداد 4کروڑ 30لاکھ کے قریب بنتی ہے چونکہ میرا تعلق صوابی سے ہے اور یہاں حد سے زیادہ لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، ایکسیئن کہتے ہیں کہ ہم تو شیڈول کی لوڈشیڈنگ کرتے ہیں مگر وزیراعظم باربار کہتے ہیں کہ کوئی لوڈشیڈنگ نہیں ہوتی۔ بہرحال پتہ چلا بجلی چوری اور لائن لاسسز کو قابو کرنے کیلئے لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔ صوابی جہاں پر بجلی صارفین کی تعداد 178572 ہے یہاں پر بجلی چوری پر پردہ ڈالنے کیلئے مارچ کے مہینے کے بل میں صارفین پر بلاجواز 27لاکھ یو نٹ ڈالے گئے اور یہ ان صارفین پر ہے جنہوں نے چوری نہیں کی۔ واپڈا کا عملہ اپنی نااہلی پر پردہ ڈالنے کیلئے چوری کا بوجھ ان صارفین پر ڈالتے ہیں جن کا چوری سے دور دور کا تعلق نہیںہوتا۔

اداریہ