Daily Mashriq


ہوشیار' خبردار

ہوشیار' خبردار

آج پھر یکم اپریل ہے اور عین ممکن ہے کہ میری طرح کچھ اور قلم کار بھی اس حوالے سے اپنے قارئین کو اس دن ہونے والی اس تحریک سے آپ کو با خبر رکھنے کی کوشش کرنے کے لئے اپنی تحریروں کے ذریعے آگہی کا فریضہ ادا کریں۔ مگر بد قسمتی سے ان تمام تر سعی کے باوجود بعض سادہ لوح لوگ اس بدعت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یعنی اپریل فول بن جاتے ہیں۔ اس کی ابتداء کیسے ہوئی اس حوالے سے کئی باتیں مشہور ہیں اور عین ممکن ہے کہ فول یعنی بے وقوف بنانے کا یہ سلسلہ اہل مغرب میں پہلے ہی سے رائج رہا ہو تاہم عالمی سطح پر یکم اپریل کو منانے کی ابتدا کے حوالے سے ایک مضبوط روایت سپین میں مسلمانوں کے زوال کے ساتھ وابستہ کی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ لگ بھگ سات سو برس تک سپین میں شاندار اور کامیاب حکومت کرنے کے بعد بالآخر یہودیوں اور عیسائیوں کی ریشہ دوانیاں اور سازشیں کامیاب ہوئیں۔ حالانکہ مسلمانوں کا سات سو سالہ دور وہ تھا جب یورپ کے دوسرے ملکوں میں جہالت کے اندھیروں کی حکمرانی تھی۔اور وہ جو کہتے ہیں کہ ہر کمالے زوال' یہ مسلمانوں کی بڑی بد قسمتی رہی ہے کہ وہ جہاں جہاں بھی حکمران رہے ابتداء میں تو اپنوں نے اسلامی اصولوں کی پاسداری کی مگر ترقی اور خوشحالی آتے ہی ان کے حکمران عیاشیوں میں پڑ جاتے۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرکے دیکھ لیجئے' مسلمانوں کے عروج و زوال کی داستانیں ایسے ہی واقعات سے بھری پڑی نظر آتی ہیں۔ یہی حال سپین کی مسلم سلطنت کے ساتھ ہوا۔ انتہائی عروج کے بعد سپین کے مسلم حکمران بھی تن آسانی' عیش کوشی اور دیگر خرابیوں اور انسانی کمزوریوں کاشکار ہوتے چلے گئے۔ اقتدار پر ان کی گرفت کمزور ہوتی چلی گئی۔ شراب نوشی' رقص و سرود کی محفلوں کی بہتات نے معاشرتی انحطاط کی صورتحال پیدا کردی۔ دوسری جانب مسلمان دشمن قوتوں نے زور پکڑنا شروع کردیا اور بالآخر یورپی عیسائی حکمرانوں نے سپین پر حملے شروع کردئیے۔ ادھر محلاتی سازشوں نے زور پکڑا اور یوں عیش و عشرت میں پڑے ہوئے مسلمان حکمرانوں کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ عیسائی فوجوں کی یلغار نے مسلمانوں کے خون سے اپنی پیاس بجھائی۔ قتل عام نے عام مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کردیا۔ یا وہ اپنے گھروں میں خوف کے مارے چھپ گئے۔ مگر عیسائیوں نے کسی کو نہیں بخشا۔ انہیں حکم دیاگیا کہ یا تو اسلام چھوڑ کر عیسائیت کے دائرے میں داخل ہو جائو یا پھر جان دے دو۔ بہت سے مسلمان جان کے خوف سے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کردئیے گئے۔ ان میں وہ بھی تھے جو دل سے عیسائی نہیں بنے تھے صرف جان بچانے کی خاطر ظاہری طور پر عیسائی بنے تھے۔ بہت سے ایسے بھی تھے جو کہیں کونوں کھدروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے یہ سوچ کر کہ حالات معمول پر آجائیں گے تو وہ کسی نہ کسی طور سمندر کے راستے فرار ہو جائیں گے۔ عیسائی حکمرانوں کی انٹیلی جنس رپورٹیں بھی یہی تھیں کہ ہزاروں مسلمان اب بھی چھپے ہوئے ہیں۔ یوں ایک منصوبہ بنا یاگیا اور کچھ عرصہ تک خاموش رہنے کے بعد ملک بھر میں اعلان کردیاگیا کہ جو مسلمان ملک سے ہجرت کرنا چاہتے ہیں وہ اپنی کمین گاہوں سے باہر آکر بندر گاہ پہنچ جائیں۔ انہیں کشتیاں فراہم کردی جائیں گی۔ مسلمان عیسائی حکومت کی اس چال کو نہ سمجھ سکے اور وہ جہاں جہاں چھپے بیٹھے تھے آہستہ آہستہ نکل کر مقررہ مقام پر جمع ہونے لگے۔ دوسری جانب حکومتی سازش پر عمل درآمد کی تیاریاں بھی جاری تھیں۔ مقررہ تاریخ کو ہزاروں مسلمان خاندانوں کو بحری بیڑوں اور بڑی بڑی کشتیوں میں سوار کرکے روانہ کردیاگیا اور عین سمندر کے بیچ پہلے سے طے شدہ حکمت عملی کے تحت ان تمام کشتیوں کو ڈبو کر مسلمانوں کے اجتماعی قتل (غرقابی) کو عملی جامہ پہنا دیاگیا۔ یہ یکم اپریل کا دن تھا اور اس سانحے کے بعد یورپی اقوام نے اسے مسلمانوں کو اجتماعی طور پر بے وقوف بنانے کی تاریخ کے طور پر اپریل فول کا نام دے کر ہر سال اس کی یاد منانے کے لئے اپنے معاشروں میں لوگوں کو مختلف طریقوں سے بے وقوف بنانے کی رسم کا آغاز کیا جسے اپریل فول کہا جاتا ہے۔

میں ڈوبنے کا گلہ ناخدا سے کیا کرتا

کہ چھید میں نے کیا تھا خود اپنی نائو میں

اگر سپین میں سات سو برس تک شاندار حکومت کرنے کے بعد مسلمان حکمران خواب غفلت کا شکار نہ ہوتے تو ان کے ساتھ ایسا سلوک کیونکر ہوتا ' چونکہ اس کے بعد یورپی اقوام جو تاریک دور سے باہر نکل آئے تھے اور انہوں نے ہر طرف علم کی شمع روشن کرنی شروع کردی تھی اور مسلمانوں سے حاصل کئے جانے والے علم کی بدولت ترقی کی منازل طے کرنا اپنا وتیرہ بنا لیا تھا۔ مختلف ایجادات سے انہوں نے دنیا بھر کو اپنا مطیع بنانا شروع کردیا تھا اس لئے آہستہ آہستہ وہ دنیا بھر میں حکمران بنتے چلے گئے۔ یوں یہ اپریل فول ان کی زیر نگرانی جہاں جہاں ان کی حکومتیں تھیں منایا جانے لگا' بر صغیر میں بھی یہی کیفیت رہی اس لئے ہم بھی بلا سوچے سمجھے اس اپریل فول کاشکار بنتے چلے گئے۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ یہ تو ہم مسلمانوں کی توہین ہے۔ مگر اس بھیڑ چال میں ہم بعض اوقات ایسی حرکتیں کر بیٹھتے ہیں جن سے دوسروں کا بہت نقصان ہو جاتا ہے' کیا ہم اس بارے میں سنجیدگی سے کبھی سوچیں گے؟

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

متعلقہ خبریں