Daily Mashriq

وزیر اعظم کا دورہ سندھ

وزیر اعظم کا دورہ سندھ

گھوٹکی اور کراچی کے دورے کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر کرپشن کو موضوع بنایا اور کہا کہ قومیں غریب نہیں ہوتیں‘ کرپشن ملک اور قوم کو غریب بنا دیتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ دنیا میں ہماری مثال دی جاتی تھی‘ لوگ ہمارے ترقی کرنے کے ماڈلز کو اپناتے تھے لیکن آج پاکستان پر تاریخی قرضہ چڑھا ہواہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو ملک کا سب سے خوشحال صوبہ ہونا چاہئے کیونکہ یہ پاکستان کا معاشی دارالحکومت ہے۔ اس صوبے سے گیس نکلتی ہے لیکن اس کے باوجود یہاں سب سے زیادہ غربت اورکرپشن ہے۔ 18ویں ترمیم کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ اس ترمیم کے بعد مرکز دیوالیہ ہوگیا ہے اور حالت یہ ہے کہ وفاقی حکومت کے پاس ساڑھے 5ہزار ارب روپے ہیں جس میں سے 2 ہزار ارب قرض اور باقی ساڑھے تین ہزار ارب میں سے ڈھائی ہزار ارب صوبوں کو‘ 1700 ارب دفاع کے لئے دینے کے بعد صورتحال یہ ہو جاتی ہے کہ مرکز 700ارب کے خسارے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام پر خرچ ہونے والا پیسہ منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر چلا جاتا ہے۔ انہوں نے سابقہ حکمران دو جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور لیگ (ن) کے رہنمائوں کے نام لے کر کہا کہ نواز اور زرداری قوم کا پیسہ واپس کریں۔ اس کے بغیر وہ کچھ بھی کرلیں میں انہیں چھوڑوں گا نہیں۔ گورنر ہائوس کراچی میں اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے کراچی کے لئے 162 ارب روپے پیکج کااعلان کیا۔ اس پیکج میں مجموعی طور پر 18منصوبے تجویز کئے گئے ہیں جن میں پبلک ٹرانسپورٹ کے 10منصوبے‘ سیوریج اور پانی کے منصوبے شامل ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی پورے پاکستان کے لئے ضروری ہے۔ کراچی کا ماسٹر پلان بڑا مسئلہ ہے۔ شہر پھیلتا جا رہا ہے‘ ہم چاہتے ہیں کہ شہر قائد کو پھیلنے سے روکا جائے اور یہاں کثیر المنزلہ عمارتیں بنائی جائیں۔ جہاں تک کرپشن کا تعلق ہے اگر اس کے بارے میں تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کرپشن آج یا چند برس کی بات نہیں ہے بلکہ اس کے ڈانڈے کئی دہائیاں پہلے کے ادوار میں پیوست نظر آتے ہیں تاہم کرپشن کو انجینئرڈ بنیاد ضیاء الحق کے دور اور خاص طور پر افغانستان میں انقلاب ثور کے نتیجے میں چھیڑی جانے والی جنگ کے بعد فراہم کی گئی۔ پہلے ضیاء الحق نے اپنی نام نہاد مجلس شوریٰ کے ارکان کو ترقیاتی فنڈز کی فراہمی سے ارکان پارلیمنٹ کو مبینہ طورپر کرپشن کاعادی بنایا( یہ سلسلہ ابھی تک چل رہاہے) اور پھر ’’ جہاد افغانستان‘‘ کی وجہ سے مختلف طبقات کرپشن میں ملوث ہوتے چلے گئے۔ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت اس لئے نہیں کہ اس حوالے سے پاکستان کے عوام بہت کچھ پہلے ہی جانتے ہیں اور پھر یہ ناسور کی صورت اختیار کرتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ غیر ملکی قرضے کو بھی عوام کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کرنے کی بجائے بقول وزیر اعظم منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک بنکوں میں منتقل کئے جاتے رہے جہاں ان سے جائیدادیں بنائی گئیں یا کاروبار میں لگایا جاتا رہا۔ اور لگ بھگ چار سو افراد کاتذکرہ آف شور کمپنیوں کے حوالے سے وکی لیکس کے ذریعے سامنے آیا مگر نزلہ صرف چند افراد پرگرا اور باقی افراد کے خلاف آج تک کوئی کیس سامنے نہیں آسکا۔ جن کے خلاف مقدمات چلائے گئے یا چلائے جا رہے ہیں ان کو یقینا اپنے ’’جرم‘‘ کی سزا بھگتنی چاہئے اور اس حوالے سے عدالتوں کے ذریعے ہی انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے معاملات کو منطقی انجام تک پہنچنا لازمی ہے نہ کہ میڈیا ٹرائل کے ذریعے کسی کو مبینہ انتقام کانشانہ بنایا جائے۔ 18 ویں ترمیم کو تنقید کانشانہ بنانے کے لئے ایک مخصوص لابی عرصے سے سرگرم ہے اور وزیر اعظم نے اس حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیاہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ انہیں 18ویں ترمیم کے حوالے سے خاصی منفی بریفنگ دی گئی ہے جبکہ خصوصاً چھوٹے صوبے اب بھی اس آئینی ترمیم سے پوری طرح مطمئن نہیں ہیں اور مزید حقوق کے لئے کوشاں ہیں۔ ایسی صورت میں 18 ویں ترمیم کی وجہ سے مرکز کے دیوالیہ ہونے کی بات کسی بھی لحاظ سے چھوٹے صوبوں کے لئے قابل قبول نہیں ہوسکتی نہ ہی وہ اس ترمیم کو رول بیک کرنے کے لئے تیار ہوں گے‘ کیونکہ اس ترمیم کا مقصد صرف مالیاتی حقوق کی بازیافت ہی نہیں تھا بلکہ آئین کے تحت دی گئی اس ضمانت کے مطابق صوبائی خود مختاری کا حصول تھا جس کی جانب محولہ ترمیم ایک قدم قرار دیا جاسکتا ہے اور اب جو اس ترمیم کے خلاف باتیں کی جا رہی ہیں تواس کے پیچھے اس سوچ کو قرار دیا جا رہا ہے کہ ایک خاص لابی ملک میں پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام رائج کرنے پر مصر ہے تاکہ صوبائی خود مختاری کو کنٹرول کرنے کی جانب بڑھا جائے۔ اس حوالے سے چھوٹے صوبوں کے اندر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے کی افواہوں پر مسلسل آوازیں اٹھائی جارہی ہیں۔ اگرچہ موجودہ حکومت محولہ ترمیم کو ختم کرنے کے خدشات کو رد کر رہی ہے مگر خدشات کاخاتمہ کیوں نہیں ہو رہا ہے یہ سوچنے کی بات ہے۔

متعلقہ خبریں