Daily Mashriq


مشک آنست کہ خود ببوید

مشک آنست کہ خود ببوید

بھارت کے ایک سابق جنرل کے اس بیان کو اگر اعتراف شکست قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ہائبرڈ وار میں پاک فوج نے بھارت کو پچھاڑ کر رکھ دیا ہے، بھارت کے سابق(ریٹائرڈ) لیفٹیننٹ جنرل عطا حسنین نے برطانوی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک سٹڈیز سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) نے ہمیں سکھایا کہ معلومات کی فراہمی کیا ہوتی ہے، بھارت کو اطلاعات کے شعبے میں آئی ایس پی آر نے پچھاڑ دیا اور پاکستان اطلاعات کی جنگ پورے طریقے سے جیت چکا ہے ، بھارتی سابق جنرل نے کہا کہ اگر کسی نے سکھایا کہ اطلاعات کے ساتھ کیسے کھیلنا ہے تو وہ آئی ایس پی آر ہے، جس نے کمال حکمت عملی سے نہ صرف کشمیریوں کو بھارتی فوج سے متنفر کیا بلکہ بھارتی قوم کو بھی فوج سے دور کردیا۔کشمیرمیں اٹھتے جنازے،عسکریت پسندی کے عروج کی وجہ ہیں اور آزادی پورے کشمیر میں گونج رہی ہے، طاقت کا استعمال اس کا حل نہیں۔اگر شام ،عراق، افغانستان اور پاکستان میں دھماکے ہوسکتے ہیں تو کشمیر میں پلوامہ واقعہ کا بھی قوی امکان تھا۔ انہوںنے کہا کہ روایتی جنگ کا تصورختم ہوچکا، یہ ہائبرڈ وار کا دور ہے اور ہائبرڈ وار میں میڈیا بڑا ہتھیار ہوتا ہے، سابق بھارتی جنرل نے کہا کہ روایتی جنگ سے فتح نہیں ملتی اور امریکہ نے سیکھنے میں 18سال لگا دیئے ، پاکستان نے معلومات میں انتہائی پیشہ ورانہ مہارت دکھا کر بھارت کو پیچھے چھوڑ دیا۔ بھارتی سابق جنرل کے اس اعتراف کو جہاں فارسی کے اس مقولے سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے کہ خوشبووہ جو خود اپنااظہارکرے نہ کہ کسی عطار کے کشید کردہ عطر کا سہارا لیا جائے۔ اور پھر دشمن کی طرف سے ہماری افواج کے ادارے آئی ایس پی آر کی تعریف یقیناً پوری پاکستانی قوم کیلئے باعث اطمینان جبکہ متعلقہ ادارے کیلئے قابل فخر ہونا چاہیئے، اس میں قطعاً شک نہیں کہ آئی ایس پی آر نے نہایت پیشہ وارانہ انداز میں بھارت کو پروپیگنڈے کے محاذ پر بھی شکست دیدی ہے کیونکہ ہماری بہادرافواج نے بھارتی فضائیہ کے حملے کو ناکام اور بھارتی بحریہ کی پاکستان کے سمندری حدود میں درآنے کے خواب کو چکنا چور کر کے جہاں جنگی میدان میں ہز یمت سے دوچار کیا تھا آئی ایس پی آر نے فکری محاذ پر اسے شکست فاش دیکر اس کے غرور کو خاک میں ملادیا۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج بھارتی جنرل بھی پاکستان کی کارکردگی کی تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔دشمن کے اس اعتراف شکست پر پاکستانی قوم کو اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہیئے۔

ریسکیو1122کے دائرے میں توسیع

خیبر پختونخواحکومت نے ریسکیوکے ادارے 1122کا دائرہ صوبے کے تمام اضلاع تک وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، اس ضمن میں صوبے کے دیگر اضلاع صوابی،دیر، مانسہرہ،بنوں،کوہاٹ، ہری پور،چترال،چارسدہ ،ہنگو،کرک وغیرہ میں24سٹیشنز کے قیام پر کام جاری ہے ،محکمہ بحالی وآبادکاری نے چار سالہ منصوبہ تیار کیا ہے جس پر4ارب 50کروڑ روپے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے ، ریسکیو1122کی کارکردگی کا جہاں تک تعلق ہے اس ادارے کا قیام پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سب سے پہلے کیا گیا تاہم اس کی فعالیت اور خدمت خلق کے کردار کو مد نظر رکھتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت نے بھی اسے شروع کیا اور آج تک عوام اس کی کارکردگی سے بہت مطمئن ہیں ،کسی بھی ایمر جنسی کی صورت میں ادارے کے چاق وچوبند اہلکار کم سے کم وقت میں ضرورت مند افراد کو ریسکیو کرنے ، طبی امداد کی فوری فراہمی اور ازاں بعد متعلقہ ہسپتال تک پہنچانے میں جس چابکدستی کا مظاہرہ کرتے ہیں اس کی تعریف کئے بنا نہیں رہا جا سکتا ، اب جو صوبائی حکومت نے اس ادارے کو تو سیع دیکر اسے دیگر اضلاع تک پہنچانے کی منصوبہ بندی کی ہے تو یہ ایک اہم قدم ہے ، نہ صرف اس ادارے کی شاخیں تمام اضلاع میں قائم کرنے میں تعجیل کا مظاہرہ کیا جائے بلکہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں اس کے مزید دفاتر بھی قائم کر کے شہریوں کو اپنے قریبی دفاتر میں تعینات ریسکیو عملے کو فوری طور پرپہنچنے کی سہولت سے بہرہ ور کرنے جبکہ ضروری سہولیات میں بھی اضافہ کیا جائے ۔ صوبائی حکومت نے اس حوالے سے جو منصوبہ بندی کی ہے وہ یقیناً قابل ستائش ہے اس ادارے کو تمام اضلاع بشمول قبائلی اضلاع تک توسیع دینے پر کل اخراجات کا تخمینہ 4ارب 50کروڑروپے لگایا جا رہا ہے جو اس ادارے کی اہمیت اور بہترین کارکردگی کے حوالے سے ضروری اخراجات کے زمرے میں آتا ہے ، تاہم توسیع کا یہ کام 2022-23ء تک مکمل کرنے پر بھی نظر ثانی کر کے جس قدر جلد ممکن ہو اس کام کو تکمیل تک پہنچانے پر توجہ دی جائے ، صوبائی حکومت کے اس منصوبے پر اظہار اطمینان کئے بناء ہمارے لئے اور کوئی چارہ نظر نہیں آتا کیونکہ یہ عوام کی حقیقی خدمت کیلئے اٹھایا جانے والا قدم ہے جس کی بہر حال تحسین کی جانی چاہیئے۔

متعلقہ خبریں