Daily Mashriq

پختون قوم کا المیہ اور موجودہ حالات

پختون قوم کا المیہ اور موجودہ حالات

اچھا ہوا کہ آخرکار امریکہ اور طالبان میں مذاکرات کامیاب ہوئے اور اخبارات ومیڈیا (الیکٹرانک) کے ذریعے جو بڑی خبریں سامنے آئی ہیں، ان کے مطابق امریکہ اور یورپ کی متحدہ افواج (نیٹو) سترہ برس کی تھکا دینے والی جنگ افغانوں کو ناقابل تلافی جانی ومالی نقصان سے دوچار کرنے کے بعد ختم ہونے والی ہے۔ اٹھارہ ماہ بعد امریکی ونیٹو افواج واپس چلی جائیں گی۔ افغانستان پر 9/11 کے بعد حملہ آور افواج نے کیا کیا اور افغانیوں کیساتھ ساتھ پاکستانیوں، عالم اسلام اور امریکہ ویورپ اور ایک لحاظ سے ساری دنیا پر جو گزری سو گزری لیکن اب اس کے بعد اس خطے میں امن قائم ہو جائے تو ہم یہی سمجھیں گے کہ دیرآید درست آید۔۔ اور بقول فیض

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراں

ہمارے اشک تیری عاقبت سنوار چلے

لیکن مجھے اب اگر غم ہے تو پختونوں کا ہے۔ ویسے تو اس جنگ سے افغانستان کے بعد اگر کوئی ملک سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے تو وہ پاکستان ہے لیکن پاکستان میں سب سے زیادہ پختونوں کا علاقہ خواہ وہ خیبر پختونخوا ہے یا بلوچستان کے پختون وہزارہ قبائل۔ بہرحال بحیثیت مجموعی سب سے بڑا نقصان پاکستان کا ہوا ہے۔ امریکہ کو بھی جانی نقصان کے علاوہ کھربوں ڈالر کا مالی نقصان جنگ کے اخراجات کی صورت میں برداشت کرنا پڑا ہے۔ انسان اور انسانی تاریخ بھی کیا عجائبات سے بھری پڑی ہے۔ زمین پر اشرف المخلوق ہوکر اور عقل وشعور کی اعلیٰ ترین نعمت سے سرفرا ز ہونے کے باوجود جتنی بھی جنگیں لڑی ہیں وہ اپنی ہی نوع یعنی انسانوں نے انسانوں کیخلاف لڑی ہیں اور پھر آخرکار مذاکرات اور گفت وشنید کے ذریعے وہ مسائل حل کئے ہیں جن کیلئے جنگیں لڑی تھیں۔ پہلی جنگ عظیم سے لیکر آج تک دنیا میں جتنی بھی جنگیں لڑی گئی ہیں شاید ہی کوئی اور جنگ اتنے طویل عرصے پر محیط رہی ہو۔ سترہ برسوں میں ایک نسل جوان ہو جاتی ہے اور یوں بہت کچھ تبدیل ہو جاتا ہے۔ کاش حضرت انسان انبیاء کرام کی تعلیمات کو پیش نظر رکھتا تو جنگوں کی نوبت ہی نہ آتی اور تب یہ دنیا کتنی حسین ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے آخری نبیؐ نے فرمایا ’’بنی نوع انسان اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ساری دنیا اپنی اشرف مخلوق کیلئے بطور گھر نعمتوں سے بھری تھی اور انسان کو اپنے نائب کی حیثیت سے اس میں ایک گھرانے کے افراد کی طرح رہنے کی ہدایت دی تھی لیکن، وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا۔ کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا اس وقت جس بات کی شدت کیساتھ ضرورت محسوس کی جارہی ہے وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امریکہ اور نیٹو افواج کے انخلا کے مابعد تعلقات وحالات ہیں لیکن سب سے پہلے افغانستان کی تعمیر وترقی اس لئے کہ یہ قوم گزشتہ چار ساڑھے چار عشروں سے جن خون چکاں حالات سے گزری ہے اُس نے افغانستان اور خیبر پختونخوا میں ہماری ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کو ذہنی ونفسیاتی امراض میں مبتلا کر کے ایک طرح سے زندہ درگور کردیا ہے۔ اسلئے پاکستان اورافغانستان کے سیاستدان، زعماء اور بالخصوص حکمران، ملکر امریکہ اور یورپ سے تعمیر افغانستان کیلئے مارشل پلان کی منظوری کرائیں تاکہ افغانستان میں انفراسٹرکچر کی بحالی ہو اور نئی نسل جو پاکستان بھارت اور یورپ میں پڑھ کر جدید تعلیم سے آراستہ ہو چکی ہے اپنے ملک کی تعمیر میں کردار ادا کرے لیکن اس کیساتھ جو سب سے اہم ایشو اور موضوع یا مسئلہ ہے وہ وہی ہے جہاں سے افغانستان میں آپس کی کشمکش شروع ہوئی تھی۔ 1970ء کے عشرے میں سرداؤد اپنے چچا زاد اور برادر ان لاء ظاہر شاہ کیخلاف انقلاب نہ لاتے اور نور محمد ترکئی‘ حفیظ اللہ آمین‘ ببرک کارمل اور ڈاکٹر محمد نجیب اللہ ایک دوسرے کیخلاف انقلاب کے نام پر نہ لڑتے تو بیرونی قوتوں کا افغانستان میں داخلہ کس طرح ممکن ہو سکتا تھا اور روس کے نکلنے کے بعد ایک دفعہ پھر افغانوں کے درمیان جو خانہ جنگی شروع ہوئی اس کا نتیجہ اس طویل جنگ کی صورت میں سامنے آیا اور اب ایک دفعہ پھر جب ایک طرف ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ افغانستان کی سرزمین نے اپنی تاریخ کو صحیح معنوں میں ایک دفعہ پھر دہرایا لیکن ساتھ ہی سنگین خدشات وخطرات لاحق ہیں کہ کہیں افغانستان میں امریکہ کے انخلاء کے بعد سہ بارہ مذہب‘ قومیت اور مفادات کے نام پر کشمکش جنم نہ لے۔

پختونوں کا گزشتہ ایک صدی سے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کے درمیان فکری لحاظ سے سخت اختلافات پیدا ہوچکے ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ پشتون ولی اور اسلام کو ایک دوسرے کے مترادف سمجھا جاتا تھا اور یہ حقیقت بھی ہے کہ پختونوں کے پاس جب اسلام کا پیغام پہنچا تو انہوں نے من حیث القوم اسلام قبول کیا اور پھر آج تک کوئی پختون غیرمسلم نہ رہا۔ یہ غلط فہمی نہ رہے کہ کئی پشتو سیکھ کر بولنے والے تو غیرمسلم ہیں‘ جیسے باڑہ اور تیراہ وغیرہ کی سکھ برادری‘ ظاہر ہے میری پختون سے مراد وہ پختون ہیں جو نسلاً ووراثتاً اباً جداً پختون ہیں لیکن پھر وقت گزرنے کیساتھ یہ وبا بھی افغانستان میں براستہ دریائے آمو درآمد ہوئی کہ پختون دہرئیے بن گئے۔ جس کی وجہ سے افغانستان میں کشمکش برپا ہوئی۔ یہ کشمکش ابتداً اسی طرح تعلیمی اداروں اور حکومتی محکموں اور شعبوں میں علمی وفکری رہی اور بعد میں سیاسی رہنماؤں کے ذریعے سیاسی گروپوں اور جماعتوں کی شکل میں عوام کے سامنے آئی اور افغانستان کے عوام مذہب پرستی اور لادینیت کے دو واضح گروہوں کی صورت میں ایک دوسرے کے سامنے آن کھڑے ہوئے۔ افغانستان میں ملا کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں‘ خواہ یہ ملا عمر ہو یا ملا عبدالغنی برادر‘ بہرحال ہر زمانہ میں ان کا کردار مسلم رہا ہے۔ اقبال نے اس نکتے کو یوں بیان فرمایا ہے

(باقی صفحہ 7)

متعلقہ خبریں