Daily Mashriq


قبرستان بھی قبضہ مافیا سے محفوظ نہیں

قبرستان بھی قبضہ مافیا سے محفوظ نہیں

مادہ پرستی نے انسانوں کے دلوں کو پتھر بنا دیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان میں قبضہ مافیا قبرستان کی زمینوں پر قبضہ کرکے ان پر مکانات، پلازے، دکانیں اور فیکٹریاں تعمیر کر رہے ہیں اور یا اس کو دیگر اور کسی مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں، نتیجتاً پاکستان میں قبرستان کی زمینوں میں کمی واقع ہو رہی ہے اور لوگوں کو اپنے عزیز اور اقرباء کو دفنانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ قبرستان کی زمینوں پر قبضہ کرنے کا سب سے بڑا مسئلہ، سندھ کے شہری علاقوں اور خیبر پختونخوا میں ہے۔ اگر ہم پاکستان میں شرح اموات کا تجزیہ کریں تو ایک ہزار میں7.5 کے قریب لوگ اس دارفانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔ بالفاظ دیگر پاکستان میں سالانہ15لاکھ 75ہزار لوگ انتقال کر جاتے ہیں یا ہمیں سالانہ16لاکھ کے قریب نئے قبروں کی ضرورت ہوتی ہے جس کیلئے ہمیں 1200کنال زمین درکار ہوتی ہے مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ وطن عزیز میں سرکاری زمینوں اور قبرستانوں پر لینڈمافیا نے مکانات، پلازے اور دکانیں تعمیر کر لی ہیں یا ان کو دوسرے تجارتی مقاصد یا ذاتی کاموں کیلئے بروئے کار لاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں آئے دن مردوں کو دفنانے کیلئے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو اس وقت پاکستان کا کل رقبہ 8لاکھ مربع کلومیٹر ہے جبکہ اس کے برعکس سارا پاکستان یعنی سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب2 یا ڈھائی لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر آباد ہے اور6لاکھ مربع کلومیٹر کے قریب رقبہ یا تو بنجر ہے اور یا خالی پڑا ہوا ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ پاکستان میں مزید شہر، قصبے اور گاؤں آباد کئے جائیں مگر افسوس کی بات ہے کہ اسی دولاکھ مربع کلو میٹر زمین جس پر سارا پاکستان پڑا ہوا ہے اس پر مزید بوجھ بڑھتا اور ڈالا جا رہا ہے۔ نہ تو نئے شہر آباد ہو رہے ہیں اور نہ دیہاتی علاقوں میں مزید گنجائش ہے۔ سال2012 میں پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا کے تمام ڈپٹی کمشنروں کو سختی سے حکم دیا تھا کہ ان کے اضلاع میں جتنے قبرستانوں کی زمینوں پر لینڈمافیا نے قبضہ کیا ہے اس کو واگزار کیا جائے اور یا توہین عدالت کیلئے تیار ہوجائیں۔ پشاور ہائی کورٹ کے اس حکم کی روشنی میں پشاور ضلع میں 442کنال قبرستان کی زمین لینڈمافیا سے واپس لے لی گئی۔ اسی طرح مانسہرہ ڈی سی او نے عدالت کو مندرجہ بالا حکم کی روشنی میں اطلاع دی تھی کہ47کنال میں32 کنال واگزار ہو گئی ہے اور لینڈ مافیا سے مزید زمین حاصل کرنے کیلئے کارروائی جاری ہے۔ مردان کے ڈی سی او نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے عدالت کو اطلاع دی تھی کہ مردان ضلع میں قبرستان کی 119کنال زمین واگزار ہو گئی ہے اور مزید زمین کو لینڈ مافیا سے آزاد کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔ اگر ہم مختلف صوبوں میں اضلاع کا تجزیہ کریں تو سندھ میں اضلاع کی تعداد29، گلگت بلتستان میں اضلاع کی تعداد9، سابقہ فاٹا میں ایجنسیوں کی تعداد13، بلوچستان میں اضلاع کی تعداد 34، پنجاب میں اضلاع کی تعداد36 اور خیبر پختونخوا میں اضلاع کی تعداد 24ہیں۔ میں اس کالم کے توسط سے سپریم کورٹ آف پاکستان، متعلقہ صوبوں کے ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ وطن عزیز کے مندرجہ بالا اضلاع کے ڈپٹی کمشنر حضرات کو ہدایت کریں کہ اپنے اپنے ضلع میں سرکاری زمینوں اور قبرستان کی زمینوں کو لینڈ مافیا سے آزاد کرائیں اور ان زمینوں پر قبضہ کرنے والے مافیا کو عدالت کی طرف سے سخت سے سخت سزائیں دی جائیں۔ قبرستان کے زمینوں پر غیرقانونی پلازوں، مکانات اور دکانوں کو فی الفور گرا کر لینڈ مافیا سے آزاد کرائیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان لینڈ مافیا میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے بڑے بڑے سورما بھی شامل ہیں جو اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں مگر میں حکومت سے استدعا کرتا ہوں کہ سب کیخلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہئے۔ قبرستان کسی علاقے اور خطے کا آثار قدیمہ ہوتا ہے اور آثار قدیمہ کی حفاظت کرنا حکومت کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے کیونکہ اس میں ہمارے عزیزوں اور رشتہ داروں کی قبریں ہوتی ہیں اور ہمیں ان قبروں کے تقدس کا خیال رکھنا چاہئے۔ میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے صوبائی اسمبلیوں کے سپیکر حضرات سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ قبرستان کے زمینوں پر قبضہ مافیا کیخلاف کارروائی کیلئے اور ان کو سخت سزائیں دینے کیلئے قوانیں منظور کروائیں۔ پاکستان میں کئی قبرستانوں اور مقبروں کے نام ورلڈ بک آف گینز میں درج ہے اور اگر اس پر اسی طرح لینڈ مافیا کا قبضہ جاری رہا تو ہم اپنے قدیم ورثے سے محروم ہو جائیں گے۔ اسلام میں قبروں پر جانے اور اس سے سبق سیکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور ہمیں تلقین کی گئی ہے کہ ایک دن ہمیں بھی اس منوں مٹی تلے جانا ہے اور موت کا کڑوا گھونٹ پینا ہے۔مگر قبضہ مافیا کے سنگدل اپنی آخرت سے غافل قبرستانوں کی زمینوں پر بھی تعمیرات کر رہے ہیں اس حقیقت سے بے پرواہ کہ ایک دن انہوں نے بھی اس جگہ دوگز زمین کے اندر جانا ہے۔ جس تیزی سے قبرستان سکڑ رہے ہیں خدشہ ہے کہ مستقبل قریب میں دفنانے کے لیے جگہ بھی میسر نہ ہو اور لواحقین اپنے پیاروں کی میتوںکو لیئے کئی کئی دن قبر کے لئے جگہ تلاش کرتے پھر رہے ہوں گے۔ لہٰذاحکومت کو فوراً اس سلسلے میں سخت اقدامات اٹھانے چاہیئے۔

متعلقہ خبریں