احتساب میں سنجیدگی کے تقاضے

احتساب میں سنجیدگی کے تقاضے

تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو اپنے خوابوں کی تعبیر گردانتے ہوئے نئے پاکستان کی جو نوید دی ہے اور ملک کے تمام چھوٹے بڑے بدعنوان عناصر کے خلاف جدوجہد کے جس عزم کااظہار کیا ہے واقعی اس جدوجہد کے لئے بڑے عزم و حوصلے اور تدبر کی ضرورت ہے۔ عمران خان نے پاکستان کے عوام کو بد عنوانوں کے احتساب کا جو خواب دکھایا ہے ابھی اس ضمن میں جذباتی کیفیات کے اثرات باقی ہیں۔ احتساب سے کسی کو انکار نہیں اور یہ پورے پاکستان کے عوام کی دلی خواہش اور آواز ہے جس میں تحریک انصاف کے کارکنوں سے لے کر مسلم لیگ (ن) کے کارکنان بھی اس کے باوجود شامل ہوں گے کہ ان کے لیڈر کو نا اہلی کی سزا ملی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ احتساب کا عمل ہی ملک و قوم کے مسائل کا حل اور ملک میں مضبوط و مستحکم حکومت کے قیام' پالیسیوں کے تسلسل کی بنیاد اور ملکی ترقی کا ضامن ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے۔ اگر کچھ عناصر کو بلی کے گلے میں گھنٹی کے باندھے جانے کا دعویٰ ہے یا وہ اس کا تاثر دے رہے ہیں تو وہ اس میں وقتی طور پر حق بجانب ہیں اور اس وقت تک ان کے موقف کو درست تسلیم کیا جانا چاہئے جب تک اس گھنٹی کی آواز سنائی دیتی رہے گی۔ تحریک انصاف کے قائد نے جن جن عناصر کے احتساب کا عندیہ دیا ہے ان کا احتساب ہوتا ہے یا نہیں چونکہ اس حد تک عمران خان اس لئے مکلف نہیں کہ ان کے پاس ملکی سطح پر قوت نافذہ نہیں لیکن ان کے دعوے کو اگر خیبر پختونخوا کی حد تک پرکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کی جماعت کی حکومت میں صوبائی احتساب کمیشن لولی لنگڑی ہے اور اس کے کھاتے میں احتساب کا کوئی ایک بھی قابل ذکر مقدمہ نہیں۔ خیبر پختونخوا میں اگر قابل ذکر نوعیت کے احتساب کی نظیر قائم کی جاتی تو اس امر کی بجا طور پر توقع کی جاسکتی تھی کہ وہ ملکی سطح پر بھی احتساب کے عمل کی قیادت کے اہل ہیں۔ خود ان کی حکومت میں قومی وطن پارٹی کے وزراء کو پہلی مرتبہ جن الزامات کے تحت برطرف کیا گیا تھا اور بدعنوانی کے جو الزامات لگائے گئے تھے ان کیخلاف عدالتوں میں ریفرنس بھیجنے اور ان کی بدعنوانیوں کی صوبائی احتساب کمیشن سے چھان بین کجا الٹا ایک سابق صوبائی وزیر جب اپنے اوپر الزامات پر عدالت گئے تو اس کا دفاع نہ کیا جاسکا۔ بنا بریں احتساب کا نعرہ تو دل خوش کن ضرور ہے اور یہ عوام کے دلوں کی آواز بھی ہے مگر اس کے لئے جس جدوجہد اور عملی کردار کا خیبر پختونخوا میں مظاہرہ کرکے مثال قائم کرنے کی ضرورت تھی وہ دکھائی نہیں دی۔ تحریک انصاف کے قائد نے جن چنیدہ عناصر کا نام لیا ہے اگر ان کے خلاف وہ عدالتوں میں مقدمات لے کر جاتے ہیں اور عملی طور پر جو بن پڑتا ہے وہ کر گزرتے ہیں تو پوری قوم ان کی ہم آواز ہوگی۔ بہتر ہوگا کہ وہ ابتداء خیبر پختونخوا سے کریں۔ بلا شبہ اس وقت ملک میں احتساب کے لئے فضا ہموار ہے۔ ہمارے تئیں کسی خاندان اور کسی فرد کے احتساب تک احتساب کا عمل محدود نہیں ہونا چاہیئے اس عمل کو آگے بڑھنا چاہیئے ۔ سیاستدانوں اور اہل ثروت افراد کا احتساب خاص طور پر ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ ان عناصر نے کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی جگہ کوئی نہ کوئی ایسی سرگرمی ضرور کی ہوگی جو کاروبار اور صنعت میں ہر پاکستانی شہری کو میسر نہیں۔ موجودہ صورتحال میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کے صادق ہونے میں کلام کی گنجائش نہیں جنہوں نے اس وقت فرما یا تھا جب کاروبار وصنعت کی اس قدر وسعت پذیری کا تصور کم ہی تھا آپ کا قول ہے کہ ہر بڑے کاروبار کے پس پشت کسی نہ کسی دور میں بد عنوانی اور اختیارات کا غلط استعمال ضرور ہوا کرتا ہے ۔ آج دیکھا جائے تو اس قول کا اطلاق بڑے کاروبارپر ہی نہیں چھوٹے اور اوسط درجے کے کاروبار میں بھی ایسی سرگرمی کا سراغ نکل آتا ہے جس کے بل بوتے پر کاروبار شروع کیا گیا ہوتا ہے یا پھر اسے وسعت دی جاتی ہے ۔ وطن عزیز میں اگر احتساب کا باب وزیر اعظم کے خاندان یا عمران خان پر بند ہو گا تو یہ ہماری بڑی بد قسمتی ہوگی اس عمل کا دائرہ کار بڑے بڑے سیاستدانوںصنعت کاروں اور ہر قسم کے کاروبار سے منسلک افراد تک اور ہر سطح تک بڑھا یا جانا چاہیئے یہاں تک کہ سرکاری ملازمین کی بھی مانیٹرنگ ہونی چاہیئے کہ کون اپنی مالی حیثیت سے بڑھ کر زندگی گزارتا ہے اور اس کا اضافی ذریعہ آمدن کیا ہے ۔ احتساب اور کرپشن کی مکمل روک تھام ہی اس ملک کی دولت کی لوٹ مار کا باعث بن سکتاہے۔ وطن عزیز کو بد عنوانی سے پاک کرنا اور احتساب کاکام صرف اداروں اور افراد کا نہیں پوری قوم کی من حیث المجموع ذمہ داری ہے۔ جب تک اس ذمہ داری کا کما حقہ ادراک نہیں ہوگا اس وقت تک ملک میں حقیقی احتساب کے خواب کا شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہوگا۔تحریک انصاف کے چیئر مین اگر احتساب عمل میں سنجیدہ ہیں تو انہیں اپنی صفوں سے لے کر ہر سطح تک ان عناصر کے خلاف یکساں موقف اور طرز عمل اپنانا ہوگا اور احتساب کی قیمت بھی ادا کرنا ہوگی۔ اگر وہ قیمت اداکرنے پر تیار ہوتے ہیں اور پورے عزم کے ساتھ مصلحت اور سیاسی مشکلات کو ایک طرف رکھتے ہوئے احتساب کی جدوجہد کرتے ہیں تو قوم کا ان کی آواز پر لبیک نہ کہنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ قوم اس امر کی ضرور منتظر ہوگی کہ احتساب کا جس قسم کا تذکرہ سٹیج پر ہوتا ہے اس کا عملی مظاہرہ میدان عمل میں بھی نظر آئے۔ اگر عملاً ایسا ہو سکا تو اس کے بعد عوام یہ نہیں دیکھیں گے کہ ان کے آگے آگے کون چل رہاہے وہ اس عمل کو دیکھیں گے جس کا مظاہرہ سامنے آجائے اور عوام از خود ان کے پیچھے چل پڑیں گے۔ مگر احتساب کا کوئی حقیقی علمبردار سامنے آئے تو ۔

اداریہ