عاز مین حج کو روکنے کا نا مناسب اقدام

عاز مین حج کو روکنے کا نا مناسب اقدام

قطرکی سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک سے اپنے تعلقات میں تبدیلی کے باعث قطری شہریوں اور قطر میں مقیم غیر ملکی شہریوں کو حج کی سعادت سے محروم کرنے کی کوشش نا مناسب اور فوری طور پر اس سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے ۔ سعودی عرب کی جانب سے قطر ایئر لائن کے علاوہ کسی بھی دوسری ایئر لائن سے قطری شہریوں کو حج کی سعادت کے حصول کی اجازت اور تعاون کی پیشکش احسن اقدام ہے اور اگر درون خانہ اس ضمن میں سعودی عرب کی جانب سے قطری عاز مین حج کے حوالے سے کوئی مشکلات درپیش ہوں تو اس کے پیش نظر قطرمیں مقیم غیر ملکی شہریوں اور قطر کے باشندوں کو حج کیلئے درخواستیں دینے سے روکنے کے بجائے اس ضمن میں کسی مسلم ملک کے ذریعے سعودی عرب سے بات کرنی چاہیئے تھی۔ سعودی عرب خلیجی ممالک اور قطر کے تعلقات میں اچانک اس قسم کے تعطل اور بعد کا سامنے آنا پورے عالم اسلام کیلئے تکلیف دہ معاملہ ہے چونکہ ان ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت خاصی پیچیدہ اور شرائط ایک دوسرے کیلئے ناقابل قبول بن چکی ہیں اور مستقبل قریب میں اس بحران کے خاتمے کا کوئی راستہ بھی دکھائی نہیں دیتا اس معاملے کو با لائے طاق رکھتے ہوئے عاز مین حج کے معاملے میں دونوں ممالک کو فراخ دلی اور دینی جذبے کا مظاہرہ کرنا چاہیئے ۔ قطر کی جانب سے مکہ اور مدینہ کے شہروں کے بین الاقوامی شہر قرار دینے کا مطالبہ اپنی جگہ لیکن اگر ایران کے بعد قطر سے بھی عاز مین حج پر ان کے ممالک کی جانب سے پابندی لگائی گئی تو مکہ اور مدینہ کو بین الاقوامی قرار دینے کے مطالبے کو اس لئے تقویت حاصل ہوگی کہ یہ دونوں شہرپوری امت مسلمہ کیلئے یکساں نوعیت کے مبارک شہر ہیں جس کی زیارت اور فریضہ حج کی ادائیگی ہر مسلمان کی دلی آرزو ہوتی ہے ۔ قطر اور سعودی عرب کے درمیان جہاں اختلافات کے خاتمے اور تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے مسلم ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے وہاں بطور خاص اس امر کو یقینی بنانے کی سعی ہونی چاہیئے کہ دونوں ممالک کے اختلافات کے باعث عاز مین حج اپنے ارادے کو پورے نہ کر سکیں ۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ سعودی عرب اللہ کے مہمانوں کی آمد کیلئے کوئی نامناسب شرط عائد نہیں کرے گا اور قطر اپنے شہر یوں اور قطر میں مقیم غیر ملکیوں کو اپنی ضد اور انا کی بھینٹ چڑھا نے کی بجائے ان کو ہر ممکن ذریعے سے فریضہ حج کی ادائیگی کی سہولت فراہم کر ے گا ۔
سیاسی بحرانوں کے معیشت پر ناقابل برداشت اثرات
ملک میں سیاسی بحران سے معیشت کامتاثر ہونا فطری امر ہے۔ شریف خاندان کے خلاف مقدمے کی سماعت سے لے کر وزیر اعظم کی نا اہلی کا فیصلہ آنے تک سٹاک ایکسچینج میں مندی اور کاروبار نہ ہونے سے ملکی معیشت اور سرمایہ کاروں کو جو نقصان اٹھانا پڑا اور پورے ملک میں کاروبار جس بری طرح سے متاثر ہوا اس پر درد مندوں کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دھرنا کے ایک سو چھبیس دن، اسلام آباد کا گھیرائو اور پانامہ کیس کے فریقوں میں کس کا موقف اور طرز عمل د رست تھا اور کس کا غلط اس سے قطع نظر ملک میں ہر سیاسی بحران کی قیمت ملک کے عوام اور ملکی معیشت کوادا کرنی پڑتی ہے۔ جب تک اس طرح کی صورتحال رہتی ہے اس وقت تک ہی ملک میں سرمایہ کاری کے لئے غیر یقینی کی صوتحال نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات سالوں محسوس ہوتے ہیں۔ اس صورتحال سے غیر ملکی سرمایہ کاری تو در کنار خود اپنے ملک کے سرمایہ کار سرمایہ بیرون ملک منتقل کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران ملکی معیشت کا بھٹہ ہی بیٹھ گیا تھا رہی سہی کسر سیاسی بحران سے پوری ہوئی۔ آخر کب تک قوم اس مایوس کن صورتحال کاشکار رہے گی اور کب ملکی معیشت پٹڑی پر چڑھ کر پوری رفتار سے چل پڑے گی۔وطن عزیز میں نئی حکومت کے قیام کے بعد یقینا حالات دھیرے دھیرے معمول پر آجائیں گے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے اقدامات اور ایسی سر گرمیوں سے سیاست دانوں کو گریز کرنا چاہیئے ۔جن کے نتیجے میں اختلافات پیدا ہوں اور سیاسی چپقلش کے باعث ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں۔ ملکی استحکام اور معیشت کی بہتری کے لئے کام کرنا ہی ملک کے بہترین مفاد میں ہوگا جس پر سب کو غور اور عمل کر نے کی ضرورت ہے ۔

اداریہ