Daily Mashriq


سیاسی جماعتوں کا حق ملکیت

سیاسی جماعتوں کا حق ملکیت

غم جمہوریت میں ہلکان ہوئے کتنے لوگوں کو یاد ہے کہ جناب نواز شریف نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اس وقت وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی پشت میں چھرا گھونپا تھا جب جناب جونیجو سانحہ جڑی کیمپ کی تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اختر عبدالرحمن اور چند دوسرے جرنیلوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرچکے تھے؟ مرحوم اسلم خٹک اور جناب نواز شریف نے اپنے ممدوح و مربی جنرل ضیاء الحق کو اطلاع فراہم کی کہ وزیر اعظم کیا ارادے رکھتے ہیں۔ چین کے دورہ پر گئے جونیجو وطن واپس پہنچے اور برطرف کردئیے گئے۔ یہ سال 1988ء کے پانچویں مہینے کی بات ہے۔ وہی تاریخی مہینہ ہے جس میں جنرل ضیاء الحق نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران دو باتیں کیں اولاً میرا بس چلے تو ہمیشہ غیر جماعتی انتخابات کروائوں۔ ثانیاً میری عمر بھی نواز شریف کو لگ جائے۔ قبولیت کا وقت دعا کے دوسرے حصے میں آیا پھر 17اگست 1988ء کو جنرل ضیاء الحق کی عمر نواز شریف کو لگ گئی۔ آگے بڑھنے سے قبل دو باتیں دھیان سے پڑھ لیجئے۔ اولاً یہ کہ گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن نے نواز شریف کی نا اہلی کو بغاوت قرار دیا ہے۔ ثانیاً یہ کہ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا ہے کہ '' اب ہم سوچیں گے کہ کس ملک سے الحاق کرنا ہے''۔ کمرشل لبرلز' دیندار اور آئین پسند دوستوں سے درخواست ہے کہ نون لیگ کے ان دو رہنمائوں کے بیانات کا آسان اردو ترجمہ کرکے عنداللہ ماجور ہوں۔ گو راجہ فاروق حیدر دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کے بیان کو توڑ موڑ کر شائع کیا گیا ہے مگر ان کی گفتگو کی ویڈیو تردید سے مطابقت نہیں رکھتی۔ جمہوریت کے مستانوں کو مبارک ہو کہ شاہد خاقان عباسی 45 روزہ وزیر اعظم ہوں گے جبکہ باقی عرصہ کے لئے میاں شہباز شریف یعنی پوری نون لیگ میں دس گیارہ ماہ کے لئے وزیر اعظم بننے کا اہل اور وفادار کوئی نہیں۔ ذاتی طور پر مجھے خوشی ہوئی کہ اقتدار شریف فیملی نے گھر میں رکھنے کا فیصلہ کیا۔ خاندانی کمپنیوں کا نمائشی حق ملکیت بھی کوئی نہیں دیتا۔ یہاں تک کہ عظیم ترقی پسند اور قوم پرست اے این پی یا ہمارے محبوب لالہ محمود خان اچکزئی بھی۔ وراثت اہم کی حامل ہے اور یہی اس پورے خطے کی اصل پہچان بھی۔

خیر جانے دیجئے دیکھنا یہ ہے کہ حدیبیہ پیپر مل ریفرنس میں شہباز شریف کا نام آنے کے بعد کیا وہ قانونی تقاضے پورے کر پائیں گے فقط یہی نہیں خود 45روز کے لئے نامزد ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے تعاقب میں بھی دو الزامات ہیں۔ ایک ان کی نجی ائیر لائن کمپنی کے معاملات کے حوالے سے اور دوسرا قطر سے خریدی گئی گیس کے ریٹس کے ضمن میں۔ گو جناب عباسی یہ کہتے آئے ہیں کہ (بلکہ نیب نے ایک طرح سے تردید بھی کی ہے) اس سمجھوتے میں کرپشن و کمیشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مگر اس حوالے سے یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ قطر سے مہنگے داموں گیس خرید کر ڈیڑھ ارب ڈالر کا مجموعی نقصان کیاگیا۔ بعض حلقے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شاہد خاقان کے خاندانی پس منظر ( ان کے والد بھی ائیر فورس میں اعلیٰ عہدے پر رہے تھے اب بھی خاندان کے متعدد افراد مسلح افواج میں اہم عہدوں پر ہیں) کی وجہ سے عبوری وزیر اعظم بنایا گیا ہے تاکہ معاملات کو بہتر بنایا جائے۔ اس دعوے کو تقویت ان اطلاعات سے ملتی ہے کہ پچھلے تین روز کے دوران شہباز شریف نے چودھری نثار کے ہمراہ اہم عسکری شخصیات سے متعدد ملاقاتیں کیں۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ جناب شہباز شریف نے ایسی ہی ایک ملاقات میں درخواست کی کہ اگر وہ چاہیں تو میں اپنی بھتیجی مریم نواز کی طرف سے حلف دینے کو تیار ہوں کہ اس نے عسکری اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر محاذ نہیں بنایا تھا۔ ذرائع کہتے ہیں کہ شہباز شریف کی اس درخواست کو پذیرائی نہیں ملی۔ اب یہ ممکن ہے کہ اگر شہباز شریف قانونی تقاضے پورے کرکے 45 دن بعد وزیر اعظم کا منصب سنبھالتے ہیں تو اس صورت میں میاں نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز پنجاب کی وزیر اعلیٰ بنائی جائیں کیونکہ شریف فیملی کسی کمزور ساتھی کو پنجاب کا وزیر اعلیٰ نہیں بنائے گی ۔

اگلے سال عام انتخابات ہونے ہیں ایک نسبتاً کمزور وزیر اعلیٰ کے لئے پنجاب میں حزب اختلاف کی دو جماعتوں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کا مقابلہ مشکل ہوگا ۔ یہ وہ نکتہ ہے جو اس رائے کو تقویت دیتا ہے کہ عین ممکن ہے کہ پنجاب پر تسلط بر قرار رکھنے کے لئے شہباز شریف ہی وزیر اعلیٰ رہیں اور شاہد خاقان عباسی باقی ماندہ عرصہ کے لئے وزیراعظم ۔ مگر کیا اس صورت میں چودھری نثار کا با اثر گروپ اور چند دوسرے چھوٹے دھڑے پارٹی کے اندر خاموشی سے اطاعت گزاری کرتے رہیں گے ؟ اس سوال اور خدشے کا احساس شریف فیملی کو بھی ہے ۔ غالباً دبائو سے نکلنے کے لئے ہی وزیر اعلیٰ گلگت اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم سے وہ بیانات دلوائے گئے ہیں جن کا بالائی سطور میں تذکرہ کیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے خلاف فیصلہ آنے تک عدلیہ آزاد تھی مگر اب وہ کسی عالمی سازش کا حصہ قرار پار ہی ہے ۔ میاں صاحب اور ان کے بہت سارے ساتھیوں کو اب بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو یاد آرہے ہیں کیا ستم ہے کہ بھٹو کی پھانسی پر ان کے گھر تین دن تک شکرانے کا لنگر تقسیم ہوتار ہا اور بے نظیر بھٹو کی کردار کشی میں وہ ساری حدیں پھلانگ گئے تھے ۔ بے نظیر بھٹو کی

دونوں حکومتوں کو ختم کروانے کے لئے انہوں نے سازشوں کے جال بچھا ئے ۔ یہ کوئی درون سینہ راز ہر گز نہیں کہ نواز شریف بدلہ لینے میں آخری حد تک جاتے ہیں وہ کیا کہہ اور کر سکتے ہیں اس کا اندازہ گلگت کے وزیر اعلیٰ اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے بیانات سے لگایا جا سکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں