Daily Mashriq


تصویر تری دل سے اتاری نہ جائے گی

تصویر تری دل سے اتاری نہ جائے گی

سابقہ وزیر اعظم کا عدالتی فیصلے میں نا اہل ہونے پر لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں' ائیر پورٹس اور تمام سرکاری دفاتر سے ان کی تصاویر اتار دی گئی ہیں۔ مگر پی ٹی وی کے چیئر مین کے نہاں خانہ دل میں ان کی تصویر اب بھی موجود ہے۔ گزشتہ ہفتے نون لیگ کے پارلیمانی اجلاس کی روداد پور ے سیاق سباق کے ساتھ پی ٹی وی سے نشر ہوئی جس میں سابقہ وزیر اعظم بڑی گھن گرج کے ساتھ عدالتی فیصلے کے لتے لے رہے تھے۔ گزشتہ رات نارووال سے سعودی عرب کے اقامہ یافتہ ایک سابق وزیر کی تقریر براہ راست پیش کی جا رہی تھی۔ اس سے پی ٹی وی کے موجودہ چیئر مین کی ن لیگ سے وابستگی واضح طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ ایک نجی ادارے سے ایک سیاسی جماعت کی سرگرمیوں کو پیش کرنا کہاں تک جائز ہے اس کا جواب چیئر مین صاحب ہی دے سکتے ہیں۔ ہمیں یاد ہے کہ جب گزشتہ انتخابات میں جاتی امراء میں جشن منایا جا رہا تھا تو اس جشن میں یہ چیئر مین صاحب بھی دکھائی دے رہے تھے۔ خادم اعلیٰ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا فرمائیے اس بار آپ کو کس ملک میں سفیر بنا کر بھیجا جائے۔ اس وقت جواب میں انہوں نے کیا کہا یہ تو م سن نہ پائے البتہ خادم اعلیٰ کی سخاوت پر ہم پرانے باد شاہ ضرور یاد آئے جو کسی درباری کے لطیفوں سے خوش ہو کر ان سے شاہانہ تملت کے ساتھ پوچھتے بولو' تم ملک کے کس خطے میں جاگیر لینا پسند کرو گے۔ سفارت تو انہیں نہیں دی گئی البتہ پہلے الحمرا آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر ا ور پھر پی ٹی وی کے چیئر مین کے منصب پر فائز کر دئیے گئے۔ شریف خاندان سے محبت و عقیدت کے اظہار کے طور پر وہ پہلے بھی ان کی تعریف و توصیف لئے اپنے کالموں میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رکھا۔ ہماری طرح چونکہ وہ بھی ساری زندگی کالج میں غالب و اقبال کے کلیات کی توضیح و تشریح کرتے رہے ہیں اس لئے ان کے سیاسی تجزئیے بالعموم گائے پر جواب مضمون سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ ایک ذہین و فطین مزاح نگار ہیں۔ جدید فکاہیہ ادب میں ان کاایک نمایاں مقام ہے لیکن پی ٹی وی کے چیئر مین کی حیثیت سے ان کا ایک مخصوص سیاسی جماعت کی طرف جھکائو اور وزیراعظم کی نا اہلی ثابت ہونے کے بعد بھی پی ٹی وی سے ان کا پروپیگنڈا کسی طور مناسب نہیں۔ پی ٹی وی کے چیئر مین کی شریف خاندان سے خصوصی عقیدت ہی کا نتیجہ تھا کہ نون لیگ کے دوسرے دور حکومت میں ان کو کالج کی لیکچرر شپ سے اٹھا کر براہ راست ناروے میں سفیر لگا دیا گیا۔ پرویز مشرف نے جب طیارہ اغواء کیس میں ن لیگ کی حکومت ختم کردی تو موصوف سفارت کے منصب سے سبکدوش کردئیے گئے۔ تاثر وہ یہ دیتے ہیں کہ میں نے احتجاجاً از خود استعفیٰ دیا تھا۔ بہر حال وہ ایک بار پھر کالم لکھنے لگے۔ ن لیگ کی تیسری حکومت آئی تو موصوف کو پوری مراعات کے ساتھ الحمرا آرٹس کونسل کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ اس دوران سردار لطیف کھوسہ کے استعفیٰ دینے پر پنجاب کے گورنر شپ کے امیدواروں میں وہ بھی شامل تھے۔ اس منصب کے وہ اہل تھے یا نہیں لیکن خواہش کرنے اور خواب دیکھنے پر پابندی تو نہیں لگائی جاسکتی۔ ہمیں یاد ہے اس دور کے اخبارات میں کچھ ایسے فرمائشی کالم بھی شائع ہوئے جن میں شریف خاندان سے بے پناہ عقیدت کی بنیاد اور غیر مشروط وفاداری کی بنیاد پر انہیں گورنر شپ کے لئے موزوں ترین امیدوار قرار دیاجاتا رہا۔ لیکن قرعہ فال چودھری سرور کے نام نکلا۔ وہ بھی ایک شریف آدمی تھے۔ بے اختیار گورنر شپ سے اکتا کر انہوں نے کچھ عرصہ بعد استعفیٰ دے دیا۔ گورنر ہائوس میں قید سے رہائی ملی تو ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ ہمارے اس کالم نگار دوست کو گورنری تو نہیں ملی البتہ پی ٹی وی کے چیئر مین ضرور بنا دئیے گئے۔ نون لیگ کے دور میں اہم اور دلکش عہدوں پر تقرر ی کی یہ واحد مثال نہیں۔ پیمرا کے موجودہ چیئر مین، تعلیم' اطلاعات اور قومی ورثے کے وزیر اعظم کے مشیر ن لیگ سے اپنی غیر مشروط وفاداریوں کے نتیجے میں ان اعلیٰ مناصب تک پہنچے ہیں۔ قومی اداروں میں صرف ن لیگ کی حکومت نے اپنے وفاداروں کو نہیں کھپایا اس سے پہلے کی حکومتوں نے بھی یہی کچھ کیا ہے۔ مقتدرہ قومی زبان' نیشنل بک فائونڈیشن اور اکادمی ادبیات جیسے قومی اداروں کی سربراہی کے لئے تقرری کے وقت اہلیت سے زیادہ ان کی برسر اقتدار سیاسی جماعتوں سے وابستگی اور غیر مشروط وفاداریوں کو پیش نظر رکھا گیا۔ ان میں سے چند ایک کے علاوہ بیشتر ایسے لوگ تھے اور ہیں جو ہماری طرح بونس ایج کے مرحلے میںداخل ہوچکے ہیں۔ ہم کلرک' چپڑاسی اور چوکیدار کی آسامیوں پر سفارشی تقرریوں کو بدعنوانی کی مثال قرار دے کر ان پر لمبے چوڑے کالم تو لکھتے رہتے ہیں لیکن اہم قومی اداروں کے اعلیٰ مناصب کے لئے بغلی دروازے سے داخل ہونے والوں کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے قومی اہمیت کے عہدوں پر جب تک میرٹ کی بجائے سیاسی وفاداریوں کو کوالیفکیشنز سمجھا جائے گا تو عدالتوں میں نہال ہاشمی جیسے لوگوں کی قومی اداروں کے خلاف جوش خطابت سے بھرپور تقریر کو کانٹ چھانٹ کر پیش کیا جائے گا اور عدالت سے ایسے لوگوں کو اڈیالہ جیل جانے کی وارننگ ملے گی اور پی ٹی وی پر بھی عدالت عظمیٰ کی جانب سے نا اہل قرار دئیے جانے والے لوگوں کی تقاریر کو نمایاں کیاجائے گا۔ ایسی تمام باتوں کو پارلیمان میں زیر بحث لانا ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں