Daily Mashriq


اک خواب ضروری تھا سو وہ دیکھ لیا ہے

اک خواب ضروری تھا سو وہ دیکھ لیا ہے

قطع نظر یہ سوچا جائے کہ موجودہ صورتحال پر تحریک انصاف' پیپلز پارٹی اور بعض دوسری سیاسی جماعتوں کانکتہ نظرکیاہے اور خود لیگ (ن) اسے کس انداز سے لے رہی ہے تاہم اصولی طور پر دیکھا جائے تو حکمران جماعت کی جانب سے وزیر اعظم کے منصب کے لئے عارضی اور مستقل امیدواروں کے نام سامنے آنے کے بعد یہ سوال ضرور ایک بار پھر نہایت شدت کے ساتھ سامنے آرہا ہے کہ کیا مستقل وزیر اعظم کے طور پر صرف اور صرف شریف خاندان ہی کے کسی فرد کو ملک پر حکمرانی کا حق حاصل ہے؟ اور لگ بھگ اسی نوعیت کا سوال میں نے اپنے گزشتہ کالم مطبوعہ 29جولائی میں بھی اٹھا کر سیاسی جماعتوں پر خاندانی کلب ہونے کی بات کی تھی۔ اس لئے اس بحث کو کسی جماعت کی مخالفت یا کسی کے موقف کی تائید کے حوالے سے نہ دیکھا جائے بلکہ ملکی سیاسی صورتحال میں در آنے والے اس کینسر کی تشخیص سمجھا جائے جس نے تقریباً تمام سیاسی جماعتوں کو کسی نہ کسی طور متاثر کیا ہے۔ خاندانی موروثی جماعتیں بنا کر رکھ دیاہے یا پھر اگر ایک آدھ جماعت میں یہ صورتحال نہیں بھی ہے تو ان پر قبضہ گروپوں کی اجارہ داری کو خارج از بحث قرار نہیں دیا جاسکتا اور ان حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ان تمام سیاسی گروپوں کی تطہیر کرکے ملک میں حقیقی جمہوریت کو رواج دینے پر عمل کرنے کے لئے موثر قانون سازی کی جائے۔ تاہم یہ ایک ایسا خواب ہے جس کے بار بار دیکھے جانے پر کوئی قدغن تو نہیں لگائی جاسکتی البتہ اس کی تعبیر کی کوئی ضمانت بھی نہیں دی جاسکتی کیونکہ سب سے اہم سوال ''موثر قانون سازی'' کا ہے جو موجودہ پارلیمان یا انہی خاندانی اور موروثی سیاسی جماعتوں کی موجودگی میں آنے والے پارلیمانوں میں اس حوالے سے کسی مثبت پیش رفت پر منتج ہونا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ تاہم پھر بھی خواب دیکھ لینے میں حرج ہی کیا ہے

اب آنکھ لگے یا نہ لگے اپنی بلا سے

اک خواب ضروری تھا سو وہ دیکھ لیا ہے

موجودہ سیاسی صورتحال سب پر واضح ہے کہ خواہ کچھ بھی ہوجائے ، سیا سی جماعتوں میں شامل (سیاسی اشرافیہ ) نے ہر صورت متعلقہ سیاسی خاندانوں کے ذہنی غلاموں کا کردار ادا کرنا ہے اور ''اوپر'' سے جو بھی حکم سامنے آئے اس حوالے سے ہی بیان بازی کرنی ہے ، یا پھر جب بھی یہ ''سیاسی حکمران'' محفل میں موجود ہوں تو ان کے دربار داروں کا کردار ادا کرنا ہے ، اس سلسلے میں ن لیگ کی حکمت عملی تو سامنے ہی ہے ، جبکہ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا کردار بھی اظہر من الشمس ہے ، دور جانے کی ضرورت نہیں ابھی گزشتہ روز جب میاں نواز شریف کی نااہلی کا حکم سپریم کورٹ سے جاری ہوا تو پارٹی چیئر مین بلاول زرداری نے دوبئی سے فوری طور پر اڑان بھری اور کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پہلے سے لکھ کر دی جانے والی تقریر پڑھی تو پارٹی کے چوٹی کے رہنماء جن کے سیا سی قد کاٹھ ایک نا بالغ سیاسی چیئر مین سے کہیں بلند ہے وہ زیادہ پڑھے لکھے اور انتہائی زیر ک اور تجربہ کار ہیں ، اپنے سربراہ کے ساتھ خاموشی سے بیٹھے اور پیچھے یوں کھڑے تھے جیسے اتنے بڑے قد کا ٹھ کے رہنما نہ ہوں بلکہ سیاسی بونے ہوں ۔ اس سے ملتی جلتی صورتحال تحریک انصاف کی ہے جس پر اگرچہ ( فی الحال ) موروثیت کا کوئی اثر نہیں ہے بلکہ اس میں شخصی ڈکٹیٹرشپ کو کسی بھی طور غلط قرار نہیں دیا جا سکتا ، اور اس میں نام نہاد انتخابات کے ذریعے مخصوص گروپ کی اجارہ داری قائم ہے ، جس کا واضح ثبوت حال ہی میں انٹر ا پارٹی الیکشنز کا انعقاد ہے جو جنرل مشرف کے بلدیاتی نظام کی بھو نڈی کا پی تھی ، اور دو گروپ بنا کر ورکروں کو کسی ایک گروپ کو منتخب کرنے کا کہا گیا تھا ۔ یعنی جس گروپ کے لیڈ رکو زیادہ ووٹ ملے وہی پورا گروپ پارٹی پر قابض ، اور مزے کی بات یہ ہے کہ پارٹی کے رجسٹر ڈ ممبران سے انتہائی کم ووٹ پول ہوئے یعنی ورکرز کی اکثریت نے ان انتخابات میں کوئی دلچسپی ہی ظاہر نہیں کی ، جہاں تک اے این پی کا تعلق ہے اس پر بھی مورو ثیت کی چھاپ بہت گہری ہے ۔ اور پارٹی سربراہ کے اشارہ ابرو کے بغیر کوئی بھی کسی عہدے پر براجمان ہونے کا تصور ہی نہیں کر سکتا ، بلکہ پارٹی جب بھی حکومت میں آتی ہے یہ خاندانی چھاپ پتھر پر لکیر ہو جاتی ہے ، اس کا ثبوت خیبر پختونخوا میں پارٹی کی سابقہ حکومت کے قیام کے دوران دیکھنے کو ملا جب بشیر بلور شہید جیسے مخلص کارکن کی بجائے پارٹی سربراہ کے نہایت قریبی رشتہ دار کو وزیر اعلیٰ بنا کر یہ تاثر پختہ کیا گیا کہ اقتدار کے کلیدی عہدوں پر صرف پارٹی کے خاندانی وارثوں کا ہی حق ہے ۔ ایسی ہی صورتحال جماعت اسلامی کی بھی دکھائی دیتی ہے اب تک تو یہ بات مشہور تھی کہ جماعت میں حقیقی جمہوریت قائم ہے اور موروثیت کا کہیں شائبہ تک نہیں ہے مگر اس کے باوجود پارٹی میں نامزدگیوں کا سلسلہ موجود ہے جو اس پارٹی کے حوالے سے بھی کئی سوالات کو جنم دینے کا باعث بنتا ہے ۔ جمعیت علمائے اسلام بھی ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہے ، دیگر سیاسی جماعتوں کی حالت بھی مختلف نہیں ہے دوسری بات یہ ہے کہ ملک کے اندر کھمبیوں کی طرح اگنے والی سیاسی جماعتوں کی تعداد بھی کم کرنے پر توجہ دینا ہوگی اور اس کیلئے عام انتخابات کے دوران جو سیاسی جماعتیں مجموعی ووٹوں کا کم از کم 20فیصد ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو ایسی جماعتوں کی رجسٹریشن فوری طور پر منسوخ کی جائے کیونکہ اکادکا سیٹ حاصل کرنے والی جماعتیں سیاسی بلیک میلنگ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ، جبکہ ہر نشست پر امید واروں کو مجموعی ووٹوں کا 51فیصد ووٹوں کے حصول تک رن آف الیکشن کا پابند کرنے سے بھی مسئلہ حل ہونے کی امید پیدا ہو سکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں