ترکی میںنئے نصاب تعلیم کا اعلان

ترکی میںنئے نصاب تعلیم کا اعلان

ترکی عالم اسلام کا ایک اہم بڑا اور تاریخی فضیلت کا حامل ملک ہے ۔ عثمانی ترک کبھی عالم اسلام کے سیاہ وسفید اور خیر و شر کے مالک اور نگہبان تھے ۔ لیکن ہر کمالے زوالے کے مطابق آخر عثمانی خلافت ایسی زوال پذیر ہوئی کہ ترکی کمال اتا ترک کے حوالے ہوا اور آخری عثمانی خلیفہ نے جلا وطنی میں وفات پائی ۔ کمال اتا ترک نے حالات سے نا جائز فائدہ اُٹھا تے ہوئے ترکی کو ترقی معکوس کا شکا ر کر دیا ۔ اُس کے ذہن میں معلوم نہیں یہ بات کہا ں سے در آئی تھی کہ مغرب کی من وعن تقلید ترقی کی بنیاد ہے اور کہا کرتا تھا کہ تیرہ سو برس قبل کے اسلامی قوانین و تعلیمات ( نعوذ با للہ ) آج کے جدید دور کا ساتھ نہیں دے سکتے ۔اس لئے ضروری ہے کہ کھانے پینے اور لباس اور اُٹھک بیٹھک سے لیکر تہذیب و ثقافت اور ریاستی امور بحیثیت مجموعی اس بات کے متقاضی ہیں کہ انہیں یورپ کی طرز پر تبدیل کئے جائیں ۔ اس حوالے سے اُس نے ترکی زبان کو جو کبھی عربی رسم الخط میں پڑھائی اور لکھی جاتی تھی ۔ رومن (Roman)رسم الخط میں تبدیلی کے احکامات جاری کر دیئے ۔ اس ایک تبدیلی کے ذریعے ترکی کی آنے والی نسلوں کو اپنے اسلام کے عملی کارناموں اور تاریخ سے کاٹ کر رکھ دیا ۔ مغرب کی سائنسی ترقی نے اگر چہ کئی لحاظ سے انسانیت کو بہت سارے فوائد سے بھی ہم کنار کیا ، لیکن اس میں بھی کوئی دوسری رائے نہیں کہ یورپ اور امریکہ کی علمی و سائنسی ترقی نے مذہب کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ یورپ میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی کشمکش نے جن تین شخصیات کو آگے بڑھایا ان کے افکار و نظریات نے بنی نوع انسان کو بہت بڑی بربادی سے دو چار کیا۔ ان میں سے پہلا شخص چارلس ڈارون ہے جس نے نظریہ ارتقاء کو پیش کیا۔ ڈارون نے نظریہ ارتقا جس انداز میں پیش کیا اس میں کائنات و مافیہا کی تخلیق بس ایک خود کار انداز میں خود بخود ہوئی اور تنازع للبقا (Survival of the fitist) کے ذریعے موجودہ نظام قائم ہوا اور اسی کے ذریعے وہ اصول و قوانین سامنے آئے جس میں سپر مین اور سپر نیشن کی تھیوری وجود میں آئی۔ اسی برتری کے حصول کے لئے دنیا میں ہر جگہ طاقتور نے کمزوروں کا استحصال کیا اور جرمنی اور اٹلی نے دنیا کو فتح کرنے کے لئے عظیم جنگیں چھیڑ کر انسانیت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا۔ اس نظریہ نے انسانیت کو اپنے خالق سے کاٹ کر رکھ دیا اور جب انسان اپنے خالق سے بے نیاز ہو جاتاہے تو جو معاشرہ وجود میں آتا ہے اس میں انسان کے ہاتھوں انسانیت پر ظلم و بربریت کی بے مثال داستانیں رقم ہوتی ہیں۔ 

نظریہ ارتقا کا اسلام بھی قائل ہے اور اس کی ابتدائی خطوط مسلمان فلاسفر ابن مسکویہ نے کھینچی تھیں۔ اسلامی نظریہ ارتقا کے مطابق ارتقا فطری قوانین و ضوابط کے تحت ہی ارتقا پذیر ہوتا ہے لیکن ان سب قوانین و مراحل کا خالق و مالک اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جو مغرب کے فلاسفر سے گم ہوگیا ہے۔چونکہ انیسویں اور بیسویں صدیوں کی سائنسی ترقی نے مغرب بالادست بنا دیا کہ عالم اسلام قرآن و حدیث جیسی مقدس ذرائع عقائد و تعلیم کے باوجود مغلوب جو مرعوب ہو کر رہ گئیں اور اس کے نتیجے میں مغرب سے جو بھی چیز آئی ، بہتر اور قابل تقلید کہلائی ۔ علامہ اقبال ، اکبر الہ آبادی ، شبلی نعمانی ، سید مودودی ، غلام جیلانی برق اور اس قبیل کے علماء و منصفین نے اس بات کی وضاحت کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ مغرب کی اندھی تقلید اسلامی معاشرے کے لئے کسی طرح بھی مناسب نہیں کیونکہ ہمارے عقائد اور تہذیب و ثقافت '' خاص ہے ترکیب میں قوم ر سول ہاشمی '' پر مشتمل ہیں ۔ پاکستان میں اس تقلید و پیروی کے شوق دانستہ و نا دانستہ بیالوجی اور باٹنی وغیرہ کے مضامین میں میٹرک اور انٹر میڈیٹ سے لیکر اعلیٰ سطح تعلیم تک وہی پڑھا یا جا تا ہے جو مغرب نے لکھا ہے ( الا ماشاء اللہ ) جس کے اثرات ہمارے معاشروں پر صاف دیکھے جا سکتے ہیں ترکی میں چونکہ کمال ازم نے بہت بڑی خرابیاں پیدا کی تھیں اور اُس کے اثرات آج تک وہاں کے معاشرے پر قائم ہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کے اس اہم ملک کی بنیادوں کو پھر سے اسلام پر استوار کرنے کے لئے غیب سے اپنے بندہ درویش طیب اردوان کو متعین فرمایا ۔ تو اُنہوں نے جہاں ترکی کو آئی ایم ایف کے چنگل سے چُھڑایا وہاں اسلامی تہذیب و ثقافت کی حکمت کے ساتھ دوبارہ ترویج اور عظمت رفتہ کی باز یابی کے لئے بڑے دور رس فیصلے کئے جن میں سے ایک یہ ہے کہ ترکی کے نصاب تعلیم سے وہ ساری چیزیں نکالی جارہی ہیں جو اسلام کے بنیادی عقائد و تہذیب کے خلاف ہیں ۔ عالم اسلام کے سارے ممالک کو چاہیئے کہ او آئی سی کی سطح پر نوجوانان اسلام کے لئے ایک مشترک ، ماڈریٹ قدیم و جدید کے امتزاج پر مبنی نصاب تعلیم کو مرتب کیاجائے تاکہ فرقہ واریت اور طبقاتی نظام تعلیم کا خاتمہ ہو۔ مغرب سے تعلیمی میدان کے اُن شعبوں میں ضرور استفادہ کیا جائے جن کا تعلق طب ، ٹیکنالوجی اور تعمیری فنون سے ہے ۔ کال مارکس نے انسانیت کو معاشی مسائل کے حل کے نام پر اپنے راز ق حقیقی سے منقطع کیا اور سگمنڈ فرائیڈ نے اباحیت کے دروازے کھول کر انسانیت کو اخلاقی اقدار سے محروم کر دیا ۔ وقت کی ضرورت ہے کہ مسلمان ممالک میں نصابات پر سنجیدہ کام کر کے آنے والی نسلوں کے عقائد و اعمال کو افراط و تفریط سے محفوظ بنا یا جائے ۔

اداریہ