Daily Mashriq


اعتدال پسندلیڈروں کی انتہاپسندی

اعتدال پسندلیڈروں کی انتہاپسندی

اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی خان کی انتہا پسندانہ اور نفرت انگیز تقریر کا جتنا حصہ میڈیا میں آیا ہے ان کے جلسے کے موقع کی روداد اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ باچاخان کے عدم تشدد کے فلسفے کی پیروکار جماعت کے قائد کا محض انتخابی شکست پر اس قسم کا لب ولہجہ کسی طور مناسب نہیں، دوسری جانب یہ امر بھی بہرحال قابل غور ہے کہ وہ کونسے عوامل ہیںجس کے باعث ایک جمہوری جماعت کے قائد جذبات سے مغلوب ہو کر ایسی گفتگو کر نے لگے ہیں جس کی ان سے کسی طور توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ خیبر پختونخوا میں خداخدا کر کے امن بحال ہوا ہے لیکن انتخابات کے دنوں کے واقعات نے اس خوش امیدی کا بھانڈا بھی پھوڑ دیا بہرحال وہ ایک براخواب تھا لیکن اے این پی اور جمعیت علمائے اسلام(ف)کے قائد ین نے سیاسی شکست کے بعد جو لب ولہجہ اختیار کر رکھا ہے اس سے انتشار اور عدم استحکام کی بو آتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سیاسی عمائدین کو انتہاپر جانے کی بجائے اولاً اپنی شکست کے اسباب کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لینا چاہئے اور دوم یہ کہ اس قسم کی الزام تراشی اور سڑکوں پر نکلنے کی بجائے باثبوت ٹریبونلز اور عدالتوں سے رجوع کیا جائے، دوسری جانب جن اداروں پر تنقید اور جن کی کارکردگی پرسخت تنقید ہورہی ہے ان کو بھی اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آخر یہ نوبت کیوں آئی ۔

خواجہ سراء پر تشدد اور بد سلوکی کا افسوسناک واقعہ

بعض افراد کی طرف سے خواجہ سراء پرتشدد کے بعد ہسپتال کے عملے کی مضروب کے بہتر علاج معالجے کی بجائے اس کو برہنہ کرنا شرمناک فعل ہے جو تشددکرنیوالوں کے عمل سے کسی طرح کم قابل مذمت امر نہیں۔ حکومت او رسرکاری اداروں کی طرف سے خواجہ سرائوں کی حفاظت اور ان کو مساوی حقوق دینے کے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیں مگرعملی طور پر اس طبقے کی حالت قابل رحم ہے۔ جولوگ اور تنظیمیں ان کے حوالے سے آواز اُٹھاتے ہیں ان کی مفاد پرستی اور غرض پر بھی بات ہو سکتی ہے۔ خدا کی اس بے ضرر مخلوق پر زمین تنگ کرنیوالے خوف خدا بھی نہیں کرتے ۔ محولہ واقعہ سمیت اس قسم کے واقعات کی جب تک ویڈیو وائرل نہیں ہوتی اور سوشلستان میں لوگ احتجاج اور مذمت نہیںکرتے پولیس اورانتظامیہ کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔ اس واقعے کے بھی سامنے آنے میں سوشلستان میں مضروب کی قابل رحم تصویر وں کے پھیلائوکا عمل دخل ہے وگرنہ حسب دستور اس پر بھی چپ سادھ لینے کا امکان زیادہ تھا۔ اس واقعے میں تشدد کرنیوالوں کا کردار وعمل ایک طرف ہسپتال میں بھی بدسلوکی کا مظاہرہ کر کے یک نہ شد دوشد کی مثال قائم کی گئی۔ اس واقعے میں ملوث افراد خواہ وہ تشدد کے ذمہ دار ہیں یا پھر ہسپتال میں بد سلوکی کے دونوں فریقوں کیخلاف جلد سے جلد قانونی اور محکمانہ کارروائی کی جائے۔ ہسپتال میں بد سلوکی کے مرتکب افراد کو معطل کر کے ان کیخلاف مزید کارروائی عمل میں لائی جائے۔ قانون دانوں کو اس مظلوم خواجہ سراء کی قانونی معاونت کا فریضہ مفت ادا کرنا چاہئے جبکہ پورے معاشرے کو اس زیادتی کی مذمت اور مضروب کیساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے میں اپنا کردار نبھاناچاہئے۔ اس طرح کے واقعات کے اعادے کی سب سے بڑی وجہ ہی یہ ہے کہ کسی جانب سے اس صنف کے افراد کو حمایت نہیں ملتی بلکہ ان کی مخالفت اور ایذاپہنچانے میں ہر کوئی پیش پیش رہتا ہے۔ اس معاشرتی روئیے میں تبدیلی لائی جانی چاہئے اور رب العزت کے اس لاچار مخلوق کو بھی چین سے جینے کا موقع دیا جانا چاہئے۔

چوری نہیں سیکورٹی کیلئے کھلا چیلنج

باچاخان انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے بیٹریوں کی چوری کو معمول کی چوری کی واردات گردانا نہیں جا سکتا۔ اس واردات کی وجہ سے سات پروازوں کا تاخیر کا شکار ہونے سے مسافروں کی مشکلات اپنی جگہ توجہ طلب امر یہ ہے کہ اس قدر ہائی سیکورٹی زون سے یہ بیٹریا چوری کیسے ہوگئیں اور اگر ائیر پورٹ کا حساس ترین، محفوظ ترین اور ہروقت ایئر پورٹ سیکورٹی فورس کے عملے اور کیمروں سے نگرانی میں ہونے کے باوجود علاقہ محفوظ نہیں تو پھر یہاں کسی بھی وقت خدانخواستہ کچھ بھی غیر متوقع نہیں۔ کسی نے یہ بیٹریاں کیسے اُٹھائیں، کیسے منتقل کیں اور کوئی حفاظتی نگاہ اس پر کیوں نہ پڑی یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب غوروفکر کے بعد بھی ممکن نظر نہیں آتا۔ اسے چوری کی ایک عام واردات نہیں گردانا جانا چاہئے بلکہ یہ باچاخان انٹر نیشنل ایئر پورٹ کی سیکورٹی کیلئے چشم کشا چیلنج ہے۔ کیا اس کا احساس ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری میں کو تاہی کا کوئی جواب دینا ممکن ہے۔

متعلقہ خبریں