Daily Mashriq

عام انتخابات میں ووٹ کا رجحان

عام انتخابات میں ووٹ کا رجحان

کے نتائج میں تحریک انصاف بڑی پارٹی کی صورت میں ابھری ہے۔ کہا جاتا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے کبھی کسی ایک پارٹی کو دوبارہ حکومت نہیں سونپی ۔ لیکن خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف نے دو تہائی اکثریت حاصل کی جو ایک تاریخی تبدیلی ہے۔ اسی طرح کراچی میں تحریک انصاف کی کامیابی اپنی جگہ ایک نیا رجحان ہے۔ خاص طور پر لیاری میں پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو کی شکست ایک تاریخی واقعہ ہے۔ پنجاب میں تحریک انصاف کی کامیابی کو اگرچہ الیکٹیبلز کی شمولیت کا مرہون منت سمجھا جا رہا ہے تاہم ووٹ تو انہیں عام آدمیوں کا ہی پڑا ہے جو عوام میں تحریک انصاف کی مقبولیت کا کھلا ثبوت ہے۔ بلوچستان میں بھی تحریک انصاف کو چارنشستیں حاصل ہو جانا بھی ایک بڑی تبدیلی ہے۔ جہاںقوم پرست پارٹیوں ہی کو ووٹ پڑتا تھا۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف نے ووٹروںکو ایک نئی سمت دکھائی ہے اور جن بنیادوں پر ماضی کے انتخابات میں ووٹ پڑتاتھا 2018کا ووٹ (دف داری ‘ برادری ‘ ذاتی اثر ورسوخ اور قومیت) سے ہٹ کر بھاری ووٹ پڑا ہے۔ فافن کے مطابق 170ایسے حلقے ہیں جن میں مسترد ووٹوں کی تعداد ہار جیت کے لیے فیصلہ کن ووٹوں کی نسبت زیادہ ہے ۔ ان حلقوں میں امیدواروں کی ہار جیت گزشتہ انتخابات کی نسبت بہت کم ووٹوں کے فرق سے ہوئی ۔ جب کہ گزشتہ انتخابات میں ہار جیت کے ووٹ کا فرق ہزاروں کی تعداد تک جایا کرتا تھا۔ یہ بات اس بات کی دلیل ہے کہ بہت بڑی تعداد میں ووٹ روایتی برادری ‘ اثرو رسوخ اور قومیت کی بنیاد پر پڑنے کی بجائے قومی سیاسی نقطۂ نظر کی بنیاد پر پڑا ہے۔ عمران خان نے تسلسل کے ساتھ کرپشن کے خلاف مہم چلائی حالانکہ یہ کہا جاتا تھا کہ انہوں نے عوام کے دیگر مسائل کو نظر انداز کر کے اپنی انتخابی مہم کرپشن کے خاتمے پر مرکوز کر رکھی ہے جس کا انہیں انتخابات میں نقصان ہو سکتا ہے۔ لیکن عمران خان نے کامیابی کے ساتھ کرپشن اور عام آدمی کے مسائل کا آپس میں تعلق واضح کیا ۔کرپشن کے خلاف ان کے اصولی مؤقف کا ثبوت اس وقت مل گیا جب انہوں نے خیبر پختونخوا میں اپنی ہی حکمران پارٹی کے بیس سے زیادہ ارکان کو اس بنا پر پارٹی سے نکال دیا کہ انہوں نے سینیٹ کے انتخابات میں اپنے ووٹ کی قیمت لگائی۔اگرچہ سیاسی پنڈت اعلان کر رہے تھے کہ اس سے ان کی پارٹی کی حکومت کو نقصان پہنچے گا تاہم عمران خان کرپشن کے خلاف مؤقف پر سختی سے قائم رہے۔ 

انتخابات میں کامیابی کے نتائج ثابت کرتے ہیں کہ تحریک انصاف نے قومی سطح پر ووٹنگ کا رجحان بدل دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے ۔ جیسے کہ سطور بالا میں کہا جا چکا ہے کہ اگراس کامیابی میں الیکٹیبلز کی شمولیت کو بھی ایک عنصر کے طور پر تسلیم کر لیا جائے تو بھی ووٹ تو عام آدمی نے دیا ہے۔ اسی طرح چاروں صوبوںمیں تحریک انصاف کو نمائندگی حاصل ہوئی ہے۔ یہ ووٹ قومیت ‘ زبان‘ برادری اور قبائلی وفاداری کو ترک کر کے قومی سطح پر کرپشن کی مخالفت اور دیانت کی حمایت کے لیے پڑا ہے۔ اس طرح تحریک انصاف ایسی جماعت ہے جو نظریے کی بنیاد پر ملک کی ایک بڑی جماعت کے طور پر ابھری ہے۔ کراچی اور بلوچستان میں تحریک انصاف کو جتنی بھی پذیرائی ملی ہے وہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ووٹ قدیمی وفاداریوں کی بجائے کرپشن کے خاتمہ اور قومی سطح کی سیاست کے حق میں پڑا ہے۔ اس کے مقابلے میں ن لیگ کا ووٹ سکڑ گیا ہے جو دورُخی بیانیہ پر عوام سے ووٹ مانگ رہی تھی۔ ایک نواز شریف کا اداروں کیخلاف مزاحمت کا بیانیہ اور دوسرا شہباز شریف کا پنجاب میں کارکردگی کا بیانیہ ۔ اس ووٹ میں نواز شریف کی لندن سے واپسی نے بھی اضافہ کیا ، اس کے باوجود ن لیگ حکمران پارٹی ہونے کے باوجود مرکز میں سکڑ گئی ہے اور پنجاب میں بھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ آ سکی۔ اس اشاریہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پاکستان کے عوام ایسی قیادت چاہتے ہیں جو قومی ایشوز اور مسائل پر رہنمائی کرے۔ وہ نعرے جن پر ماضی میں ووٹ حاصل کیے جاتے رہے ہیں ‘ قومی ایشوز کے سامنے اپنی اہمیت کھو چکے ہیں۔

انتخابات کے نتائج کے بعد ایک طرف تحریک انصاف کی قیادت میں مرکز اور پنجاب میں حکومت کے لیے ایک اتحاد قائم ہو رہا ہے ۔ دوسری طرف ن لیگ پیپلزپارٹی‘ ایم ایم اے اور دیگر پارٹیوں کا گرینڈ اپوزیشن الائنس بنتا نظر آتا ہے۔ دم تحریر دونوں طرف سے نمبرز گیم میں کامیابیوں کے اعلانات آرہے ہیں۔ فیصلہ گیارہ اگست کو انتخاب کے دن ہو جائے گا اور یہ فیصلہ عمران خان کے حق میں ہوتا نظر آتا ہے۔ پنجاب میں ن لیگ کے حمزہ شہباز آزاد امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں۔ ایسا ہی اعلان تحریک انصاف کے فواد چوہدری کر رہے ہیں تاہم آزاد ارکان بالعموم ایسی پارٹی کی طرف جاتے ہیں جس کی مرکز میں بھی حکومت قائم ہو۔ حکومت جس کی بھی بنے گی اسے بھاری اکثریت حاصل ہوتی نظر نہیں آتی۔ اسلئے حکومت کو بہت مشکلات کا سامنا ہو گا۔ مضبوط اپوزیشن مشکلات پید اکریگی۔ گرینڈ اپوزیشن الائنس نے کہا ہے کہ وہ پارلیمان میں اور پارلیمان سے باہر تحریک چلائیں گے فی الحال ان کا بنیادی اتفاق رائے انتخابات میں دھاندلی پر ہے۔ احتجاجی تحریک اگر ایوان سے باہر جائے گی تو الائنس میں شریک پارٹیوں کو اپنے اپنے عناصر کو میدان میں لانا ہوگا جن کے سیاسی مزاج بھی الگ الگ ہیں ۔ دوسری طرف تحریک انصاف رائے عامہ میں مقبول ہے اس لیے احتجاجی تحریک کو تادیر قائم رکھنا مشکل ہو گا۔ تاہم تحریک انصاف کے عناصر کے لیے بھی ضروری ہو گا کہ وہ اپنے نظریے اور قومی ایشوزپر عوام کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش میں اضافہ کریں تاکہ ان کی حکومت کو تقویت پہنچے ۔ اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس کے ثمرات سمیٹنے کا رویہ برسوں کی جدوجہد کو ناکام بنا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں