Daily Mashriq


شاخ نازک پہ ناپائیدار آشیانہ

شاخ نازک پہ ناپائیدار آشیانہ

گوئبلز کی روح کس قدر سرشار ہو رہی ہوگی اور ایک سرمستی کے عالم میں جھوم جھوم کر اس صورتحال پر واہ واہ کے ڈونگرے برسا رہی ہوگی۔ ساتھ ہی اسے اس بات پر افسوس بھی ہو رہا ہوگا کہ اپنے زمانے میں اسے کیوں یہ سوشل میڈیا والی سوچ نہیں آئی، حالانکہ کم اس نے بھی نہیں کیا تھا اور تبھی تو اس نے اس اصول کے تحت کہ اتنا جھوٹ بولو، اتنا جھوٹ بولو کہ جب سچ آئے تو بستیوں کی بستیاں ویران ہو چکی ہوں، اور اس نے ہٹلر کے ایک پروپیگنڈہ باز کی حیثیت سے جرمنی کے ریڈیو ٹرانسمیٹرز کے ذریعے اس قدر دھول اُڑائی یعنی جھوٹ، افترا پردازی، مکر وفریب کے ایسے ایسے حربے آزمائے کہ دوسری جنگ عظیم کے دور کے یورپی اقوام کے ذہنوں میں ایک خوف پیدا کرنے کیساتھ ساتھ اتحادی افواج کو مختلف محاذوں پر جرمن فوجوں کے حملے سے پہلے ہی ہتھیار پھینکنے اور شکست تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ البتہ اوپر کی سطور میں سوشل میڈیا کے حوالے سے گوئبلز کو یہ آئیڈیا نہ سوجھنے کی جو بات کرتے ہوئے ہم نے اسے کف افسوس ملتے ہوئے تصور میں دیکھا ہے اس کی وجہ بھی آپ ہم سے زیادہ جانتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کو آج کی مخلوق جس طرح اپنے اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کرتی دکھائی دے رہی ہے اس سے تو پوری عالم انسانیت انگشت بہ دنداں کی کیفیت سے دوچار ہے، مثلاً تازہ صورتحال کے حوالے سے ہی ایک پوسٹ متقابل سیاسی حلقوں کی جانب سے چلاتے ہوئے اس پر اپنے اپنے نقطۂ نظر کے مطابق سرخیاں یا پیغامات چسپاں کئے جا رہے ہیں، اس پوسٹ میں ایک دو کردار چیخم دھاڑ کرتے ہوئے ڈائس کے اوپر بیٹھے ہوئے کسی صاحب کی طرف کاغذات لہراتے ہوئے اور اشاروں سے بھی دھمکی آمیز باڈی لینگویج کی مدد سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے دکھائی دے رہے ہیں بلکہ تقریباً حملہ آور ہو رہے ہیں، اب یہی پوسٹ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے اس ’’سرخنامے‘‘ کیساتھ پوسٹ کی گئی ہے کہ فلاں جماعت کا فلاں اُمیدوار ری کاؤنٹنگ میں اپنی ہار دیکھتے ہوئے ہتھے سے اکھڑ گیا اور ریٹرننگ آفیسر کو ’’اچھے اچھے ناموں‘‘ سے یاد کرتے ہوئے احتجاج کر رہا ہے، اسی پوسٹ کو دوسری جماعت نے اسی قسم کے مسیج کیساتھ اپنے حق اور پہلے پوسٹ کی ہوئی کہانی کے برعکس شامل کیا ہے جبکہ ایک تیسری پوسٹ دونوں ہی سے مختلف ہے اور وہ اسی ویڈیو پر اس پیغام کی نشاندہی کرتی ہے کہ فلاں میونسپل ادارے کے اجلاس کے دوران ضلع ناظم کیخلاف کسی بات پر احتجاج کے دوران بلدیاتی نمائندے ایجنڈے کے کاغذات پھاڑ رہے ہیں۔ اب ایک ہی ویڈیو گزشتہ روز سے تین مختلف سرخیوں کیساتھ چل رہی ہے تو دیکھنے والے کیا پاگل نہیں ہونگے کہ وہ کونسی بات سچ اور کونسی بات کو جھوٹ سمجھیں؟سیاست کے گلی کوچوں میں ان دنوں گوئبلز ہی کے سکے کا چلن ہے بلکہ اسے مزید ترقی دیکر کیش کرایا جا رہاہے، گوئبلز تو صرف جھوٹ کو فروغ دینے کے فلسفے کا مؤجد تھا مگر آج کے دور کے سیاسی حلقوں سے وابستہ سوشل میڈیا کے ماہرین اس قدر چالاک ہو چکے ہیں کہ کسی بھی جھوٹی سچی بات کو افواہ کے طور پر انڈیل دیتے ہیں اور جب یہ اثر کرنا شروع کر دیتا ہے تو مخالف ٹیم اسی پوسٹ کیساتھ اپنا نقطۂ نظر شامل کر کے اسے پھیلانے والوں پر اُلٹ دیتی ہے، یہی صورتحال کبھی کبھی حقیقی پوسٹوں کیساتھ بھی روا رکھی جاتی ہے یعنی ایک جماعت کے سربراہ کے حوالے سے کوئی سچی بات سامنے آتی ہے تو اس سچ کو متعلقہ جماعت کی ٹیم بالکل ایک نئے انداز میں منفی شکل دیکر اپنے سربراہ کو تو پاک صاف کرنے کا اہتمام کرتی ہے اور اُلٹا مخالفین پر الزام تراشی سے صورتحال میں جوہری تبدیلی لاکر ترکی بہ ترکی کے محاورے کا بول بالا کر دیتی ہے، اس پر ہمیں اچھے سیاسی وقتوں کے وہ سیاسی رہنماء یاد آئے ہیں جو اپنے خلاف جھوٹ اور بہتان کے طومار کو صرف ایک شائستہ جملے سے روکنے کی سبیل کر دیتے تھے، مثلاً مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی جانب سے تب قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خان عبدالولی خان کیخلاف کسی جلسے میں کہیں دوچار نامناسب جملے ادا کئے گئے تو سرکاری میڈیا (تب ان چینلوں کا کوئی وجود نہیں تھا) نے ولی خان کیخلاف منفی پروپیگنڈے کا ایک طوفان کھڑا کر دیا تھا، اس پراس دور کے قومی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر مرحوم بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا، جناب وزیراعظم تم ہمارے آباؤ اجداد کیخلاف جھوٹ بولنا بند کرو ورنہ ہم تمہارے اجداد کے بارے میں سچ بولنے پر اُتر آئے تو تم کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوگے۔ اس کے بعد یہ سلسلہ موقوف ہو گیا تھا

فسانے یوں تو محبت کے سچ ہیں پر کچھ کچھ

بڑھا بھی دیتے ہیں کچھ زیب داستاں کیلئے

یہاں تو زیب داستاں سے بات بہت آگے نکل چکی ہے بلکہ احترام آدمیت اور شرافت ونجابت کی سرحدوں کو پار کرکے ذہنی غلاظت میں لتھڑی پڑی کراہ رہی ہے۔ نئی نسل کے ذہنوں میں پورے سماج کیخلاف جو زہر اُتارا جا رہا ہے اس سے سماجی ڈھانچے کی شکست وریخت شروع ہو چکی ہے اور وہ دن دور نہیں جب یہ ڈھانچہ اندر سے کھوکھلا ہوکر دھڑام سے نیچے آگرے گا مگر سیاسی قائدین کو صرف اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل سے غرض ہے جو معاشرتی نظام کو شعوری طور پر پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچا رہے ہیں اور مفکر پاکستان کی اس بات کو سچ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے یعنی

تمہاری تہذیب اپنے ہاتھوں سے آپ ہی خودکشی کریگی

جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

متعلقہ خبریں