Daily Mashriq


رعیت کا سوال تو ہونا ہے ہر ایک سے

رعیت کا سوال تو ہونا ہے ہر ایک سے

نئے پاکستان سے لوگوں نے جو توقعات باندھ رکھی ہیں اس کا اندازہ بھی مشکل لگ رہا ہے۔ قارئین کے حلقے مختلف تجاویز اور اُمیدوں کا اظہار کر رہے ہیں جن کا یہاں احاطہ ممکن نہیں، بعض سے اسلئے بھی احتراز ضروری ہے کہ آج کا یہ کالم سیاسی نہیں بلکہ عوامی مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کی سعی پر مشتمل ہوتا ہے۔ نوشہرہ سے ہمارے ایک قاری نے طبقاتی نظام تعلیم ختم کرکے یکساں قومی نصاب تیا ر کر کے رائج کرنے کو تعلیمی ترقی اور سبھی کیلئے یکساں مواقع کی فراہمی کیلئے ضروری قراردیا ہے۔ یہ تجویز کئی دیگر قارئین کے برقی پیغامات میں بھی وقتاً فوقتاً پیش ہوتی رہی ہے۔ اصولی طور پر اس تجویز سے عوامی اتفاق کی تو قطعی کوئی وجہ نہیں۔ ایک قوم اور ایک نظام تعلیم ماہرین واساتذہ سمیت سبھی کا خواب ہے۔ طبقاتی نظام تعلیم اور تعلیمی اداروں میں نصاب اور سہولتوں سے لیکر طریقہ کار تک سبھی کچھ یکساں ہونا چاہئے لیکن نجی سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی تو ساری تجارت ہی امتیازی تعلیم پر چلتی ہے۔ ان کی دکانداری کو کوئی ذرا چھیڑے تو بھونچال آجاتا ہے۔ حال ہی میں خیبر پختونخوا کی عدالت عالیہ نے چھٹیوں میں نصف فیسوں کی وصولی کے احکامات دیئے، ریگولیٹری اتھارٹی نے اس کے نفاذ کی سعی کی مگر کیا ہوا سپریم کورٹ سے فیسوں کی وصولی کا فیصلہ منسوخ کروا کر کیس پھر سے پشاور ہائیکورٹ کو واپس کر دیا گیا چونکہ معاملہ عدالت کا ہے لہٰذا اس حد تک ہی رہتے ہیں۔ اب والدین کو بقایاجات کے نوٹسوں پر نوٹس مل رہے ہیں اس طرح کی فضا میں کون چھوڑے گا کہ یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے اور یکساں نصاب ہو۔ پرانے پاکستان میں تو نہ ہو سکا اب دیکھتے ہیں نئے پاکستان والے کیا کرتے ہیں۔ اگر میں خود اپنے ہی قول وعمل کا جائزہ لوں تو حقیقت یہ ہے کہ میں خود اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے بھی مجبور ہوں کہ تنخواہ کا بڑا حصہ بچوں کی فیسیں دینے پر لگا دوں، کم وبیش مڈل کلاس کے سارے والدین میرے ہی جیسے ہوں گے۔

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میسر ہوئے کے مصداق بجلی کے اضافی بلوں کے حوالے سے پیرا کورونہ چارسدہ سے ایک قاری کا برقی پیغام آیا ہے جس میں انہوں نے ایک مہینے میں دس ہزار تو دوسرے مہینے میں تیس ہزار بل آنے کا رونا رویا ہے۔ انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ ان کے محلے میں واپڈا کے پانچ ملازمین رہتے ہیں جو نہ صرف خود بجلی کا استعمال بیدردی سے کرتے ہیں بلکہ رشتہ داروں کو بھی مفت میں بجلی دیتے ہیں۔ دو گھر ایسے بھی ہیں جن کاسال سے زائد عرصہ ہوگیا بجلی کا میٹر ہی سرے سے نہیں، ڈائریکٹ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ ان کے محلے میں اتفاق سے ایک چھوٹے سے اخبار کا رپورٹر بھی ہے وہ کہتے ہیں کہ وہ جس طرح دھڑلے سے بجلی مفت میں استعمال کرتا ہے تو آپ جیسے بڑے اخبار والے کتنا استعمال کرتے ہوں گے۔ بھائی آپ کی تکلیف اور اس قسم کی شکایت دونوں کا احساس ہے اور اس قسم کی شکایات سے عدالتیں بھی بخوبی باخبر ہیں۔ حکومت وقت کو بھی علم ہے اسلئے اس پر تو زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتی لیکن آپ نے جس طرح سے میرے بارے میں اندازہ لگایا ہے ایسا کچھ نہیں۔ میں سرکاری گھر میں رہتی ہوں، جہاں کی بجلی کا انتظام بھی سرکاری محکمے کی وساطت سے ہے، محکمہ واپڈا سے کم قیمت پر بجلی لیکر ہم پر زیادہ قیمت پر بیچتا ہے۔ میرے میاں اور میں خود سرکاری ملازمت میں ہیں۔ کالم لکھنے کی محنت کا بھی معقو ل معاوضہ ملتا ہے لیکن اس کے باوجود میں ایئر کنڈیشنڈ چلانے کے اخراجات کی متحمل نہیں۔ میرے گھر میں کولر چلتے ہیں، ذاتی نوعیت کی معلومات لکھنا اچھا نہیں لیکن آپ نے بات ہی اس طرح کی ہے کہ میں آپ کو بتا سکوں۔ میں اس چھوٹے سے اخبار کے رپورٹر کو تو نہیں جانتی اور نہ ہی اس کے حوالے سے کچھ کہہ سکتی ہوں البتہ اس صفحے کے سینئر کارکن پر پیسکو سب ڈویژن حیات آباد ٹو میں حال ہی میں بیتنے والے روداد کا بتائوں گی تو شاید آپ کو یقین آجائے کہ صرف آپ ہی نہیں سبھی پیسکو کے ڈسے ہوئے ہیں۔ مختصراً محولہ سینئر صحافی کے گھر کا میٹر خراب ہوا تو سب ڈویژن حیات آباد ٹو سے رجوع کیاگیا۔ جہاں پر آفتاب نامی اہلکار نے نئے کنکشن کی فیس سے ڈبل رقم لیکر میٹر تبدیل کیا، لمبی سی داڑھی والے لائن مین اور ڈرائیور نے الگ سے پیسے بٹورے۔ اب آپ ہی بتائیں کیا ہم صحافی بھی آپ جیسے ہی لوگوں کے قطار میں نہیں کھڑے۔ میں زیادہ تفصیل میں نہیں جانا چاہتی المیہ یہ ہے کہ یہاں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے، سرکار کے جس دفتر میں بھی جائیں فائل کو پہیہ لگائے بغیر کام کا تصور بھی نہیں ۔ الاما شاء اللہ ہمارے ملک میں صرف طبقاتی نظام تعلیم ہی واحد مسئلہ نہیں رشوت وبدعنوانی اور صحیح احتساب نہ ہونا بڑے مسائل ہیں۔ ہر پتھر کو سرکانے سے نیچے سے بچھو نکلناوہ سنگین مسئلہ ہے جس کا سدھارنا ناممکن امر بن چکا ہے۔ نظام میں اتنی سکت باقی نہیں کہ وہ اس پر قابو پائے۔ حکومت جس کی بھی ہو ایک ایک کے پیچھے لٹھ لیکر پڑا نہیں جا سکتا۔ جب خوف خدا ہی باقی نہیں تو حکمرانوں سے ڈر کیسا، بہرحال امید سے دنیاقائم ہے اور ہمیں اچھے اور بھلائی کی امید ہی رکھنی چاہئے۔ جدوجہد ضروری ہے، ہر ایک کو اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔ اپنے بچوں کو رزق حلال اور ایمانداری کا درس دیتے رہنا چاہیے، کم ازکم ہم اپنے خاندان میں اصلاح کے مکلف ضرور ہیں اور اپنی رعیت کا سوال ہر کسی سے ہوگا۔ وزیراعظم سے پاکستان کے بارے میں تو خاندان اور اپنی رعیت کے بارے میں ہر ایک سے اس سوال کا جواب دینے کی تیاری رکھنی چاہیے اور بس۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں