Daily Mashriq

صحن گلشن میں اُجالا ہے خدا خیر کرے

صحن گلشن میں اُجالا ہے خدا خیر کرے

قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے کہا تھا کہ اتنا آسان نہیں کسی جمہوری ملک میں الیکشن کا انعقاد۔ ایک خوفناک بھونچال آجاتا ہے پورے ملک میں، الٹ پلٹ کر رکھ دیتا ہے اس ملک اور قوم کی کایا جہاں الیکشن نامی سونامی در آتی ہے۔ اک افتاد ہے، ابتلاء ہے، امتحان ہے، آزمائش ہے، فکر ہے تردد ہے، دکھ ہے اور رنج ہے الیکشن، رنج وغم اور سر پر پڑنے والی مشکلات کے متعلق اسد اللہ خان غالب کہہ چکے ہیں کہ

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں

اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہم الیکشن 2018ء آزمائش کے اس دور کا ہر مشکل مرحلہ طے کرنے کے بعد اپنے ملکی اور ملی فریضہ سے عہدہ برآ ہو چکے ہیں لیکن الیکشن کا نتیجہ سامنے آنے کے بعد اگر ہم نے جیتنے والوں کو خوشیوں سے پھولے نہ سماتے دیکھا، تو شکست کھانے والوں کا رونا دھونا دیکھ کر ہمیں کہنا پڑا کہ الیکشن جیتنے والے لاکھ اُچھلیں، کودیں، بھنگڑے اور لڈیاں ڈالیں۔ خوشی سے پھولے نہ سمائیں یا آپے سے باہر ہو جائیں مگر ہارنے والوں کی حالت زار دگرگوں ہو گئی ہے۔ وہ اپنے دل اور دماغ کے کونوں کھدروں میں برے وقتوں کیلئے چھپا کر رکھے ہوئے شر فساد اور نفرتوں کے طوفان برسرعام اور ببانگ دہل زبان پر لاکر ایسی ایسی باتیں کرنے لگے ہیں جیسے وہ حصہ ہی نہ رہے ہوں اس الیکشن کا یا کوئی سروکار نہ رکھتے ہوں اس سسٹم سے جس کو ایک جمہوری ملک کے جمہوری رویوں یا اس کے لگے بندھے اصولوں کا نام دیا جا سکتا ہے۔ ہارنے والوں کے ذہن وشعور میں چھپی آتش فشانیاں بغض وعناد کی زہر افشانیاں بن کر ان کی زبان پر آنے لگی ہیں۔ سمجھدار اور دوراندیش سیاستدان الیکشن ہارنے کے بعد ایسے کسی روئیے کا اظہار کرنے کی بجائے اپنی شکست کو قسمت کا لکھا یا عوام کا مینڈیٹ حاصل نہ کر سکنے کی کمزوری یا کوتاہی سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں اور الیکشن جیتنے والوں کو مبارکباد دینے کے بعد آئندہ کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگ یقیناً صحیح معنوں میں سیاستدان اور رہنماء قوم کہلانے کا حق رکھتے ہیں اور جو لوگ ایسا نہیں کر پاتے اور بلاجواز احتجاج، ہلاگلا، دھونس دھمکیوں اور الزام تراشیوں کو اپنا تکیہ کلام اور تکیہ کردار بناتے ہیں ایسے لوگوں یا رہنماؤں کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ ان کو اپنے مدمقابل کی جیت اور اپنی شکست یا ہار ہضم نہیں ہو رہی۔ شکست خوردہ سیاستدانوں کے قافلہ سالار شہباز شریف سے میڈیا والوں نے الیکشن کی شفافیت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ الیکشن میں ہونیوالی دھاندلی اور اس کی شفافیت کے متعلق الیکشن ختم ہونے کے بعد ہی کچھ بتا سکوں گا۔ ان کی اس بات سے یہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ الیکشن کی شفافیت کو اپنی جیت سے تعبیر کرتے ہیں اور اپنی شکست کو دھاندلی کا نام دیتے ہیں۔ صرف نون لیگ کے صدر شہباز شریف نے الیکشن میں عوام کا پہلے جیسا مینڈیٹ حاصل نہ کر سکنے کو دھاندلی کا نام نہیں دیا، اس حمام کے سارے ننگے دھاندلی دھاندلی کرتے ایک ہی روسٹرم پر جمع ہو گئے اور جو منہ میں آیا وہ کہنے لگے، ان بے چاروں کی عقل پر پانی پھر گیا۔ ان کی سوچوں کو گھن چاٹ گیا۔ انہیں خیال ہی نہ رہا کہ وہ دھاندلی کا الزام ریاست کے کن ستونوں کے سر تھوپ رہے ہیں۔ کیا وہ ایسی باتیں کرتے ہوئے عدالت عالیہ اور ماتحت عدالتوں کی توہین کا قابل تعذیر جرم نہیں کر رہے۔ کیا وہ ملک اور قوم کے نام اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنیوالی افواج پاکستان کی کردارکشی نہیں کر رہے اور دھاندلی کا الزام دیتے وقت انہیں ان لاکھوں لوگوں کی دل آزاری کا خیال کیوں نہیں آیا جو اپنا گھربار، بیوی بچے، سکھ چین آرام سب کچھ ملک اور قوم کے نام وقف کرکے الیکشن2018 کے انعقاد کی ڈیوٹیوں پر مامور تھے۔ جن میں پولیس والے بھی تھے، غریب چپراسی، چوکیدار، بس ڈرائیور اور قوم کا مقدر سنوارنے والے وہ معماران قوم بھی جو پیشہ پیمبری سے منسلک، محترم اور مقدم اساتذہ کرام بھی ہیں، پاکستان کی پرفضا وادی سے قوم کے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنیوالوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک میسیج بھیجا ہے جس میں انہوں نے دھاندلی کے الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے اپنی شکست کا سر اور سینہ پیٹنے والے ان اساتذہ کی دل آزاری کر رہے ہیں جن کی خدمات کی وجہ سے الیکشن 2018ء کامیاب وشفاف کا نام حاصل کر سکا۔ انہوں نے ’’اساتذہ کرام پر سیاسی الزامات کی مذمت‘‘ نامی مراسلہ ارسال کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ’’الزام لگانے والی تمام سیاسی جماعتیں جب تک اساتذہ کمیونٹی سے معافی نہیں مانگیں گی ان کا سماجی بائیکاٹ کیا جائیگا‘‘ اساتذہ کرام نے اپنے دل کی بات کر دی اور ہم اپنے دل کی بات کرتے ہوئے اپنے آپ کو حق بجانب سمجھ رہے ہیں

برق نے میرا نشیمن نہ جلایا ہو کہیں

صحن گلشن میں اُجالا ہے خدا خیر کرے

متعلقہ خبریں