Daily Mashriq


عوام کی طاقت

عوام کی طاقت

پوری دنیا کے جمہوری معاشروں میں یہ ایک انتہائی مستحکم روایت ہے کہ عوام کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان اس کرۂ ارض پر ایسا ملک ہے جہاں عوام کی رائے کے احترام کی بجائے ذاتی خواہشات اور عزائم کی تکمیل کو جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے۔ حالیہ انتخابات کے نتائج پر نظر ڈالنے سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ تحریک انصاف کو پاکستانی عوام نے اکثریتی ووٹ سے نوازا ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ سالہا سال سے پارلیمنٹ میں براجمان کچھ سیاسی جماعتیں دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہیں اور اپنی شکست کو تسلیم کرنے کی بجائے ہر حال میں اپنی جیت اپنا حق سمجھتی ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہمارے ہاں کچھ ایسی روایت رہی کہ عوام کو ان کے حقوق سے دور رکھا جائے اور چند عناصر ملک کی سیاہ وسفید کے مالک بنے رہیں۔ ایوب خان اور ضیاء الحق کی مارشل لاؤں اور پھر پرویز مشرف کے عہد میں ان سیاسی مہروں نے جس طرح عوام کے حقوق پر آنکھیں بند کر کے اپنے مفادات کا تحفظ کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔

برطانیہ کو جمہوریت کے حوالے سے ایک منفرد مقام حاصل ہے لیکن جب وہاں سے چوہدری سرور یا صادق صاحب انتخاب جیت جاتے ہیں تو انگریز یہ نہیں کہتے کہ دھاندلی ہوئی ہے اور غیر ملکی افراد نے ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈالا ہے بلکہ وہ عوامی رائے کا احترام کرتے ہیں، دو عشرے ہو چکے ہیں جب ہمسایہ ملک بھارت میں بی جے پی کی انڈین پارلیمنٹ میں برائے نام نمائندگی تھی لیکن وقت گزرنے کیساتھ اکثریتی پارٹی بن گئی جبکہ بھارت کی خالق پارٹی انڈین نیشنل کانگریس نے کبھی دھاندلی کا شور نہیں مچایا۔ ہمارا قومی المیہ یہ ہے کہ اس ملک میں سیاستدان ذہنی طور پر ابھی اس کیلئے تیار ہی نہیں ہوئے ہیں کہ ان کے فرائض کیا ہیں۔ کیا ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی کا لندن میں ایک ذاتی رہائشی کمرہ ہے؟ ایران کے صدر حسن روغانی کی باہر کوئی جائیداد ہے؟ برطانوی خاتون وزیراعظم کا واشنگٹن یا پیرس میں کوئی فلیٹ ہے؟ اس ملک کو 70 سال سے لوٹا جا رہا ہے۔ وقت گزرنے کیساتھ ساتھ عوام کے اجتماعی شعور میں نکھار آرہا ہے۔ انہیں اس بات کا احساس ہو چکا ہے کہ کافی ہو چکا اور اب حقوق لے کے رہیں گے۔ عوام کو پاکستان سے عشق ہے اور جو کوئی بھی ان کے عزام کی تکمیل کا نقیب ثابت ہوگا وہ انہیں ووٹ دیں گے۔ دھاندلی کا شور مچانے والے پہلے اپنا اعتبار اور اعتماد بحال کریں تو شاید مستقبل میں وہ بھی زیر غور آسکتے ہیں۔ اسفندیار ولی، سراج الحق اور مولانا فضل الرحمن شکست سے دوچار ہو چکے ہیں تو انہیں کسی پنجابی، بلوچی یا سندھی نے نہیں ہرایا بلکہ اپنے ہی حلقے کے کسی دوسرے پختون بھائی نے ان کو شکست دی ہے اسلئے پختون قیادت کو دیوار سے لگانے والے الزام میں کوئی جان نہیں اور نہ کوئی اس مؤقف کو تسلیم کرتا ہے۔ یہاں پر مرحوم خان عبدالولی خان کی یاد آرہی ہے جنہوں نے مولانا حسن جان مرحوم سے شکست کھانے کے بعد یہ نہیں کہا کہ پختون قیادت کو اسمبلی سے باہر رکھا گیا بلکہ خوش دلی سے نہ صرف شکست تسلیم کی بلکہ سیاست سے ریٹائرمنٹ کا بھی اعلان کیا۔ جمہوریت ایک تدریجی عمل ہے اس میں شہنشاہیت کی طرح وراثتی عملداری یا دعوے داری کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ برطانوی وزیراعظم جان میجر، مارگریٹ تھیچر، ٹونی بلیئر اور ڈیوڈ کیمرون اپنے فرائض کی بجا آوری کے بعد چلتے بنے لیکن ہمارا رویہ بڑا نرالا ہے، ہم میں شکست تسلیم کرنے کا مادہ نہیں۔ یہاں ایک اہم مسئلے کی نشاندہی لازمی ہے کہ اقتدار دلانے کی طاقت عوام کے پاس ہوتی ہے۔ افغانستان پر امریکہ اور نیٹو افواج کی یلغار کے بعد پختونخوا کے عوام نے انتخابات میں ایم ایم اے کو ووٹ دیا۔ ایم ایم اے کی تشکیل کے وقت صوبے میں اسلامی نظام کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن یہ سب کچھ صدا بصحرا ثابت ہوا۔ 2008 میں عوام نے اے این پی کو موقع دیا اور پھر 2013ء میں تحریک انصاف صوبے کی اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آئی۔ اس پورے عمل سے صرف یہ بات سامنے آتی ہے کہ کرسی اقتدار پر بٹھانے کا اختیار عوام کے پاس ہے نہ کہ سیاستدانوں کے پاس۔ اگر ان کا بس چلے تو انتخاب کے بغیر اقتدار کے مزے لوٹیں۔ عوام کے اجتماعی شعور کے احترام سے مزید روگردانی ممکن نہیں۔ ریاستی اداروں پر الزامات کوئی وقعت نہیں رکھتے بلکہ عوام کے دلوں میں اپنی جڑیں مستحکم کرنے کیلئے اپنی کارکردگی بہتر بنانی ہوگی۔ کیا ہندوستان یا ایران کی سیاسی قیادتوں نے دوبئی اور لندن کو اپنی قیام گاہوں کا درجہ دے رکھا ہے؟ ہمارے سکولوں میں پنکھے نہیں ہوتے، ہسپتالوں میں دوائیاں نہیں ہوتیں، مریضوں کیلئے بیڈ نہیں ہوتے، غریب عوام لوڈشیڈنگ سے تنگ آچکے ہیں۔ اگر ایسے میں وہ کسی ایسی پارٹی پر اعتماد کرتی ہے جو ان کو ایک بہتر مستقبل فراہم کر سکتی ہے تو اس میں ذاتی انا، خواہشات اور الزامات کی کوئی گنجائش نہیں، یہاں تو کشمیر کمیٹی اور خارجہ امور کمیٹی کی چیئرمین شپ سیر سپاٹوں کا ایک ذریعہ اور بہانہ ہے۔ پاکستان کے بڑے مسائل غربت، جہالت اور آبادی میں اضافہ ہے جو بھی حکومت ان کا حل نکالے گی عوام اس کا ساتھ دے گی۔ نعرہ بازی بہت ہو چکی، اب صرف کارکردگی چلے گی اور عوام کا بھی فرض بنتا ہے کہ اپنی طاقت کا احساس کرے اور ایک بہتر پاکستان کیلئے شعور اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے کیونکہ عوام کی طاقت ہی اصل میں جمہوریت کا ضامن ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں