Daily Mashriq


اسوہ حسنہ پر چلنا ہی فلاح کا ضامن ہے

اسوہ حسنہ پر چلنا ہی فلاح کا ضامن ہے

آج ہم وجہ وجود کائنات حضرت نبی آخر الزمان محمد مصطفی ﷺ کا جشن ولادت ایک ایسے ماحول میںمنارہے ہیں جب ان کے نبی ؐآخرلزمان ہونے کے جزو ایمان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اعلیٰ عہدوں کے حلف نامے میں شامل مواد میں تبدیلی کے معاملے پر ملک انتشار کی کیفیت کا شکار ہے ۔ وہ جس ہستی مکرم کے نام پر جملہ اہل اسلام کو جڑ نا تھا اور ایک مٹھی ہونا تھا آج ہم اس تنازعے میںدست وگریباں ہیں جب معاملہ اس قدر حساس تھا اور یکبار گی معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا چکا تھا تو اس میں تبدیلی کی کیا ضرورت تھی اس سوال کا جواب کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے کے زمرے میںآتا ہے۔ جب قصداًیا سہواً ہونے والا معاملہ نمٹ چکا تو اس کے ذمہ داری کے خلاف کارروائی کے مطالبات کو اس قدر شدت کا حامل کیوں بنایا گیا کہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ، عوام کو اٹھارہ بیس دن شدید مشکلات کا شکار بنادیا گیا۔ املاک کی تباہی ہوئی اور قومی ادارے ہی منتشر نہیں قوم بھی انتشار کا شکار ہوئی۔ کیا عفودر گزر کے تقاضوں پر ہم میں سے کسی کی نظر گئی کیا انتشار سے بچنے کیلئے کسی نے ذمہ داری قبول کر کے غلطی تسلیم کی یا پھر دفع شر کیلئے عہدے سے الگ ہونے کی زحمت کی ۔ جس کا کردار و عمل دیکھو اس ہستی کی تعلیمات سے موافق دکھائی نہیں دیتا ہم یہ تسلیم بھی کرتے ہیں اور حقیقت بھی یہ ہے کہ وہی ہستی مکرم ہمارے جان و مال اور اولا د سے زیادہ محبوب اور اس کی محبت تکمیل ایمان کا سبب ہے مگر عملی طور پر ہماراایمان کس قدر پختہ اورحب رسول کریم ﷺ سے ہم آہنگ ہے ہم سب کو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیئے اور اپنے قلب و دماغ سے اس کا جواب مانگنا چاہیئے کیایہ حقیقت نہیں کہ آج ہم سب زبانی کلامی تو اللہ رب العزت کے محبوب ﷺ کی محبت کادم تو بھرتے ہیں مگر ہمارے اذہا ن وقلوب میں شک سے نہیں تو کم عملی سے ضرور ڈھکے ہوئے ہیں ۔ سرور کائنات ﷺ ،جہالت و تعصبات‘ کینہ پروری‘ زور ازوری اور نفاق کو ختم کرنے کے لئے تشریف لائے‘ مگر ہم میں یہ سارے امراض چودہ صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ اتحاد و اتفاق کی فراوانی کی جگہ نفرت و تنگ نظری کا دور دورہ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہم نے یہ درس ہی بھلا دیا ہے کہ ’’بہترین مومن وہ ہے جو اپنے لئے پسندیدہ چیز اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرے۔ ‘‘ ہم خود تو سب کچھ کی خواہش پالتے پوستے آگے بڑھ رہے ہیں مگر بھائی کے تن پر اجلا لباس بھی برداشت نہیں کر پاتے۔ آپؐ نے فرمایا تھا‘ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ، زبان اور عمل سے اس کے دوسرے مسلمان بھائی محفوظ رہیں۔ مگر حالت یہ ہے کہ ہمارے ہاتھوں سے کچھ بھی محفوظ نہیں۔ آقائے نامدار ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ اختلاف رائے میں قدرت کی رحمت پوشیدہ ہے۔ ہم نے اختلاف رائے کو انکار اور انکار کو کفرکا درجہ دے دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ تحصیل علم کے دروازے بند کر بیٹھے۔ مکالمہ تو خالصتاً زندیقیت کے زمرے میں ڈال لیا ہے۔ ہم اب بھی بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں‘ انہیں نور علم کا زیور تو ہم پہنانے سے رہے الٹا ان کے وہ حقوق بھی دینے پر تیار نہیں جو آپؐ نے بحکم خدا بتلائے تھے۔ اپنے سماج کی اس نصف آبادی (عورتوں) کے لئے ہماری سوچ آج بھی انقلاب محمدؐ سے قبل کے زمانے والی ہے۔ بیٹیوں اور بہنوں کو ان کے شرعی حقوق دینے کی بجائے ہزار عذر نکال لیتے ہیں۔ بہانہ سازی میں فی الوقت ہماری مثال کوئی نہیں۔ہم تو زکواۃ صدقات اور چندات دیتے وقت بھی اس ارشاد گرامی کو سامنے نہیں رکھتے کہ ’’ ایک ہاتھ سے ایسے دو کہ دوسرے ہاتھ کو بھی پتہ نہ چلنے پائے‘‘۔ ایسے ہر موقع پرہماری خواہش یہ ہوتی ہے کہ پورا محلہ‘ گائوں اور شہر ہماری دریا دلی سے کاملاً آگاہ ہو۔ اس سے بڑھ کر انحطاط کا عالم کیا ہوگا کہ آج ہم بھائیوں کا گوشت کھانے والا سماج بن کر رہ گئے ہیں۔ صدیوں سے لگی اس لذت دہن کی وجہ سے اب ہمیں اور کوئی غذا مرغوب بھی نہیں۔ ہم بھائیوں کے عیوب پر پردہ ڈالنے کی بجائے ان عیوب پر ڈھول پیٹنے کو برا بھی خیال نہیں کرتے۔ گردن تک نفس پرستی میں دھنسے ہم حیات ابدی کا حقیقی سامان کرنے سے محروم ہیں۔ذرا غور کیجئے تو آج سیرت مصطفی ؐ کا ذکر اور اسوحسنہ کی پیروی کی ترغیب تو بہت ملتی ہے، درود وسلام کی بابرکت محافل کا انعقاد بھی پورے اہتمام سے ہوتا ہے مگر محبوب خدا سے محبت کا جو عملی تقاضا ہے اس کسوٹی پر ہم پر کھے جائیں تو یقینا پورا نہیں اتریں گے ۔انسان کے خطاکار اور کمزور ہونے میں شک نہیں اور ہم قرون اولیٰ و قرون وسطیٰ کے دور کے بھی نہیں لیکن یہ سوچ اور یہ پیمانہ معیار عقیدت و معیار ایمان نہیں ۔ اسوہ حسنہ کی پیروی کی ہمیں کم از کم اپنی پوری کوشش تو کرلینی چاہیئے کیا ہم ایسا کر رہے ہیں یقینا نہیں خطرناک امر تو یہ ہے کہ ہم تضادات وانتشار کے مواقع خود اپنے عقیدے و عقیدت کے محور کے حوالے سے تلاش کرنے لگے ہیں۔ ہمیں حضور پاک ؐ سے عقیدت ہے اگر اس سے ہمیں انکار نہیں تو پھر ہم اس عقیدت کے حقیقی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنے اور اسوہ حسنہ سے سبق و رہنمائی حاصل کرنے کی سعی کیوں نہیں کرتے ۔ حضور بنی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقیدت اور ان کے احترام کا تقاضا یہ ہے کہ امت مسلمہ ان کی تعلیمات اور ان کے طریقے کو اپنائے دنیا میں بھی یہی کامیابی کا راستہ ہے اور آخرت میں بھی فلاح اسی ذریعے سے ہی ممکن ہے ۔دین اسلام عمل کا متقاضی ہے اور حسن عمل ہمارے آخری نبی ﷺ کا راستہ اور ان کی تعلیمات کا بنیادی جزو ہے جب تک ہم اسے نہیں اپناتے ہم بھٹکتے ہوئے ہی کہلائیں گے اور راستہ بھٹکنے والا مسافر جب تک اپنی سمت کا تعین دوبارہ سے درست نہیں کرتا کبھی اپنے منزل کو نہیںپہنچ سکتا ۔ 

متعلقہ خبریں