کمزور حکومتی عملداری کی درست نشاندہی

کمزور حکومتی عملداری کی درست نشاندہی

عدالت عظمیٰ پاکستان میں بڑے پیمانے پر تجاوزات اور املاک پر غیر قانونی قبضہ کے ایک کیس میں وفاق میں ریاست کی رٹ کی کمزوری اور وفاقی حکومت کے نظر نہ آنے سے متعلق ریمارکس حقیقت حال کی عکاسی ہی نہیں ایک اعلیٰ عدالت کی جانب سے حکومت کو ان کی نا کامیوں اور غیر موثر ہونے کی طرف متوجہ بھی کرنا ہے۔ معزز جسٹس نے اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ سیاست کے علاوہ بھی حکومت کی کئی ذمہ داریاں ہوتی ہیں ناکامی کی صورت میں انگلیاں اٹھنا اور ذمہ داریوں میں ناکامی کے نتائج کا ادراک زیادہ مشکل کام نہیں۔ پانامہ کیس میں جب سے حکمران جماعت کے قائد کو نا اہلی کی بناء پر وزارت عظمیٰ کے عہدے سے الگ ہونا پڑا ہے حکمران جماعت مسلسل سیاست اور محاذ آرائی سے دوچار ہے جس کے اثرات حکومت و ریاست پر پڑنا فطری امور میں سے ہے۔ اس امر سے انکار کی گنجائش نہیں کہ پانامہ کیس سے اٹھنے والے طوفان کی زد میں صرف حکومت اور سیاست ہی نہیں آئی بلکہ عدم تعاون اور عدم ہم آہنگی کی کیفیت کی بناء پر وفاق اور ریاست کی عملداری کمزور ہوئی ہے جس کی بڑی مثال فیض آباد دھرنے سے نمٹتے ہوئے سامنے آئی۔ ملک میں حالات کی بہتری کے لئے اجتماعی سوچ، اجتماعی تدبر اور ہم آہنگی بنیادی اہمیت کے عوامل امور ہوتے ہیں۔ دیکھا جائے تو ان ضروری عناصر کا وجود ہی باقی نہیں اور اگر اس ضمن میں تضادات ہونے کا تاثر دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ حکمران اور برسر اقتدار عناصر کی کامیابی و ناکامی اگر صرف اپنے اقتدار کا تحفظ بن کر رہ جائے تو اس طرح کے حالات فطری طور پر سامنے آتے ہیں۔ اس صورتحال کی تنہا ذمہ داری حکمران جماعت پر عائد نہ بھی ہوتی ہو تو ملک کی باگ ڈور اس کے ہاتھوں میں ہونے کے باعث ذمہ داری انہی پر عائد ہوگی۔ ملک اور حکومت جتنا جلد اس بند گلی سے نکل آئیں اتنا ہی بہتر ہوگا۔
جعلی تیل‘ محکمہ خوراک مزید کارروائی کرے
محکمہ خوراک کے عملے کے چھاپے میں رنگ روڈ پر مضر صحت کوکنگ آئل کے کارخانے کو سیل کرنے کا اقدام قابل اطمینان امر ضرور ہے مگر کارخانے میں جس بڑے پیمانے پر جعلی کوکنگ آئل تیار ہو رہی تھی اس سے یہ واضح ہے کہ مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر جعلی کوکنگ آئل کی سپلائی ہوچکی ہوگی۔ محکمہ خوراک کے اہلکاروں کو اس ضمن میں عوام کو اس کی نوعیت، نام اور پیکنگ یا جس صورت میں بھی اس کی سپلائی جاری تھی تفصیلات سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں موجود ذخیرے کو تلف کرنے کے لئے حرکت میں آنے کی ضرورت ہے۔ محکمہ خوراک اس تیل کی خرید و فروخت میں ملوث نیٹ ورک اور دکانداروں کے خلاف بھی کارروائی کرے تاکہ عوام کو اس مضر صحت اور جعلی تیل کے استعمال سے بچایا جاسکے۔ملک بھر میں جس طرح جعلی و غیر معیاری اشیاء بنتی ہیں اور اس کا کاروبار ہوتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ امر نہیں لیکن مضر صحت ‘ خوردنی اشیاء کی تیاری اور فروخت کا معاملہ اس لئے زیادہ سنگین ہے کہ یہ براہ راست انسانی جانوں سے کھیلنے کا فعل ہے۔ خیبر پختونخوا میں ویسے بھی عوام کو علاج معالجے کی مشکلات زیادہ ہیں۔ ایسے میں رہی سہی کسر ناقص اور مضر صحت اشیاء کے استعمال سے پوری ہو جاتی ہے۔ گوکہ اس کی براہ راست ذمہ داری حکومتی اداروں پر عائد نہیں ہوتی لیکن ہمارے تئیں وہ اس ذمہ داری میں اس لئے برابر کے شریک ہیں کہ وہ ان کی روک تھام اور انسداد کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں سنگین غفلت کا ارتکاب کررہے ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھانے پر توجہ دیں تو نہ مضر صحت اشیاء کی تیاری ممکن ہوگی اور نہ ہی ان کی خرید و فروخت اور کاروبار کا کوئی امکان بنتا ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومتی ادارے اس ضمن میں مزید غفلت کے مرتکب نہیں ہوں گے اور صوبہ بھر میں جعلی اور مضر صحت اشیاء کی تیاری اور کاروبار کے خلاف سخت مہم چلائی جائے گی اور ذمہ دار عناصر کی گرفتاری اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کسی مصلحت سے کام نہیں لیا جائے گا۔

اداریہ