Daily Mashriq


دھرنے کے بعد

دھرنے کے بعد

اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر تحریک لبیک کا دھرنا حکومت اور تحریک کے قائدین کے معاہدے کے باعث ختم ہو گیا ہے۔ جڑواں شہروں کے درمیان ٹریفک بحال ہو گئی ہے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں جو پتھراؤ ہوا تھا اس کے روڑے اور پتھر صاف کئے جا چکے ہیں۔ البتہ جلی ہوئی گاڑیاں اور اکھڑے ہوئے جنگلے29 نومبر تک موجود تھے جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پولیس ایک طرف دھرنے والوں کیخلاف کارروائی کر رہی تھی تو دھرنے والوں کی حمایت میں عام شہریوں کے گروہ پولیس پر عقب سے پتھراؤ کرتے رہے۔ پولیس نے اپنی ناکامی کی وجوہ پر مبنی رپورٹ عدالت میں جمع کرادی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ دھرنے والوں نے پولیس فورس کے جوانوں کے مذہبی جذبات ابھارنے کیلئے تقریریں کیں جن کی وجہ سے پولیس کے جوان مظاہرین پر سختی کرنے سے ہچکچاتے رہے اور دھرنے والوں میں مذہبی جوش وخروش عروج پر تھا۔ دھرنا ختم کرانے میں ناکامی سے ایک طرف پولیس پر ہزیمت کا داغ لگ گیا ہے دوسری طرف بعض اخبارات کہہ رہے ہیں کہ پولیس کے چند افسروں کو ہٹانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ پولیس کی طرف سے عدالت میں جو رپورٹ پیش کی گئی ہے اس سے قطع نظر چند دیگر عوامل بھی قابلِ غور ہیں۔ دھرنے کے تین ہفتوں کے دوران پولیس کی نفری کے ڈیوٹی کے اوقات میں اضافہ رہا۔ جس کے باعث پولیس اہلکار تھک چکے تھے۔ دوسرا اہم عنصر دھرنے والوں کے مذہبی جذبات کے پرچار کے مقابلے میں پولیس والوں کو انہیں منتشر کرنے کیلئے کوئی اخلاقی جواز نہیں دیا گیا۔ تیسرے یہ خیال نہ رکھا گیا کہ عوام میں پولیس کا امیج دوستانہ نہیں ہے۔ عوام میں پولیس زور زبردستی کی علامت ہے۔ اسلئے جب تماشائیوں نے پولیس ایکشن کے مناظر دیکھے تو وہ پولیس مخالف ہجوم میں تبدیل ہوگئے۔ اس میں دھرنے کے حامی تماشائیوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ اب جب سرکاری اور غیر سرکاری مبصرین دھرنے کو روکنے میں ناکامی کے اسباب پر غور کر رہے ہیں اور آئندہ کیلئے سبق حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس بات پر بھی غور کیا جانا چاہئے کہ پولیس کی پیشہ ورانہ تربیت کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ پولیس کو محض سرکاری حکام کے تابع سوچ سمجھ سے عاری نفری سمجھنے کی بجائے پولیس والوں سے مشورہ ضرور کیا کریں لیکن سیاست اور حکمرانی کا یہ کلچر ہمارے ہاں جگہ پاتا نظر نہیں آتا۔ وزیر داخلہ احسن اقبال کہہ رہے ہیں کہ وہ ایک نئی طرز کی پولیس کھڑی کریں گے تاکہ اسلام آباد کو محفوظ کیا جا سکے۔ اس سے پہلے بھی پنجاب اور ملک کے دوسرے حصوں میں طرح طرح کی مخصوص پولیس فورسز قائم کی جا رہی ہیں۔ ایف سی اور رینجرز کو طلب کیا جاتا ہے۔ احسن اقبال اگر دو ہزار کی نفری کی نئی پولیس فورس قائم کر لیں گے تو ان پولیس فورسز میں اضافہ ہی ہوگا جو اب تک کامیاب نہیں ہوئیں۔ اسلام آباد میں پولیس ایکشن کی ناکامی کے بعد ملک کے 85 بڑے چھوٹے شہروں میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ کتنی پولیس فورسز ایسے ہنگاموں کو فرو کر سکتی ہیں؟ 

بعض ٹی وی چینلز کے جید مبصرین کہہ رہے ہیں کہ دھرنا ختم کرنے کیلئے معاہدے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اب کوئی بھی اپنے ساتھ چند ہزار مظاہرین کو ساتھ لیکر اسلام آباد کو یرغمال بنا لیا کریگا اور حکومت اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گی۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ ایسے تبصروں کے پیچھے سوچ یہ ہے کہ مظاہرین کو سختی کے ذریعے منتشر کیا جانا چاہئے تھا اور ان کے ساتھ کوئی مصالحت نہیں کی جانی چاہئے تھی۔ یہ طریقہ وزیر داخلہ احسن اقبال نے اپنایا اور دھرنے پر پولیس ایکشن کر دیا، اس سے آگے یہی آپشن رہ جاتا ہے کہ مظاہرین پر ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں سے حملہ کر دیا جاتا۔ خدا کا شکر ہے ایسا نہیں ہوا، اور بقول خود وزیر داخلہ احسن اقبال کے اور لاہور ہائی کورٹ کے‘ ملک ایک بڑی تباہی سے بچ گیا۔ چند سال پہلے جب عمران خان اور طاہر القادری کی قیادت میں دھرنے ہوئے تھے اس وقت بھی یہی کہا جا رہا تھا کہ اب تو کوئی بھی آ کر حکومت سے اپنی مرضی منوا سکے گا لیکن اس کے بعد ملک بھر میں کئی دھرنے ہوئے اور مذاکرات کے ذریعے اٹھا لئے گئے۔ تحریک انصاف پاکستان کے افضل جلالی گروپ نے بھی اسلام آباد میں دھرنا دیا اور مذاکرات کے بعد اٹھا لیا اور اب وہ لاہور میں دھرنا دئیے ہوئے ہیں۔ جب تک لوگوں کو شکایات رہیں گی اور ان کا عمومی سیاسی اور قانونی راستوں سے ازالہ نہیں ہوگا احتجاج ہوتے رہیں گے۔ ایسے مسائل پولیس فورس یا مضبوط وزیر داخلہ یا احتجاج کرنے والوں پر ٹینکوں سے چڑھائی کرنے میں نہیں ہے۔ محرومیوں اور شکایات کا ازالہ کرنے میں اور اشتعال انگیزی سے اجتناب میں ہے۔ مظاہرین کا راجہ ظفر الحق رپورٹ شائع کرنے کا مطالبہ تسلیم کیا جا سکتا تھا اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی جا سکتی تھی کہ جب تک وزیر قانون زاہد حامد کی ذمہ داری پایہ ثبوت تک نہیں پہنچ جاتی ان کیخلاف ایکشن کے مطالبے کو مؤخر کیا جائے لیکن ن لیگ نے اس کے باوجود کہ اس میں بعض تجربہ کار لیڈر بھی موجود ہیں معاملے کی نزاکت کو مناسب وزن نہیں دیا۔ جمہوری پارٹی ہونے کے باوجود ن لیگ کی مجلس عاملہ میں یہ معاملہ زیرِ غور نہیں آیا۔ نہ پارلیمانی پارٹی میں، نہ کابینہ میں اور نہ پارلیمنٹ میں دھرنے والوں کے مطالبات پر غور کیا گیا جبکہ انتخابی اصلاحات کے قانون میں متنازعہ ترمیم پوری پارلیمنٹ نے منظور کی تھی۔ البتہ ایک ایسی خبر آئی تھی کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی رہائش گاہ پر چند معتمد وزیروں کی غیر رسمی ملاقات میں یہ معاملہ زیرِ غور آیا تھا تاہم تنہا وزیر داخلہ اس حساس معاملے سے عہدہ برآء ہونے کی کوشش کرتے رہے وہ بھی دھمکیوں کی زبان میں۔ اگرچہ وہ کہتے رہے کہ عقیدہ ختم نبوت سب مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے تاہم وہ سب مسلمانوں کی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے‘ نہ انہوں نے اس کی کوشش کی۔ انہوں نے دیگر سیاسی پارٹیوں کو بھی اس طرف متوجہ نہیں کیا جنہوں نے بین کا راستہ اختیار کیا اور قوت کے ذریعے عوامی معاملات طے کرنے کا خمیازہ اٹھایا۔

متعلقہ خبریں