یہ بھلا کیوں سمجھیں گے ؟

یہ بھلا کیوں سمجھیں گے ؟

یہ کیسی باتیں کرتے ہیں ۔ کیا ہم بحیثیت قوم شکل سے ایسے بے وقوف دکھائی دیتے ہیں کہ یہ ایسی باتیں کہیں گے اور اس ملک کے لوگ آنکھیں بند کر کے ہر بات پر یقین کر لیں گے ۔ یا پھر انہیں خود پر ایسا اعتماد ہے کہ انہیں یہ محسوس ہوتا ہے ان کی باتوں کے سقم اور مضحکہ خیزی کسی کو دکھائی نہیں دیتی ۔ کئی بار انسان ایسی خود فریبی میں مبتلا ہو بھی جاتا ہے حد درجہ بڑھی ہوئیمیں عجب سی باز گشت بھی ہوتی ہے ۔ اس گنبد بے در میں قید انسان اپنی ہی آواز سنتا ہے اپنی ہی تصویر دیکھتا ہے ۔ سچ کیا ہے کچھ معلوم نہیں ہوتا اور باہر دنیا بدل جاتی ہے ۔ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ بھی یہی ہورہا ہے ۔ وہ اپنے ہی خیال کے گنبد میں قید ہیں ۔ بالکل ایسے ہی جیسے شاہ جہان اپنی نظر بندی کے بعد آگرہ کے قلعے کے ایک حصے میں مقید ، تاج محل کو دیکھتا رہتا تھا ۔ اور رات ہوتے ہی ایک سرنگ کے ذریعے اس قلعے سے نکل کر تاج محل جا پہنچتا تھا جہاں اس کی محبوب بیوی ممتاز محلمدفون تھی ۔شاہ جہان کو اس سے کوئی علاقہ نہ تھا کہ اسکے بیٹوں میں تعلقات کس نہیج پر رواں دواں ہیں ۔ یا جہانگیر نے کیسے اپنے بھائیوں کو راستے سے ہٹا کر تخت پر قبضہ کرلیا ہے ۔ وہ اپنی یاد کے گنبد میں قید تھا ۔ اسی طرح لیگ والے نواز شریف کی طاقت کی یاد کے گنبد میں قید ہیں ۔ انہیں شاید اپنی ہی آواز وں کی اس قدر عادت ہو چکی ہے کہ سچ سننے کی حس ہی ختم ہوگئی ہے ۔ میاں نواز شریف نے اپنے لیے جن درباری گویوں کا بندوبست کیا تھا ۔ وہ بھی ابھی تک یہ سمجھ نہیں سکے کہ بادشا ہت ختم ہو چکی ، یا د کے قلعے میں قید محض خواہشات کے تاج محل کو دیکھتے رہنے سے مسائل کا حل نہیں ہوا کرتا اسکے لیے آنکھیں کھولنا پڑتی ہیں ۔ اورجسم میں طاقت ہونی بھی ضروری ہے ۔ یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ وفاداریوں کے اظہار کے نتیجے میں جس درباریوں کے منہ وزارت کے موتیوں سے بھر دیئے گئے وہ کن مزید انعامات کے منتظر ہیں کہ انکی زبانیں بند ہی نہیں ہوتیں اور ذہن روشن نہیں ہوتے ۔ میں کئی بار سوچتی ہوں کہ جانے کیوں یہ لوگ اپنے ہی نظریات پر نظر ثانی نہیں کر سکتے ۔ طلال چوہدری کے حالیہ بیانات سننے کے بعد یہ صورتحال اور بھی دگر گوں لگتی ہے ۔ ہم کمال لوگ ہیں ۔ مجرموں کو رہبر ، رہنما بنانے میںکوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ۔ ہمیں ذرا بھی برا معلوم نہیںہوتا ۔ ہمیں اس بات سے بھی کوئی پریشانی محسوس نہیں ہوتی کہ وہ لوگ جو ہمارے مستقبلپر جونک کی طرح لگے ہیں ، ہمارے بچوں کی امید کے دنوں کا خون چوس رہے ہیں ،وہ لوگ اقتدار کے ایوانوں میں موجود ہیں ۔ چور لٹیرے ڈاکو جو ہمیں لوٹنا اپنا استحقا ق سمجھتے ہیں جنہیں نہ کبھی کسی نے روکا ، نہ کبھی یہ کہا کہ انہیں اپنی لوٹ مار میں کچھ کمی کرنی چاہیئے ۔ انہیں اگر عدالت چو ر قرار دے دے ، اگر انکے عہدوں سے فارغ کردے تو بھی طلال چوہدری جیسے لوگ ہیں جو آج بھی ان کا دفاع کر رہے ہیں اور انہیں یہ لگتا ہے کہ ان کے مزید کارناموں کی چھان بین کی گئی تو ملک کے اداروں کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا ۔ ان کی باتیں سن کر سرپیٹ لینے کو جی کرتا ہے ۔ یہ سمجھ نہیں آتی کہ اپنی وفاداری کووہ اس ملک کے نقصان کے برابر کس طور کر رہے ہیں اور وہ کونسا پلڑا ہے جوان لوگوں کے پاس موجود ہے ۔ وہ ننھے سیاست دان جو کل تک ایڑیاں اٹھا اٹھا کر دیوار کے اوپر سے اچک اچک کر ساتھ والے گھرمیں موجود ، دوسری سیاسی پارٹی کو صلواتیں سنا رہے تھے اور جن کی کوئی قابلیت اس سے زیادہ نہ تھی ، انہیں اچانک ایسی کیا معراج حاصل ہوئی کہ ان کے سامنے کے تمام پردے ہٹ گئے اور انہیں یہ نظر آنے لگا کہ اگر حدیبیہ پیپر مل کا معاملہ کھولنے کی کوشش کی گئی تو اس کا نقصان ملک کے اداروں کو ہوگا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان لوگوں کے اصولوں کے باٹ بدل گئے ہوں ۔جیسے میاں نواز شریف خود کو ایک نظریہ سمجھنے لگے ہیں اسی طرح ان کے چاہنے والے حدیبیہ کو ایک ملکی ادارہ سمجھنے لگے ہوں ۔ اور عین ممکن ہے کہ جو قومی نقصان ان لوگوں کو پہلے پاناما کیس کی تحقیق کی صورت میں بھی نظر آتا ہو ۔ اور جس طرح کرپشن کے معاملات پر وزیر اعظم کے عہدے سے نکالے جانے والے صاحب خود کو ایک نظریہ سمجھنے لگ گئے ہیں ، اسی طرح حدیبیہ بھی ایک اہم ملکی ادارہ ہو جسکی تحقیقات ملک کے لیے نقصان دہ ہوں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ لوگ خود کو بس ملک سمجھتے ہوں ۔ ان کا خیال ہو کہ اس نلکی کے سوراخ سے ہی ساری دنیا دیکھی جا سکتی ہو ۔ اگر ان کی کرپشن کے کیس کھولے جائیں تو جو نقصان ان کو ہوناہے ، وہ ہی ملک کو نقصان ہو کیونکہ یہ ملک تو یہ خود ہی ہیں ۔ اس ملک کے بائیس کروڑ لوگ تو ویسے بھی ان کے لیے کاغذ کی پرچیاں ہیں ، ووٹ ہیں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ تبھی تو وہ صرف ان لوگوں کی انتخابات میں موجود گی کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں ۔ ورنہ ساہیوال اور اوکاڑہ میں کوئلے سے بجلی بنانے کے کارخانے لگاتے ہوئے انہیں یہ لوگ نظر نہیں آئے کہ یہ بیماریوں کا شکار ہونگے اور اس سب کا ملک کے صحت کے بل میں کتنا اضافہ ہوگا ؟ ان لوگوں کی باتیں کمال ہیں ، جانے کیسے یہ لوگ ہمارے رہنما ، ہمارے لیڈر ، ہمارے نمائندے ہیں جن کے لیے تو اس ملک کے عوام کہیں موجود ہی نہیں ۔ تبھی تو ان کا نقصان ملک کا نقصان ہے ۔ یہ نہیں جانتے کہ ان کی کرپشن کے کیس کھلیں گے تو اس ملک کے فائدے کے دروا ہونے لگیں گے ۔ ان کے مفادات کو زک پہنچے گی تو ہی اس قوم کے معاملات میں کچھ بہتری پیدا ہوگی ۔ لیکن یہ بھلا اس بات کو کیوں سمجھیں گے ۔

اداریہ