حالات کا نیا رخ

حالات کا نیا رخ

امیا ب دھر نا فیم اور سربراہ تحریک لبیک یا رسول اللہ خادم حسین رضوی نے کہا کہ لا ہو ر دھر نے میں جو لوگ بیٹھے ہیں ان کا فیض آباد کے دھر نے سے کوئی تعلق نہیں ہے پوری شوریٰ ان کیساتھ ہے۔ دیکھاجا ئے تو یہ دھر نا بعد کے اثر ات ہیں کہ جب حکومت کیساتھ معاہد ہ ہو گیا گو کہ حکومت اس معاہدے سے خود بھی خو ش نہیں نظر آرہی ہے پھر بھی تحریک کے لو گو ں کوچاہیے تھا کہ وہ اپنے اس امیر کا کہا مان لیتے جس نے کہا کہ ان سے فوج نے کہا مانگو جو مانگنا چاہتے ہو تو رضوی صاحب نے ایک ایسے شخص کا استعفیٰ ما نگ لیا جو اس کا سزاوار ہی نہیں تھا۔ وہ تو ترمیم کو من و عن پیش کر نے کا پابند تھا۔ بہر حا ل بقول خادم رضوی کے جو انہو ں نے ما نگا وہ مل گیا اس کے بعد کسی قسم کے دھر نے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اب صرف معاملہ یہ ہے کہ ان کی جماعت کے ایک اور رہنما نے الزام لگا یا ہے کہ دھرنا اکیس کر وڑ روپے لے کر ختم کیا گیا ہے اگر الزام تراشی کا اشارہ اس رقم کی طرف ہے جو دھرنا کے شرکا ء کو واپسی کے نا م پر ایک اعلیٰ سرکا ری افسر نے تقسیم کی ہے تو یہ پوشید ہ رقم نہیں ہے۔ یہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے اور پہلی دفعہ دیکھنے میں آیا کہ ایسے لوگوں کو واپسی کا خرچہ ایک سرکا ری ادارے کی جانب سے فراہم کیا گیا جس کا نہ تو معاہد ے میں ذکر تھا اور نہ سرکا ری ادارے کے فرائض میں شامل تھا پھر ان لوگو ں کو رقم دی جنہو ں نے حکومت کی رٹ کا ستیانا س کیا جو آئین اور قانو ن سے کھیلے ، جو سزا کے مستحق تھے بہر حال یہ الگ معاملہ ہے۔سرکا ری ادارے ہو ں یا سیا سی جماعتیں یا پھر عوامی حلقے ہو ںان سب کا فرض ہے کہ وہ حکومت کی رٹ کو بحال رکھنے میں کردار ادا کریں ۔ اب عمر ان خان کا کہنا درست ہے کہ فوج نے تاریخی کردا ر ادا کر کے ملک کو خون خرابہ سے بچا لیا ان کا یہ بیا ن لا ہو ر کے جج کا ہی بیانیہ ہے۔ یہ بات لا ہو ر کے جج صاحب نے بھی کی ۔ بعض حلقو ں کا کہنا ہے یہ بیا نیہ اسلا م آباد کے جج کے بیانیہ کا تو ڑ تھا ہر گز ایسا نہیں ہے ، حقیقت یہ ہے کہ معاہد ہ کوئی بھی کر ا تا یا دھرنا ختم کر انے میں مد د گار ہوتا تووہ یہ کہلا نے کا مستحق ہوتا کہ اس نے ملک میں انار کی کو پھیلا نے سے بچا لیا جہاں تک اسلا م آبا د کے جج صاحب کا مو قف ہے وہ بھی حقائق پر مبنی ہے ، اور اس حقیقت سے مفر نہیں کیا جا سکتا اسلئے بیانات کا تقابل کر نا قطعی درست نہیں ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس امر کی تحقیقات کرائے اور عوام کو بتائے کہ دھر نا کو ختم کرانے کا جو اس نے عملی قدم اٹھایا تھا وہ کیو ں نا کا م ہوا۔ کیا کوئی غیبی قوت اس کو نا کام کرنے میں شامل تھی۔ جہاں تک بی بی سی کی خبر کا تعلق ہے وہ بھی باعث تشویش ہے، اس امرکا بھی سراغ لگانا ضروری ہے کہ جیسا کہ بی بی سی نے اطلاع دی کہ دھر نا والو ں کے پا س جو گولیا ں اسلحہ ، گیس شیل اور دیگر سامان حربی ہے وہ پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیوں کے پاس بھی نہیں ہے۔ خادم حسین رضوی اور ان کے رفقاء نے بی بی سی کی اس خبر کی تر دید بھی نہیں کی ، تاہم یہ حقیقت ہے کہ امریکا افغانستان میں بیٹھ کر علاقے میں طا قت کا تواز ن بگاڑ نے میںمصروف ہے، امریکا نے رواں سال افغانستان کیلئے فضائی راستے سے اسلحہ کی فراہمی میں تین گنا اضافہ کر دیا ہے جبکہ سینکڑوں فوجیو ں کو تر بیت دی جا رہی ہے بین الاقوامی افواج کے اعلیٰ کمانڈر جنرل نکلسن نے گزشتہ روز ٹیلی کانفرنس میں انکشاف کیا کہ اضافی فضائی طاقت کی فراہمی کے نتیجے میں افغانوں کیلئے طا لبان کیخلا ف زیادہ جارحانہ طریقہ کا ر اپنا نے میں مد د ملی ہے۔ حیر ت کی با ت ہے کہ افغانستان میں طالبان جو نہتے ہیں جن کے پا س کوئی وسائل نہیں ہیں لیکن امر یکا نے بے کس قوت کیخلاف جدید ترین اسلحہ کا انبا ر افغانستان میں لگا دیا ہے۔یہ سلسلہ ختم ہو نے کو ہی نہیں آرہا ہے ،پھر بھی امریکا افغانستان میں طالبان کے ہا تھو ں شکست خور دہ قرا ر پا رہا ہے ، جب اسے کا میا بی نہیں حا صل ہو رہی ہے اور بے پناہ اسلحہ کی قوت کے باوجو د وہ نا کا م ہے پھر اسلحہ کے ڈھیر لگا نے کی ضرورت کیو ں پیش آرہی ہے یا پھر امریکا کے کچھ دیگر مقاصد ہیں ۔امریکی جنرل نے اپنی پر یس کا نفر نس میں جو کہا ہے اس کے ایک ایک لفظ کو سمجھنے کی ضرورت ہے ، بظاہر ان کا کہنا ہے کہ منشیات کے پیسوں سے طالبان پاکستان میں مقیم ہیںاور وہا ں سے کا رروائی کر رہے ہیں۔ یہ بیان حقیقت میں مضحکہ خیز ہے، جب طالبان افغانستان میں بر سراقتدار تھے تو ان کے پا س پھوٹی کو ڑی تک نہ تھی ملا زمین کو تنخواہ دینے اور اخراجا ت کوپورا کرنے کیلئے خزانہ میں ایک چھد م یا دمڑی تک کا عکس نہ تھااس کے با وجود طالبان نے اس وقت پو ست کی کا شت کا سہارا نہیں لیا او ر ان کے دور میں پو ست کی کاشت صفر درجہ کی حامل تھی۔ اب امریکی جنرل کیسے یہ دعویٰ کر رہے ہیں یہ پو ست کی کا شت کن علا قو ں میں ہو رہی ہے ، ظاہر ہے کہ افغانستان پر امریکا کا کنٹرول ہے اورکا شت بھی امریکا کے زیر تسلط افغان علاقے میںکی جارہی ہے۔ جب طالبان کلی طور پر پوست کی کاشت ختم کر اسکتے تھے تو اب امریکا کی موجو د گی میں پوست کیوںکرکا شت ہو رہی ہے۔ امریکا کو اپنی اس ناکامیا بی کا اعتراف بھی کر لینا چاہیے۔ جنرل جا ن نکلسن نے صحافیو ں سے گفتگو کر تے ہوئے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے پاکستان کو دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق بہت واضح اورصاف الفاظ میں بتادیا تھاتاہم پاکستانی رویئے میں تبدیلی نہیں آئی ، اس کے باوجود وہ اس کے رویئے میں تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں، انھو ں نے ایک مرتبہ پھرسے پاکستان سے ڈومو ر کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی جنرل نے پاکستان کے رویئے میں تبدیلی محسوس نہیں کی حالا نکہ تبدیلی ہی نہیں بلکہ بہت بڑی تبدیلی آئی ہے جو وہ محسو س نہیں کر پارہے ہیں۔ پاکستان میں اب فوجی آمر پر ویز مشرف کی حکومت نہیں ہے جو ڈومو ر کے لیے امریکی دربا ر میں حاضر رہتے تھے ، اب پاکستان میں جمہو ری اوروہ بھی منتخب حکومت ہے جو ڈومور کے احکامات میں تبدیلی لے آئی ہے ۔

اداریہ