Daily Mashriq


فوج کا کردار … تنقید نہیں تحسین کیجئے!

فوج کا کردار … تنقید نہیں تحسین کیجئے!

گزشتہ ڈیڑھ سا ل سے فوج کو برا بھلا کہنے والوں نے بالآخر فوج کی مدد سے ہی اسلام آباد دھرنے کو ختم کیا۔ بعد از خرابی بسیار حکومت نے وہ سب کچھ مان لیا جسے وہ اول دن تسلیم کر لیتی تو بہت سی پریشانی سے بچا جا سکتا تھا۔ اس دھرنے کے دوران جو کچھ دیکھنے میں آیا اس سے ایک بات عیاں ہو گئی ہے کہ موجودہ حکمران طبقہ حکومت کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو گیا ہے۔ انہیں مسائل کو سیاسی طور پر حل کرنا آتا ہے اور نہ انتظامی طور پر وہ معاملات کو ہینڈل کرنا جانتے ہیں۔ 

پہلی بات یہ ہے کہ تحریک لبیک کا ختم نبوتؐ دھرنا پروگرام ایک سیاسی مسئلہ تھا جسے اول ترجیح کے طور پر ٹیک اپ کرنا چاہیے تھا۔ حکومت نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا اور وزیر موصوف کو عہدے سے ہٹانے سے گریز کیا‘ بعد ازاں انہیں سو جوتے اور سو پیاز کھانے پڑے۔ اگرچہ ایڈمنسٹریٹو ایشویہ نہ تھا لیکن اگر اس سے انتظامی طور پر بھی نمٹنا تھا تو کیا اس کا طریقہ یہ تھا کہ بڑی تعداد میں مظاہرین کو آنے دیا جاتا اور اسلام آباد کی شہ رگ فیض آباد میں آ کر بیٹھنے دیا جاتا؟ علامہ خادم حسین رضوی ایک ماہ سے لوگوں کو دھرنے کے لیے تیار کر رہے تھے۔ مختلف شہروں سے تحریک لبیک کے کارکن لاہور پہنچے اور طے شدہ پروگرام کے تحت وہ روانہ ہوئے۔ بڑی عجیب صورت حال ہے کہ لاہور سے ان کو روانہ ہونے دیا گیا اور کسی شہر میں بھی نہ روکا گیا تاآنکہ یہ بڑی سہولت کے ساتھ فیض آباد میں آ کر خیمہ زن ہو گئے۔

میری تمام تر ہمدردیاں تحریک لبیک یارسول ؐ اللہ کے ساتھ ہیں کہ انہوں نے ختم نبوتؐ کے ایشو پر سٹینڈ لیا اور غفلت و سازش کے مرتکب لوگوں کو عہدوں سے برطرف کرانے اور سزا دلوانے کے لیے حکومت وقت پر دباؤ ڈالا مگر اس وقت ہم جس پہلو کے حوالے سے بات کر رہے ہیں وہ موجودہ حکومت کی صلاحیت کے بارے میں ہے۔ حکومت نے دھرنے کو جس طرح ہینڈل کیا وہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر حکومتی منشاء کے مطابق آخر میں فوج میدان میں کود پڑتی تو سوچئے کہ ملک کتنے بڑے بحران سے دوچار ہو جاتا۔ چوہدری شجاعت حسین نے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ نواز شریف نے ملک کو خانہ جنگی میں دھکیلنے کی کوشش کی ہے۔ فوج نے بہتر تدبیر سے معاملہ حل نہ کیا ہوتا تو آج جس طرح وزیروں کے گھروں پر حملے ہو رہے ہیں اس طرح کل فوجی بیرکوں پر لوگ حملہ آور ہوتے کہ معاملہ ایمان کا ہے اور لوگوں کے مذہبی جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں۔ کس قدر عجیب بات ہے کہ فوج نے بیچ میں پڑ کر مسئلہ حل کیا ہے اور اب فوج ہی کو بُرا کہا جا رہا ہے۔

فوج کو بُرا کہنے والوں میں معزز عدلیہ کے ایک جج صاحب بھی شامل ہو گئے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ فوج کو ثالث آخر کس نے بنایا اور کیوں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے یہ ثالثی قبول کرتے ہوئے معاہدہ کیا اور معاہدے پر وزیر داخلہ نے دستخط کیے۔ جو کام فوج کی مداخلت کے بعد ہوا کیا وہ پہلے نہیں ہو سکتا تھا؟ پہلے تو حکومت بضد تھی کہ وزیر قانون استعفیٰ نہیں دیں گے اور یہی چیز مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ جب استعفیٰ کا مطالبہ مان لیا گیا تو باقی باتیں بھی طے ہو گئیں۔ اب مان لیجئے کہ حکومتی ساکھ کے مقابلے میں پاک فوج کی ساکھ ہمیشہ بلند رہی ہے۔ عدلیہ کے معزز جج خفا نہ ہوں کہ ان کا حکم نہیں مانا گیا اور فوج کے ایک جرنیل کے کہنے پر دھرنے والے اُٹھ گئے ہیں‘ امر واقعہ یہ ہے کہ اس دھرنے کا سیاسی حل ہونا تھا اور فوج نے سیاسی لوگوں کی ناکامی کے بعد اپنے مثبت کردار کا استعمال کرتے ہوئے مسئلے کو سیاسی انداز سے حل کر دیا ہے۔ پاکستان میں یہ کوئی انہونی نہیں ہے۔ پہلے بھی ایسا ہوتا آیا ہے کہ فوج ڈیڈ لاک کو ختم کرتی ہے اور مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔ عدلیہ بحالی تحریک میں بھی تو پاک فوج کے سالار نے کردار ادا کیا تھا‘ جب نواز شریف لانگ مارچ کرتے ہوئے گوجرانوالہ پہنچے تو وہ کون تھا جس کی گارنٹی کے بعد لانگ مارچ ختم کر دیا گیا تھا؟ کیا اس وقت پیپلز پارٹی کی حکومت نے فوج کی مدد نہ لی تھی اور کیا اس وقت معزز جج صاحبان اور وکلاء رہنماؤں نے فوج کی ثالثی پر اعتراض کیا تھا؟ حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے‘ ہوا میں گھوڑے دوڑانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستان کی زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہاں فوج کا کردار تھا‘ ہے اور رہے گا۔ پاکستان کے عوام اپنی فوج سے پیار کرنے والے ہیں۔ لہٰذا اپنی ناکامیوں کا ملبہ فوج کے سر پھینکنے کی بجائے اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اہل سیاست اور عدلیہ کی محاذ آرائی کے ذمہ دار کون لوگ ہیں؟ کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں جو مختلف حیلے بہانوں سے فوج پر تنقید کرتے ہیں اور مسلسل اپنی کوششوں میں مصروف ہیں کہ کسی طرح پاک فوج ایک قابلِ نفرت ادارہ بن جائے۔ خدارا اپنے مفادات اور اپنی انا کی تسکین کے لیے پاک فوج کی توہین اور تضحیک سے گریز کیجئے کہ اس مضبوط ادارے کے سوا ہماری قوم کے پاس کوئی اور قابل تحسین اثاثہ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں