Daily Mashriq


آنحضرتﷺسے غیر مسلموں کی عقیدت

آنحضرتﷺسے غیر مسلموں کی عقیدت

آج بارہ ربیع الاول ہے اور پوری دنیا کے مسلمان آج اس رفیع الشان اور عظیم ہستی کی ولادت با سعادت کا جشن منا رہے ہیں جن کے نور سے تا ابد یہ دنیا روشن رہے گی۔ بدقسمتی مگر یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں ہماری پارلیمنٹ نے اس طے شدہ معاملے کو چھیڑ کر پاکستان کے راسخ العقیدہ مسلمانوں کے دلوں کو دکھی کیا۔ یہ صورتحال کیوں پیش آئی اور اس کے پیچھے اصل محرکات کیا تھے۔ اس حوالے سے تادم تحریر اگرچہ پردہ پوری طرح نہیں سرکا تاہم میڈیا پر جو باتیں ہو رہی ہیں یا چھپ رہی ہیں ان سے کچھ نہ کچھ اندازہ تو ضرور ہو رہا ہے لیکن درست معلومات راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں قائم کمیٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی معلوم ہو سکیں گی۔ اسلام کے نام پر بننے والے ایک ملک کے اندر یہ صورتحال کیوں پیدا ہوئی اس کے بارے میں ہمیں ماضی میں جھانکنا پڑے گا جب انگریزوں نے بر صغیر پر قبضہ کرنے کے بعد مسلمانوں کے جذبہ حریت سے خوف کھاتے ہوئے ان کے اندر سے نظریہ جہاد کو ختم کرنے کے لئے اقدام کئے۔ چونکہ انہوں نے مسلمانوں سے اقتدار چھینا تھا اس لئے انہیں ہمیشہ یہ خطرہ رہتا تھا کہ کہیں مسلمان انگریزوں کے اقتدار کے لئے خطرہ نہ بن جائیں۔ دوسری جانب برصغیر کے غیر مسلم باشندوں نے اقتدار کی اس چھینا جھپٹی سے کوئی خاص اثر اسلئے نہیں لیا کہ اقتدار تو مسلمانوں کے پاس ہونے کی وجہ سے بھی وہ رعایا تھے اور انگریز کی حکمرانی میں بھی ان کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں آیا البتہ مسلمانوں کی نسبت غیر مسلم رعایا نے انگریزوں کا ساتھ اسلئے بھی دیا کہ اسلام کے پھیلنے سے غیر مسلم ہندوئوں اور دوسرے مذاہب کیلئے ایک مشکل صورتحال پیدا ہوگئی تھی اور خصوصاً ہندوئوں کی بت پرستی کے مقابلے میں توحید کا نظریہ ہندوئوں کیلئے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں تھا اسلئے انگریزوں کے اقتدار پر قبضے کے بعد وہ مسلمانوں سے سینکڑوں برس کا بدلہ لینے کیلئے انگریز کی خوشنودی میں ہی اطمینان محسوس کر رہے تھے جبکہ غیر مسلموں کی مکمل تائید کے باوجود انگریز اندر ہی اندر مسلمانوں کے جذبہ جہاد سے خوفزدہ تھے اسلئے انہوں نے جب ایک جانب مسلمانوں میں فرقہ واریت کو بڑھانے کیلئے سازشیں کیں وہیں بالآخر ایک ایسی شخصیت کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے جس نے نہ صرف اپنے جھوٹے نبی ہونے کا دعویٰ کیا بلکہ جہاد بالسیف کے عقیدے پر وار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اب جہاد بالسیف کا دور گزر چکا ہے اور جہاد فی القلم کا دور ہے۔ اس کذاب کا خاتمہ کیسے ہوا اس بارے میں پوری دنیا جانتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جھوٹے شخص کو غلاظت کدے میں موت کے گھاٹ اتار کر اس کے جھوٹے دعوئوں کی جس طرح تکذیب فرمائی یہ رہتی دنیا تک خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مقابل آنے والوں کیلئے عبرت کا سامان فراہم کریگی چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہونے کی حقیقت دنیا پر آشکار ہے اسلئے اس نظرئیے کو چھیڑنے والوں کا حشر بھی سامنے آتا رہا ہے۔ مسلمانوں کی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عقیدت و احترام کا جذبہ اپنی جگہ اور حضرت حسان بن ثابتؓ سے لیکر آج اور آج کے بعد تا قیامت ہادیٔ برحق کی مدحت کا سلسلہ جاری رہے گا اور مسلمان تو ایک طرف غیر مسلموں نے بھی مدحت رسولؐ میں جس طرح اپنے خیالات قلمبند کئے ہیں وہ بھی آپؐ کی عظمت کا برملا اعتراف ہے۔ جہاں آج فیس بک پر بھارت کے لا تعداد ہندو اور سکھ شعرائے کرام مدحت رسولؐ کرتے ہیں،وہاں یہ سلسلہ ماضی میں بھی جاری و ساری رہا۔ اس سلسلے میں ماہنامہ نقوش لاہور کے رسولؐ نمبر جو جنوری 1983ء میں چھپا تھا کے صفحہ 499 اور 500 پر ایک مضمون میں بعض اہم ہندو اور سکھ شعراء کی تحریریں شائع ہوئی تھیں۔ قیام پاکستان سے پہلے لاہور سے شائع ہونیوالے رسالے پارس کے مدیر شیام سندر سندرؔ نے آپؐ کو یوں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

دنیا کو تم نے آکر پر نور کردیا ہے

اور ظلمتوں کو یکسر کافور کردیا ہے

پیغام حق سنا کر مسرور کردیا ہے

وحدت کی مے پلا کر مخمور کردیا ہے

اک بار تو دیار یثرب کو دیکھ لیتا

پابندیٔ جہاں نے مجبور کردیا ہے

سندرؔ سے کیا رقم ہو وہ شان ہے تمہاری

جس نے گداگروں کو فغفور کردیا ہے

اسی طرح مسلمانوں میں بے حد مقبول جو عمومی طور پر محافل نعت میں پڑھی اور سنی جاتی ہے اس کے خالق ایک ہندو شنکر لال ساقیؔ ہیں۔ ا س نعت میں عقیدت کے پھول پیش کرتے ہوئے شاعر یوں رقمطراز ہیں۔

روشن دلم ز جلوہ نور محمدؐ است

جانم فدائے نام نکوئے محمدؐ است

یاد خداست ہمدم روح لطیف من

دل درخیال حرمت خوئے محمدؐ است

ایں بوئے خوش کہ مشک ختن یافت در جہاں

بے شبہ از عطیہ موئے محمدؐ است

دردیر ہم قبول تو ان شد نمار من

گر روئے دل زصدق بسوئے محمدؐ است

ساقی اگر چہ جامہ ہنداست برتنم

خاکم مگر زیثرب و کوئے محمدؐ است

اس عظیم ہستی کو جن کے ذکر کو خود قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر بلند فرمایا کہ ورفعنا لک ذکرک (اے محمدؐ ہم نے تمہارے ذکر کو سب سے اونچا فرمادیا) اس ہستی کی شان میں اس فقیر نے بھی یوں خراج عقیدت پیش کرنے کی جرأت کی ہے۔

ہے آپ کا رتبہ ورفعنا لک ذکرک

قرآں کا ہے کہنا ورفعنا لک ذکرک

متعلقہ خبریں