Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

سیدنا عمر فاروقؓ نے قانون مساوات نہ صرف مدینہ میں نافذ کر رکھا تھا بلکہ پوری مملکت اسلامیہ میں تمام گورنروں کویہی احکام دے رکھے تھے۔ یہاں تک کہ کھانے پینے کے سلسلے میں بھی یہی قانون سرکاری طور پر نافذ تھا۔ ایک مرتبہ جب عتبہ بن فرقہ آذر بائیجان کے حاکم بن کر وہاں پہنچے تو ان کے سامنے کھجور اور گھی سے تیار کردہ حلوہ پیش کیا گیا ۔ انہوںنے کھایا اور اسے بہت عمدہ اور شیریں پایا۔ عتبہ کے دل میں خیال آیا: کیوں نہ ایسا اچھا حلوہ امیر المومنین کی خدمت میں ارسال کیا جائے ۔ انہوںنے اس حلوے کے دو بڑے بڑے ٹوکر ے تیار کرائے اور دو آدمیوں کی معیت میں سیدنا عمر ؓ کی خدمت میں روانہ فرما دیے ۔ سیدنا عمر ؓ نے انہیں کھول کر دیکھا تو دریافت فرمایا: یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا یہ گھی اور کھجور کا تیار شدہ حلوہ ہے ۔ انہوںنے اسے چکھا ۔ معلوم ہوا کہ یہ کوئی عمدہ میٹھی چیز ہے۔ دریافت فرمایا: کیا وہاں سب لوگ گھروں میں ایسی ہی خوراک کھاتے ہیں؟ جواب دیا گیا: نہیں اس پر آپ نے حکم دیا: اسے واپس بھیج دو ، پھر عتبہ کے نام یہ تحریر لکھی۔ یہ تمہارے والدین کا کمایا ہوا مال نہیں۔ تمہیں ایسی ہی خوراک استعمال کرنی چاہیے۔جو وہاں کے عام لوگوں کو میسر ہو۔ (مناقب امیر المومنین لابن الجوزی)

مساوات کی اس سے بہتر مثال تاریخ میں نہیں مل سکتی کہ بیت المال کو حقیقی معنوںمیں صرف عوام کا مال مانا گیا۔

سیدنا عمرؓ کے خادم اسلم بیان کرتے ہیں: ایک دفعہ سیدنا عمر فاروقؓ نے اپنے ایک غلام کو ایک سرکاری چراگاہ کا نگران مقرر کیا اور اسے کام سے متعلق ہدایات دیتے ہوئے فرمایا: ’’مسلمانوں سے نرم رویہ اختیار کرنا اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت جلد قبول ہوتی ہے۔ اونٹوں اور بکریوں والوں کو اس چراگاہ میں آنے سے نہ روکنا۔ عبدالرحمن بن عوف اور عثمان بن عفان کے جانوروں کو بھی اس سرکاری چراگاہ میں چرنے دینا کیونکہ اگر ان دونوں کے جانور ہلاک ہوگئے تو یہ لوگ کھیتی باڑی اور کھجور کے باغات کی طرف رجوع کریں گے اور لڑائی کے لئے نہیں نکل سکیں گے جبکہ ہمیں جہادی معرکوں میں ان جیسے بہادر لوگوں کی سخت ضرورت رہتی ہے۔ اونٹوں اور بکریوں کے ریوڑ بھوک کے باعث ہلاک ہوگئے تو ان کے مالکان اپنے بچوں سمیت میرے پاس آجائیں گے اور کہیں گے کہ امیر المؤمنین! ہماری حاجت پوری فرمائیے! ایسی صورت میں کیا میں انہیں خالی ہاتھ واپس بھیج سکتا ہوں؟ آج ان چراگاہوں کے لئے پانی اور گھاس کی فراہمی حکومت کے لئے آسان ہے لیکن جب ان کے جانور نہ رہیں گے اور یہ محتاج ہو جائیں گے تو پھر انہیں بیت المال سے سونا اور چاندی امداد کے طور پر دینا پڑے گا۔ اگر کسی کو کم امداد ملی تو یہ لوگ خیال کریں گے کہ میں ان پر ظلم کر رہا ہوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ان چراگاہوں پر خرچ کرکے لوگوں کو جہاد کے لئے تیار کرتا ہوں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں ان کے شہروں کی قیمتی زمین کو کبھی چراگاہ کے طور پر استعمال نہ کرتا‘‘۔

(تاریخ الاسلام للذہبی عھد الخلفاء الراشدین)

متعلقہ خبریں