Daily Mashriq

افغان مہاجرین، واپسی کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں

افغان مہاجرین، واپسی کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں

پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اپنے حکمنامہ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو احکامات جاری کئے ہیںکہ ملک میں موجود افغان مہاجرین کے حوالے سے قانون کے مطابق کارروائی کریں تاکہ یہاں پر ان کی زندگی اورکاروبار کو باقاعدہ بنایا جاسکے اور پاکستانی شہری ایک پرامن زندگی گزار سکیں، دو رکنی بنچ نے دائر رٹ کو نمٹاتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزار نے جو نکتہ اُٹھایا ہے اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا کیونکہ افغان مہاجرین کی سرگرمیاں لازماً کسی قانون کے تحت ہونی چاہئے اور ان کو یہ اجازت نہیں دیناچاہئے کہ ان کی جو مرضی ہو وہ کریں کیونکہ مہاجرین کو ایک حد کے اندر زندگی گزارنا ہوتی ہے۔ متعلقہ حکام کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملک بھر بالخصوص خیبر پختونخوا میں گزشتہ چار دہائیوں سے افغان مہاجرین مقیم ہیں جن کی وجہ سے ملک کی امن وامان کی صورتحال پر اثر پڑ رہا ہے، ان افغان مہاجرین کے باعث ملک میں دہشتگردی کے بڑے حادثات ہوئے جن میں ہزاروں لوگ متاثرہوئے ہیں اور یہ ملک اور صوبے کی معیشت پر بھی بوجھ بنے ہوئے ہیں لہٰذا ان کی وطن واپسی کیلئے اقدامات کئے جائیں اور افغان مہاجرین کے ورک پرمٹ کے بغیر کام پر پابندی عائدکی جائے جبکہ افغان مہاجرین کو مکانات کرایہ پر دینے کیلئے بھی سخت قوانین وضع کئے جائیں۔ دنیا بھر میں مہاجرین کیلئے خصوصی قوانین مقرر ہیں اور ان قوانین کے تحت مہاجرین کو بسایا جاتا ہے دنیا کی تاریخ میں چار دہائیوں سے مہاجرین کا بوجھ برداشت کرنے والا پاکستان واحد ملک ہے مستزاد یہاں پر افغان باشندوں کی حیثیت تو مہاجرین اور غیرملکیوں کی ہے لیکن ان کو معاشرے کا اس طرح سے حصہ بننے کا موقع دیا گیا کہ اب ان کی تفریق اور پہچان بھی خاصا مشکل کام بن گیا ہے۔ پاکستان میں چالیس سالوں سے بسنے والے لاکھوں مہاجرین مقامی کاروبار اور روزگار کی سہولتوں میں آزادانہ طور پر پوری طرح شریک ہیں اور دلچسپ امر یہ ہے کہ ان پر رجسٹریشن محصولات اور ٹیکس دہندگی کی شرائط تک لاگو نہیں، افغان مہاجرین کا مقامی بستیوں میں آزادانہ اور بآسانی کرایہ پر مکانات حاصل کرنا بھی علت سے خالی نہیں، دنیا کے کسی بھی جنگ زدہ ملک میں اتنے بڑے پیمانے پر انخلاء اور جنگ کے خاتمے کے باوجود وطن واپس جانے پر آمادہ نہ ہونے کی تاریخ افغانوں ہی نے رکھی ہے۔ تاریخی طور پر بھی ثابت ہے کہ درۂ خیبر عبور کرکے آنے والے کبھی واپس نہیں گئے لیکن اب نہ وہ فاتحین ہیں اور نہ ہی اب وہ دور باقی رہا کہ مہاجرین کو مستقلاً بسا لیا جائے۔ دنیا کے کئی ممالک کا عالم یہ ہے کہ حکومتیں اور ریاستیں خود اس ملک کی شہریت کے دعویداروں کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں وطن عزیز میں افغان مہاجرین کو اتنے طویل عرصے تک پناہ دینے کے عوامل جو بھی تھے اور حکمرانوں کے ان کو ایک خاص دائرۂ کار میں رکھنے کی وجوہات جو بھی تھیں مہاجرین کے عالمی ادارے اور اقوام متحدہ کی جو بھی تحفظات وترجیحات ہوں، پاکستان کو اب کسی امر کی پروا کئے بغیر افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا مطالبہ کرنا چاہئے اور ایسے اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے کہ افغان مہاجرین اب پاکستان کو مزید ''دبئی'' سمجھ کر یہاں رہ نہ سکیں۔ ہمارے تئیں ان کی مکمل طور پر واپسی موسم اور حالات کی پرواہ کئے بغیر شروع کرانے کی ضرورت ہے۔ کاروبار اور آمد ورفت اور کرایہ کے مکان کے حصول کیلئے ان پر غیرملکی شہریوں کے قوانین لاگو کئے جائیں، سرحدی آمد ورفت پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر قطعی طور پر بند کی جائے۔ جب تک حکومت ٹھوس اقدامات نہیں کرے گی چالیس سال مزید بھی گزر جائیں تو یہ مسئلہ جوں کا توں رہے گا۔

متعلقہ خبریں