Daily Mashriq

ٹرمپ دورہ، طالبان سے مذاکرات کی بحالی

ٹرمپ دورہ، طالبان سے مذاکرات کی بحالی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اچانک اور خفیہ دورہ افغانستان کے موقع پر طالبان سے منقطع مذاکرات کی بحالی کے اعلان سے خطے میں امن واستحکام کا ماحول پیدا ہونے کی توقع وابستہ کی جاسکتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا تبھی ممکن ہوگا جب امریکہ یہاں اپنے مفادات کے تحفظ کیساتھ ساتھ امن پر کوئی بڑی پیشرفت کر سکے گا۔ اس سے قبل امریکہ اور طالبان کے درمیان امن کے حوالے سے معاہدہ تقریباً طے پاچکا تھا مگر کابل میں ایک حملے کو جواز بناتے ہوئے امریکی صدر نے اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعہ سارا امن عمل منسوخ کر دیا تھا جس سے افغانستان میں امن کے حوالے سے کوششیں کسی نتیجہ پر نہ پہنچ سکیں۔ اب امریکی صدر نے ایسے وقت میں افغانستان کا دورہ کیا ہے جب امن مذاکرات کی دوبارہ بحالی کیلئے طالبان کیساتھ قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے اور اس کے نتیجہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان اعتماد بحال ہوا ہے اور اس امر کے امکانات موجود ہیں کہ وہ مذاکرات جس کے نو دور ہوئے اور اس کے نتیجے میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ باقاعدہ شکل اختیار کر گیا تھا اور اس کا اعلان خود افغانستان بارے امریکی ذمہ دار زلمے خلیل زاد نے کیا تھا۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ تمام تر عالمی قوتوں کی جانب سے طاقت اور قوت کے استعمال کے باوجود طالبان نے امریکی افواج کے انخلا کیلئے ردعمل کا سلسلہ جاری رکھا اور امریکی افواج سمیت نیٹو افواج کے پاؤں یہاں سے اکھڑتے چلے گئے۔ بعدازاں پاکستان کی معاونت سے امریکہ سے طالبان نے پہلے بالواسطہ اور پھر بلاواسطہ مذاکراتی عمل شروع کیا اور مذاکراتی سلسلہ قطر میں جاری رہا اور اس کے9 ادوار ہونے کے بعد باقاعدہ یہ حتمی شکل اختیار کر گیا لیکن صدر ٹرمپ ہی کے ایک ٹویٹ نے یہ سارا عمل ختم کر کے رکھ دیا، جہاں تک علاقائی فورسز خصوصاً بھارت کے طرزعمل اور کردار کا سوال ہے تو باوجود یہاں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے بھارت یہاں امن کی بجائے دہشت گردی اور شدت پسندی کو ہوا دیتا رہا اور بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے درمیان پیدا شدہ گٹھ جوڑ علاقہ خصوصاً پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث رہا، باوجود دہشتگردی کا نشانہ بننے کے پاکستان نے افغانستان میں امن کیلئے کوششوں اور کاوشوں کا سلسلہ جاری رکھا اور پھر ایسا وقت بھی آیا کہ ایک وقت میں افغانستان میں پیدا شدہ انارکی کی صورتحال کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینے والا امریکہ بالآخر پاکستانی موقف سے رجوع کرنے پر مجبور ہوا اور مذاکرات کی میز پر آ گیا، ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں امن خطے میں استحکام کے حوالے سے ناگزیر ہے اور اگر افغانستان میں امن یقینی بنتا ہے تو اس کے معاشی فوائد پاکستان کو بھی ملیں گے۔ لہٰذا پاکستان خود اپنے مفاد میں افغانستان میں امن کیلئے سرگرم رہا ہے اور ہے اور دہشتگردی کے خاتمہ میں افغان بارڈر پر پاکستان کی جانب سے لگائی جانے والی باڑ کا عمل بھی اسی بنیاد پر ہے کہ علاقہ دہشتگردی سے پاک ہو، لہٰذا مذکورہ صورتحال کی روشنی میں ایک مرتبہ پھر کہا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں امن کیلئے امریکی کردار اہم ہے اور امریکی صدر ٹرمپ کے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے کہ وہ افغانستان میں امن اور امریکی افواج کے انخلا کی صورت میں اپنی قوم کے سامنے سرخرو ہو سکتے ہیں۔

فیصلے کو کامیابی وسازش کے ترازو میں نہ تولا جائے

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ وفاق، پارلیمنٹ اور جمہوریت کی فتح ہے، فیصلے سے ملکی اداروں میں تصادم چاہنے والوں کو شکست ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان کا ایک سے زائد مرتبہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو کامیابی سے تعبیر کرنے اور اسے سازش قرار دینے کا جواز خاصا کمزور اور بے بنیاد ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس فیصلے سے نہ تو کوئی ادارہ یا وفاق وپارلیمنٹ مضبوط ہوئی ہے اور نہ ہی اس معاملے کا تعلق کمزوری اور پھر سازش سے تعبیر کرنے کی ضرورت ہے۔ سیدھی بات یہ ہے کہ اب تک ملک میں اس سلسلے میں دانستہ ونادانستہ احتراز کی جو کیفیت اختیار کی گئی اس کا خاتمہ ہوا ہے۔ اس معاملے پر باقاعدہ قانون سازی اور معاملات کی وضاحت کے بعد ایک ایسے مسئلے کا مستقل حل ضرور نکل آئے گا جس کے حوالے سے ابہام اور غیریقینی کی کیفیت چلی آرہی تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں مؤثر اور اداروں کو مضبوط ومستحکم کرنے کا حامل قانون سازی کے بعد ہی اسے کامیابی سے تعبیر کیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ وزیراعظم کو اس معاملے کو کسی تصوراتی ترازو میں تولنے کی بجائے مفصل وجامع قانون سازی کیلئے مشاورت کا آغاز کرنا چاہئے اور پارلیمان سے متفقہ قانون منظور کرانے کی سنجیدہ مساعی پر توجہ دینی چاہئے۔

خلاف ضابطہ کاموں کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے

تمام سرکاری محکموں میں افسران کو کسی دوسرے عہدے کا اضافی چارج دینے پر پابندی کے باوجود بھی محکمۂ صحت وتعلیم سمیت تقریباً تمام محکموں میں منظورنظر افسران کو اضافی چارج حوالہ کرنے اور اس کیلئے مروجہ قواعد وضوابط نظرانداز کرنے کا وزیراعلیٰ اور متعلقہ وزراء کو نوٹس لینا چاہئے۔ محکمۂ انتظامی امور کی جانب سے رواں ماہ تک تمام اضافی چارج ختم کرنے کی ہدایت جاری کی تھی لیکن اس کے برعکس صحت اور تعلیم سمیت کئی اور محکموں میں خالی عہدوں کا چارج پہلے سے اور عہدوں پر موجود افسران کو تفویض کرنے کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ایک، ایک افسر کے پاس تین سے چار عہدوں کے اضافی چارج ہیں اور تمام عہدوں کے مراعات اور گاڑیاں بھی انہیں حاصل ہیں۔ جاری صورتحال سے افسر شاہی کی من مانی کی تو نشاندہی ہوتی ہے امکان یہ ہے کہ اس میں حکومتی عہدیداروں کی مرغی ومنشاء اور ممکنہ دباؤ بھی شامل ہے جو انصاف اور میرٹ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس ضمن میں جو طریقۂ کار طے کیا جاچکا ہے اس کی سختی سے پابندی کی جائے اور کسی کو بھی خلاف ضابطہ اختیارات عہدہ اور مراعات سے نوازنے سے کلی طور پر اجتناب یقینی بنانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں