Daily Mashriq

اہلیت، نااہلیت

اہلیت، نااہلیت

ایک اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق آرمی چیف کی سروس اور مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر قانون سازی کیلئے اپوزیشن کیساتھ ہم آہنگی کی ضرورت کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کی جانب سے جنرل قمر جاوید باجوہ کو6ماہ کی مشروط توسیع دینے کے فیصلے سے متعلق پارٹی اجلاس میں اپوزیشن پر تنقید کی۔ اجلاس میں شریک شخصیت نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان اجلاس میں اپوزیشن رہنماؤں پر تنقید کرتے رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے دہرایا کہ اداروں کے تصادم کی توقع رکھنے والے اور مافیاز سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوس ہوئے۔ علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پارٹی رہنماؤں کو کوئی مخصوص ہدایات نہیں کیں اور زیادہ تر وقت آرمی چیف کی توسیع سے متعلق کیس کی3روز تک ہونے والی سماعت کے احوال پر بات کرتے ہوئے گزارا۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرے گی اور کہا کہ عدلیہ نے کبھی آرمی چیف کی تعیناتی اور توسیع جیسے معاملے کو نہیں اُٹھایا تھا۔ اجلاس میں حکومت کی قانونی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 'اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے لیکن حکومت کی قانونی ٹیم نے قابل ذکر کام کیا'۔ بھلا حکومتی ٹیم نے کیا قابل قدر کام کیا جبکہ حکومتی ٹیم کی اہلیت کا یہ حال رہا کہ تین مرتبہ سمری تیار کی گئی پھر بھی وہ آئین وقانون سے مطابقت نہیں ہو پائی۔ بالآخر عدلیہ کو رہنمائی کرنا پڑی اور معاملہ پارلیمنٹ کے حوالے کر دیا گیا، وزیراعظم کی اکیاونوے ترجمانوں کی کھیپ جس طرح عدلیہ کے فیصلے کا جشن منا رہی ہے اس سے اندازہ یہ ہو رہا ہے کہ اپوزیشن کو اس معاملے کی قانون سازی اور ترمیمات سے دور کرنے کی جان بوجھ کر سعی کی جا رہی ہے، حالانکہ ناقدین اور ماہرین کی رائے ہے کہ حکومت کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے حزب اختلاف کی معاونت کی ضرورت پڑے گی۔ اگر جائزہ لیا جائے تو حکومتی ٹیم کی جو کارکردگی رہی ہے اس کی بنا پر عدلیہ نے جو ریماکس دیئے ہیں اس سے ثابت ہوگیا کہ وزیراعظم کی کسی بھی ٹیم میں اہلیت کا کلی فقدان کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے کہ بار بار سمری تیار ہورہی ہے اور وہ قواعد کے مطابق نہیں ہو پارہی ہے، ہر دفعہ اس میں سقم موجود رہا، اس طرح حزب اختلاف کا یہ دعویٰ سچ بن گیا۔ جہاں تک حکومتی ٹیم کی کارکردگی کا تعلق ہے تو وہ شروع دن سے گھبرائی ہوئی لگ رہی تھی جس طرح ٹیم نے اس معاملے کو لیا اس سے سارے جہاں میں جگ ہنسائی بھی ہوئی جبکہ پاکستانی قوم کے ذہن میں یہ تک آگیا تھا کہ شاید معاملہ اس نہج تک پہنچ گیا ہے کہ جنرل باوجوہ خود ہی توسیع ملازمت سے دستبردار ہونے کا اعلان نہ کردیں۔جہاں تک اس کیس کا تعلق تھا یہ اتنا گمبھیر نہ تھا کیونکہ آئین کی شق دوسو تینتالیس کے مطابق صدر مسلح افواج کا سپریم کمانڈر ہے اور تمام چیفس کی تقرریوں پر وزیراعظم کے مشورے سے صدر کے دستخط سے ہی خط جاری ہوگا، عمران خان نے یہ کام بہت متبرک جانا اور خود دستخط کر کے توسیع کا خط جاری کر دیا۔ کابینہ سے منظوری بھی نہیں لی گئی جو ضروری تھی، بعدازاں غلطی پتہ چلی تو خط صدر کو دستخط کیلئے بھیجا گیا جو دوسری حماقت تھی کیونکہ ابھی بھی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی، پھر کابینہ کے پچیس اراکین میں سے صرف تیرہ اراکین کی منظوری سے خط جاری کر دیا گیا لیکن پھر حماقت پر حماقت یہ کہ صدر کو دستخط کیلئے دوبارہ نہیں بھیجا گیا، اب یہ کیس سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس میں بدل گیا ہے جس میں یہ بھی طے ہوگا کہ کیا وفاقی حکومت کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار ہے بھی یا نہیں، آئین کی شق دو سوتینتالیس میں آرمی چیف کی توسیع کا کوئی ذکر نہیں ہے، یہ شق نارمل تقرریوں کے بات کرتی ہے۔ حیران کن امر ہے کہ وزارت قانون کے ہوتے ہوئے حکومت نے یہ عظیم غلطیاں کیسے کیں؟ اور کیا عمران خان اور ان کی ٹیم آئین سے اس قدر ناواقف ہے؟ کیا ایسے لوگ ملک چلانے کے اہل ہیں؟ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا کیس عمران حکومت کی نااہلی کا مثال ہے، چاہئے تو یہ تھا کہ حکومتی ٹیم یہ موقف اختیار کرتی کہ آئینی طور پر صدر پاکستان افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر ہیں اور افواج کا ہر فرد اپنے کمانڈر کے تابع فرمان ہوتا ہے، نظم وضبط کے مطابق ہر فوجی پابند ہے کہ وہ اپنے کمانڈر کے احکاما ت کو بجا لائے چنانچہ صدر پاکستان نے سپریم کمانڈر افواج پاکستان کی حیثیت سے توسیع کے احکامات جاری کر دیئے ہیں جس کے بعد کسی قسم کی حجت کی ضرورت باقی نہیں رہتی، ویسے بھی آئینی طور پر صدر کو عدالتی استثنیٰ حاصل ہے اس لئے نہ تو ان کو نوٹس جاری کیا جاسکتا ہے اور نہ استفسار ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے زیرصدارت اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن اتفاق رائے کیساتھ آرمی چیف کی تعیناتی اور عہدے کی مدت سے متعلق قانون پاس کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ 'ہم اتفاق رائے سے قانون سازی کریں گے، وزیراعظم عمران خان نے سینئر پی ٹی آئی رہنماؤں پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی ہے جو مطلوبہ قانون سازی کا معاملہ دیکھے گی'۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ قوم کا فخر ہیں اسی لئے اپوزیشن میں بھی کوئی ان کی مدت ملازمت میں توسیع کی مخالفت نہیں کرے گا۔ اب سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ پی ٹی آئی اتفاق رائے سے کس طرح قانون پاس کرے گی جبکہ افہام تفہیم کے ماحول کو بگاڑا جا رہا ہے اور حزب اختلاف میں ایک ردعمل پیدا ہو رہا ہے، اگر حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ جب یہ معاملہ عدلیہ میں زیربحث تھا تو حزب اختلاف کی جانب سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا بلکہ وہ خاموش ایک طرف ہوکر اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے کا انتظار کرتے رہے۔

متعلقہ خبریں