Daily Mashriq

شوق گل بوسی میں کانٹوں پہ زباں رکھنے کی سوچ

شوق گل بوسی میں کانٹوں پہ زباں رکھنے کی سوچ

سے ہمارا تعلق بس اتنا ہی ہے کہ ضرورت کے تحت سیاسی حالات پر منہ کا ذائقہ بدلنے کیلئے تبصرہ کر کے دل پشوری کر لیتے ہیں، اسلئے ہم حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں کے اس بیانئے پر بھی کسی تبصرے کی تصدیق یا تردید کے موڈ میں نہیں ہیں کہ موجودہ حکومت نااہل ہے اسلئے فوری نئے انتخابات کرا کے نئی قیادت کو اقتدار سونپا جائے، کیونکہ اگر اس بیانئے کو درست مان لیا جائے تو آج کل وہ جو سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا ٹیمیں حقیقی اور فرضی ناموں سے ایک طوفان برپا کئے ہوئے ہیں ان میں سے حکومت کے حامی الفاظ کے لٹھ لیکر پیچھے پڑجاتے ہیں جبکہ مخالفین کے سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ اس قسم کے نظریات کو لیکر قوالی شروع کردیتے ہیں، اس صورتحال کے نظارے زیادہ تر ٹویٹر پر نظر آتے ہیں جہاں بعض افراد ننگی گالیاں تک کا استعمال کر کے اپنے دل کی بھڑاس نکالتے رہتے ہیں اور اس فضول توتو میں میں اور کِل کِل میں عزت سادات کے جانے کا ڈر ہوتا ہے، اسلئے ملک میں گزشتہ کچھ دنوں سے جس طرح ایک خاص مسئلے پر عدالتوں میں حکومتی ٹیم نے اپنی شاندار کارکردگی دکھائی اس پر خود حکومتی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں جو کچھ کہا ہے اسے دوہرانے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ لیگل ٹیم نالائق ثابت ہوئی جبکہ سرکار اور اس کے اتحادیوں نے لیگل ٹیم کیخلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کردیا ہے، یعنی یہ بیانیہ یکطرفہ یعنی خودحکومتی ممبران کا ہے جس سے مخالفین کا کوئی تعلق نہیں ہے، اسلئے حزب اختلاف کی اس معاملے پر کڑوی کسیلی کو نظرانداز بھی کرلیا جائے تو خود حکومتی حلقوں کا بیانیہ ہی کسی تبصرے کیلئے کافی ہے، مگر جیسا کہ ہم نے اوپر کی سطور میں گزارش کی کہ ہمیں موجودہ حالات میں سیاسی تبصروں کی ضرورت ہی نہیں پڑتی کہ بقول ایک شاعر

پولیس نوں آکھا چور تے فیدہ کی

پچھوں کردا پھراں ٹکور تے فیدہ کی

کیونکہ جب خود سرکار والا تبار کے پارلیمانی حلقے ہی اپنی ''کمزوری'' کا اعتراف کر رہے ہیں تو خواہ مخواہ آبیل مجھے مار کے محاورے کو کیوں اپنے اوپر مسلط کیا جائے، اس لئے ایک اور تازہ ترین معاملے پر تاریخ کے تناظر میں گفتگو تک خود کو محدود کر لیتے ہیں اور وہ ہے گزشتہ روز کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور دیگر شہروں میں یونیورسٹیوں میں طلبہ یونینز پر پابندی کیخلاف طلبہ کے احتجاجی مظاہروں کی، سرکار کا خیال ہے کہ طلبہ کو تعلیمی اداروں میں صرف اچھے بچوں کی طرح سر جھکا کر صرف کتابوں تک خود کو محدود رکھنا چاہئے اور سٹوڈنٹس پالیٹکس سے خود کو دور رکھنا چاہئے۔ سرکار کے اس نظریئے پر حسب معمول بعض سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ بھی سرگرم ہو چکے ہیں اور یہی تلقین کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ طلبہ تعلیمی اداروں میں پڑھنے آتے ہیں نہ کہ سیاست سیاست کھیلنے، نظر بظاہر تو یہ ایک اچھا اور مفید مشورہ لگتا ہے، مگر اس حوالے سے ایک سوال ضرور اُبھرتا ہے کہ خداجانے اقتدار کی غلام گردشوں میں وہ کونسا جادو ہے کہ جب بندہ ان غلام گردشوں کے باہر ہوتا ہے تو وہ نہ صرف سیاست کے ذریعے ان گلیوں میں اندر جانے کیلئے بے چین اور بے تاب ہوتا ہے بلکہ وہ ہر طبقے کو بشمول طلبہ اپنے مقصد کیلئے سیڑھی کے طور پر استعمال کرتا ہے مگر جب اسے ان گلیوں کے اندر گھستے بلکہ وہاں بسیرا کرنے کا موقع مل جاتا ہے تو پھر وہ ہر طبقے خصوصاً طلبہ کو سیاست سے دور رہنے کی تلقین کرتا ہے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ یہی درس گاہیں یعنی تعلیمی ادارے ابتدائی طور پر طلبہ یونینز ہی کے ذریعے نوجوان نسل کی سیاسی تربیت کر کے آنے والے ادوار میں ملک وقوم کو جہاں دوسرے شعبوں کیلئے افراد مہیا کرتے ہیں وہیں سیاسی میدان میں بھی یہی طلبہ سیاست منجھے ہوئے سیاستدان فراہم کرتے ہیں اور طلبہ یونینز پر پابندی کا مطلب تو یہی بنتا ہے کہ ایک ذہنی غلام قوم تیار کی جائے جو انگریزوں کے دور میں بھی نہیں تھی حالانکہ اس وقت ہم انگریزوں کے غلام ہوا کرتے تھے، مگر اس زمانے میں تعلیمی اداروں میں ایسی نسل نے تربیت پائی جن کے اندر سے اُبھرنے والی لیڈرشپ نے نہ صرف غلام قوم کو آزادی کا خواب دکھایا بلکہ تحریک آزادی کی صورت میں بالآخر ہندوستان کو آزادی دلا کر ہی دم لیا جبکہ قیام پاکستان اور خصوصاً ایوبی مارشل لاء کے بعد حکمرانوں نے طلبہ یونینز پر پابندی میں ہی عافیت سمجھی، شاید ایسے ہی حالات کے حوالے سے طہٰ خان مرحوم نے تو کہا تھا کہ

عوام الناس میں تقریر فرمانے سے کیا حاصل

ضرورت تو ہے روٹی کی ہوا کھانے سے کیا حاصل

غنیمت ہے مگر جمہوریت کھائی نہیں جاتی

تو بھوکے ملک میں جمہوریت لانے سے کیا حاصل

بات ایوبی آمریت تک جاپہنچی ہے جنہیں اپنے ناجائز اقتدار کے حوالے سے ہر وقت دھڑکا لگا رہتا تھا اس لئے جہاں موصوف نے ملک کے اندر اظہار کے دوسرے ذرائع پر پابندی لگائی، یعنی صحافت پر قدغنیں لگاتے ہوئے پریس ٹرسٹ کے ذریعے اخبارات کو کنٹرول کیا، سیاسی رہنماؤں پر ایبڈو کے ایک بدنام زمانہ کے تحت پابندی لگا کر انہیں سیاست سے نکال باہر کیا اور صرف اپنی سیاسی جماعت کنونشن مسلم لیگ کو گلیاں ہون سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے کے مصداق دندنانے کی اجازت دی، اسی طرح طلبہ پر قابو پانے کیلئے ایک یونیورسٹی آرڈیننس کے ذریعے طلبہ یونینز پر پابندی لگا کر کنٹرول کرنے کی بھی ہر ممکن کوشش کی مگر ملک بھر کی یونیورسٹیوں اور کالجز کے طلبہ نے اس اقدام کیخلاف سخت جدوجہد کر کے مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کی، یہ ایک تاریخ ہے جو ہر اس شخص کیلئے سوچ کے کئی دروا کرتی ہے جو طلبہ کی سیاست میں حصہ لینے پر پابدی کے ''شوق گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دینے'' کی غلطی کے مرتکب ہوتا ہے بقول اثر جلیلی

سحر ہوئی تو اسی نے مجھے بجھا بھی دیا

تمام رات جلا جس کی انجمن کیلئے

متعلقہ خبریں