Daily Mashriq

تجھے ہم مار ڈالیں گے، نہیں تو جلد اچھا ہو

تجھے ہم مار ڈالیں گے، نہیں تو جلد اچھا ہو

آج دسمبر کے مہینے کی پہلی تاریخ ہے اور آج ہم پاکستان سمیت ساری دنیا والے ایڈز جیسے موذی اور خطرناک مرض کیخلاف عالمی دن منارہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا میں 30ملین افراد ایڈز میں مبتلا ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر تشویش ناک بات یہ ہے کہ ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر سال کم وبیش20لاکھ افراد اس موذی مرض کا شکار ہوکر موت کی گھاٹ اُتر جاتے ہیں۔

موت کیا اک لفظ ہے بے معنی

جس کو مارا حیات نے مارا

ماہرین طب کا کہنا ہے کہ ایڈز جسمانی مدافعتی نظام کو ناکارہ بنانے والے ایک وائرس سے پھیلتا ہے جو جنسی بے راہ روی کے علاوہ ایڈز کے وائرس سے متاثرہ سرنج اور سوئیوں کے دوبارہ استعمال کرنے سے بھی لاحق ہوسکتا ہے۔ ٹیکہ لگانے، ناک کان چھدوانے یا دانتوں کے علاج میں پراگندہ آلات کے استعمال کرنے سے لاحق ہوسکتا ہے، سرجری کے دوران استعمال ہونے والے آلات یا اوزار یہاں تک کے حجامت کے استعمال کئے جانے والے اُسترے، قینچیوں اور بلیڈز کے استعمال کے وقت اس بات کی تسلی کرلینی چاہئے کہ وہ پہلے سے استعمال شدہ تو نہیں کیونکہ ان کے ذریعہ جلد کے چھد جانے یا اس پر کٹ لگ جانے سے بھی اللہ بچائے ایک اچھی بھلی صحت والے فرد کے لہو میں ایڈز کا وائرس شامل ہو سکتا ہے۔ انسانی جسم میں ایڈز کا مرض ایچ آئی وی وائرس کے پلنے بڑھنے اور آخری سٹیج پر پہنچ جانے سے ظاہر ہوتا ہے۔ ایچ آئی وی کا وائرس انسانی وجود میں داخل ہوکر اس کے مدافعتی نظام کو کمزور کرنے لگتا ہے اور اگر اس کی بروقت تشخیص اور بروقت علاج نہ کروایا جائے تو مدافعتی نظام تباہ ہوکر ایڈز کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اللہ نہ کرے اگر مریض کا نزلہ زکام، بخار، کھانسی یا اسہال جیسے امرض موسمی یا عارضی امراض میں مبتلا ہوکر ٹھیک نہ ہو اور

اُلٹی ہوگئیں تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا

دیکھا اس بیماری دل نے سارا کام تمام کیا

کے مصداق مریض سو سو جتن کرنے کے باوجود ٹھیک نہ ہو رہا ہو۔ یا بلا کسی وجہ سے مریض کے وزن میں تیزی سے کمی وقوع پذیر ہورہی ہو تو سمجھ جانا چاہئے کہ اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ خدانخواستہ مریض کے جسم میں ایچ آئی وی یا مدافعتی نظام کو کمزور کرنے والا وائرس نہایت خاموشی سے تخریب کاری کر رہا ہے، ایڈز کے مرض سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو جنسی بے راہ روی سے بچائیں اور اس غرض سے صرف اپنی یا اپنے شریک حیات تک محدود رہیں۔ اگر ٹیکہ یا انجکشن لگانا ضروری ہو تو اس بات کی تسلی کرلیں کہ وہ پہلے سے استعمال شدہ تو نہیں۔ اس سلسلہ میں اگر ڈسپوزیبل اور پیک شدہ سرنج کا استعمال کیا جائے تو بہت حد تک مناسب رہے گا۔ اگر خون کی منتقلی ضروری ہو تو ایسا کرنے سے پہلے اس بات کی تسلی کرلی جانی چاہئے کہ خون دینے والا فرد ایڈز کے مرض میں تو مبتلا نہیں رہا یا مریض کو چڑھایا جانے والا خون ایڈز زدہ تو نہیں تھا۔ ہم آپ کو واضح کردیں کہ ایڈز کے جراثیم ہاتھ ملانے یا مریض کو مس کرنے سے نہیں پھیلتا، اس کے پھیلنے کے امکانات جنسی اختلاط کے علاوہ ایڈز زدہ آلات یا خون کی آمیزش سے ہوتے ہیں اسلئے ایڈز کے مریضوں سے دور بھاگنے کی بجائے اس کے قریب رہ کر اس کے علاج کی طرف توجہ دینی چاہئے جیسا کہ عرض کیا جا چکا ہے کہ ایڈز جیسا جان لیوا مرض 'ایچ آئی وی' وائرس کے بڑھ جانے سے لاحق ہوتا ہے، ہم آپ کو یہ بھی بتادیں کہ مریض کے جسم میں اس وائرس کے جڑ پکڑنے اور پھیلنے سے پہلے اس پر قابو پایا جاسکتا ہے، اسلئے اس پر ابتدائی مرحلوں ہی میں قابو پانے کی غرض سے پاکستان بھر میں 'ایچ آئی وی ایڈز' کیلئے قائم کم وبیش33مراکز صحت سے رجوع کرکے مفت ٹیسٹ کرانے کے علاوہ وہاں سے مفت ملنے والی ادویات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر ایچ آئی وی وائرس کی تشخیص کے بعد علاج نہ کرایا جائے تو اس سے تپ دق، بیکٹریل انفیکشن، کینسر اور سرسام جیسے موذی امراض کے لاحق ہونے کے خطرات رہتے ہیں، ماہرین طب کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی لاعلاج مرض ہے مگر مناسب علاج کرکے گربہ کشتن روز اول کے مصداق اس کے وائرس کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے اور یوں اس کا مریض صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔ آج عالمی ادارہ صحت، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، اسلامک میڈیکل آرگنائزیشن سمیت دیگر سرکاری وغیرسرکاری انجمنوں کے اشتراک سے ملک کے مختلف مقامات پر ریلیاں نکالنے کے علاوہ مختلف تقاریب منعقد کی جا ئیں گی تاکہ انسانی صحت کے اس موذی مرض کے متعلق آگاہی کو عام کیا جاسکے، یونیسکو، یونیسف، یو این ایڈز اور پلان پاکستان کے تعاون سے ہمارے ملک میں 14مراکز کام کر رہے ہیں اور آج یوں لگ رہا ہے جیسے یہ سب ادارے ایڈز کے مریضوں کی عیادت کیلئے نکل کھڑے ہوں

عیادت کو مری آکر وہ تاکید کرتے ہیں

تجھے ہم مار ڈالیں گے نہیں تو جلد اچھا ہو

متعلقہ خبریں