فاٹا' ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کیاجائے

فاٹا' ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ کیاجائے

اسلام آباد میں خود مختار جمہوری فاٹا جرگہ کی جانب سے فاٹا اصلاحات کمیٹی کو نام نہاد قرار دے کراس کی سفارشات کو یکسر مسترد کرنے کا کوئی حق اس لئے نہیںپہنچتا کہ محولہ جرگہ کو فاٹاکے عوام کا نمائندہ جرگہ ہونے کا حق حاصل نہیں البتہ یہ جرگہ فاٹا کی ساتوں ایجنسیوں اور ایف آر کے عوام کے ایک نمائندہ طبقے کی نمائندگی ضرور کرتا ہے جسے قبائلی عوام کی خاصی تعداد کی حمایت حاصل ہونا بھی عجب نہ ہوگا۔ فاٹا میں اصلاحات کمیٹی چونکہ سرکار کی نامزد کردہ کمیٹی ہے جس کی سفارشات سے فاٹا کے عوام کے بعض طبقات کو تحفظات ہیں۔ ملکی سیاسی جماعتوںکے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے حوالے سے موقف میں بھی تضاد ہے۔ خیبر پختونخوا کی سیاسی جماعتوں کی اکثریت فاٹا اور ایف آر کے علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کی حامی ہے جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) کو اس سے اختلاف ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا موقف بھی یہی ہے۔ ہمارے تئیں ملکی سیاسی جماعتوں کا موقف قابل احترام ضرور ہے لیکن سیاسی جماعتوں کا موقف اپنے اپنے نقطہ نظر سے ہی دیکھ کر اپنایا جاتا ہے اور سیاسی جماعتیں چونکہ اکثر معاملات کو سیاسی مفادات کی نظر سے دیکھتی ہیں اس لئے ان کے موقف کو عوامی موقف سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ قبائلی علاقہ جات کے مستقبل کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کا موقف ثانوی اور جزوی ہی گرداننا حقیقت پسندانہ امر ہوگا لیکن ان کے موقف کی قبائلی عوام میں حمایت اور اہمیت سے انکار تو ممکن نہیں مگر قبائلی عوام کا خود اس ضمن میں موقف کیا ہے۔ مجوزہ اصلاحات میں ان کو کس حد تک اعتماد میں لیا گیا ہے۔ اگر اس حوالے سے دیکھا جائے بلکہ قبائلی عوام کا بنیادی اعتراض ہی یہ ہے کہ ان کے مستقبل کے تعین میں ان کی نہ تو رائے کو اہمیت دی گئی ہے اور نہ ہی ان سے عوامی سطح پر رابطہ کیا گیا ہے۔ قبائلی عمائدین اور منتخب نمائندوں کے موقف اور کردار و عمل میں بھی یکسوئی کا فقدان ہے۔ اگر اس معاملے کو ایک اختلافی مسئلہ قرار دیا جائے تو حقیقت پسندانہ امر ہوگا۔ اس مسئلے پر نہ صرف اختلافات ہیں بلکہ آگے چل کر ان اختلافات میں شدت بھی آنے کا امکان ہے۔ جمعیت علمائے اسلام(ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی دونوں مرکزی حکومت کی اہم اتحادی ہیں اور ان کو قبائلی علاقوں میں حمایت بھی حاصل ہے اس لئے حکومت کو سیاسی مصلحت اور عوامی رد عمل دونوں کے پیش نظر ان کے موقف کو نظر انداز کرنا بھی مشکل ہے۔ اس ساری صورتحال میں خود حکومت تضادات سے دامن بچاتے ہوئے کوئی فیصلہ کرنے اور اس کو لاگو کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ مردم شماری کی تیاریاں جاری ہیں اور عام انتخابات کے انعقاد میں زیادہ وقت باقی نہیں۔ ایسے میں وفاقی حکومت شاید اس مسئلے کو اگلی حکومت ہی کے لئے چھوڑنے پر اکتفا کرے گی۔ فاٹا کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں جاری حالات اور ان حالات سے نبرد آزما قوت کی مرضی و منشا کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بہر حال فیصلہ کن قوتوں کی مرضی و منشا اور اتفاق کی جو بھی صورت ہو فاٹا کے عوام کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے قبائلی عوام کی رائے کی اکثریت ہی کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہئے۔ قرائن اور سامنے آنے والی آراء اور مطالبات سے اس کا ایک ممکنہ اور قابل قبول حل اس معاملے کے حوالے سے اصولی حکومتی فیصلے بلکہ امکانات کو حتمی شکل دینے کے بعد قبائلی عوام کی رائے معلوم کرنے کے لئے ریفرنڈم کرانا ایک موزوں اور جمہوری عمل ہوگا۔ دنیا میں اس طرح کے معاملات میں عوامی ریفرنڈم کے ذریعے ہی فیصلے کا رواج ہے جسے اختیار کرنا ہی تضادات سے محفوظ رہتے ہوئے عوام کے فیصلے کا نفاذ ممکن ہوگا۔ ہمارے تئیں قبائلی علاقہ جات کے حوالے سے یکبارگی کوئی فیصلہ معروضی حالات کے تناظر میں شاید زیادہ موزوں نہ ہو اس مقصد کے لئے عوامی رائے کے حصول کے بعد بھی اس پر مرحلہ وار اور تجرباتی بنیادوں پر عملدرآمد سے ابتداء کی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ ہمارے تئیں سب سے پہلے ایف آرز کے علاقوں کو صوبے میں ضم کیا جائے۔ اس کے بعد انضمام کا باقاعدہ آغاز اگر خیبر ایجنسی سے شروع کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ کسی ایک ایجنسی کے حوالے سے فیصلہ کرنے اور اس کو قابل عمل بنانا زیادہ آسان ہوگا۔ اگر قبائلی عوام کی اکثریت الگ صوبے کے قیام کی تجویز کی حمایت کرے تو ایسا کرنا فاٹا کے علاقائی اور جغرافیائی عدم اتصال کے باعث مشکل امر دکھائی دیتا ہے یا پھر اگر فاٹا کو مرکز کے زیر انتظام ہی رکھتے ہوئے بنیادی اصلاحات لائی جائیں تو یہ بھی ایک موزوں صورت ہوگی۔ بہر حال جو بھی صورت ہو اس کو اختیار کرتے ہوئے قبائلی عوام کو شعور کا مظاہرہ کر نا ہوگا اور حکومت کو بھی احتیاط سے فیصلہ کرنے اور فیصلے کو عملی شکل دینے میں حکمت اور بصیرت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تضادات اور اختلافات سے بچا جا سکے اور فاٹا کے عوام کو حقیقی معنوں میں قومی دھارے میں لایا جاسکے اور ان کو پورے حقوق بھی مل جائیں۔

اداریہ