جماعت الدعوة پر پابندی

جماعت الدعوة پر پابندی

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جماعت الدعوة کے سر براہ کو نظر بند کرنے اور فلاح انسانیت فائونڈیشن کے اثاثے منجمد کرنے کے لئے کس قدر شواہد اور قانونی جواز تھے اس سے قطع نظر ان امور کی انجام دہی کے بعد اب عالمی دبائو میں کمی آنی چاہئے اور پاکستان کے حوالے سے منفی رویے اور رجحانات کا خاتمہ ہوجانا چاہئے تھا۔ جماعت الدعوة اور جیش محمد کی قیادت کے خلاف کارروائی کا عالمی سطح پر مطالبہ کافی عرصے سے جاری تھا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ان تنظیموں کو دہشت گردی میں ملوث قرار دیا جاتا رہاہے جبکہ بمبئی حملے کا الزام جماعت الدعوة پر لگایا گیا تھا جن کے خلاف کارروائی بھارت کا خاص طور پر مطالبہ تھا۔ امریکہ بھی ان پر پابندی کا خواہاں تھا لیکن پاکستان کی قیادت اس کے باوجود اس ضمن میں مخمصے کا شکار رہی لیکن جب چین کی طرف سے اب کی بار اقوام متحدہ میں اس ضمن میں حق دوستی ادا کرنے سے معذرت سامنے آئی تو پاکستان کو فیصلہ کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں بدلتے عالمی حالات اور امریکہ کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات بھی سنجیدہ نوعیت کے ہونے کی بناء پر سنجیدہ اقدامات کے متقاضی تھے۔ معلوم نہیں ہماری قیادت کو دیر سے فیصلہ کرنے کی عادت سی کیوں ہوگئی ہے جو فیصلہ اب کیا گیا ہے اگر یہ فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہوتا تو پاکستان کو اتنے عرصے خواہ مخواہ مطعون نہ ہونا پڑتاا لبتہ فلاح انسانیت فائونڈیشن پر صرف جماعت الدعوة سے وابستگی کی بناء پرپابندی مناسب اقدام نظر نہیں آتا۔ فلاح انسانیت فائونڈیشن کے رضا کارزلزلہ اور سیلاب کے دوران حکومتی مشینری سے بڑھ کر اور بر وقت لوگوں کو امداد کی فراہمی کے ذریعے اپنی فلاحی خدمات ثابت کر چکے ہیں اس پر پابندی سے ا س کی فلاحی سرگرمیوں کا متا ثرہونا فطر ی امر ہوگا۔حکومت اگر فلاح انسانیت فائونڈیشن کے کڑی نگرانی میں کام جاری رکھنے کا اہتمام اور اس ضمن میں دنیا کو قائل کرنے کی سعی کرے تو یہ ایک موزو ں اقدام ہوگا ۔
آئس کا پھیلتا نشہ
خیبر پختونخوا کی جامعات میں طلباء کے ساتھ ساتھ طالبات کا بھی آئس جیسے نشے کا عادی ہوجانا خاص طور پر تشویشناک امر ہے ۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پشاور یونیورسٹی کے احاطے میں موجو د یو نیورسٹیز میں آئس نشے کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے دیگر جامعات کے ماحول کو بھی اس تناظر میں دیکھنا غلط نہ ہوگا بلکہ اطلاعات کے مطابق صوبے میںدیگر سرکاری و غیر سرکاری جامعات میں بھی اس نشے کا جا دو سر چڑھ کر بولنے لگا ہے ۔صرف کیمپسز اور نوجوانوں ہی میں نہیں پھیل رہا ہے بلکہ جسم فروش خواتین بھی اس میں ملوث بتائی جاتی ہیں۔ مختصراً یہ نشہ تیزی سے ہمارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے ۔ اس نشے کی سمگلنگ افغا نستان اور ایران سے ہو رہی ہے ۔ اس ساری صورتحال کے پیش نظر صوبے کی جامعات کی انتظامیہ کو سیکورٹی کی صورتحال کے ساتھ ساتھ اب اس خطرے کی روک تھام کی طرف بھی متوجہ ہو جا نا چاہیے ۔ والدین اپنے بچوں کو خاص طور پر نگرانی اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ذمہ داری نبھا نے پر توجہ دیں ۔ اساتذہ اپنے شاگردوں کو اس لعنت سے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ جامعات میں ماہرین نفسیات کی خدمات حاصل کی جائیں جو اس رجحان کا سدباب کرنے اور طلبہ کی رہنمائی کی خد مات انجام دیں ۔ اس نشے کی آمد کے تمام راستے مسدود د کئے جائیں انسداد منشیات فورس پولیس اور جامعات کی انتظامیہ سبھی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس ضمن میں فوری اور سنجید گی کا مظاہرہ کریں ۔
وزیر اعلیٰ وزیر صحت اور مخیر افرادسے اپیل
ہمارے موقر روزنامہ کے گزشتہ روز کی اشاعت میں لوئر دیر کی ایک بیوہ خاتون کی آتشزدگی کے واقع میں بری طرح جھلس جانے والے اکلوتے بیٹے کے علاج کے لئے وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت سے درد مندانہ اپیل شائع ہوئی ہے ۔ ویسے تو ہر علاج مہنگا ہے لیکن جلنے اور جھلس جانے کا علاج صرف مہنگا ہی نہیں بلکہ صوبے میں مناسب علاج کی سہولتیں بھی میسر نہیں۔ بہر حال صوبے میں جلنے کے علاج کی جو سہولتیں ہیں ان تک رسائی اور اخراجات کا متحمل ہونا ایک پسماندہ علاقے کی بیوہ خاتون کے بس سے باہر معاملہ ہے ۔ انہی صفحات پر ہم اکثر اس طرح کی اپیلیں کرتے ہیں جس کا وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت نوٹس لیکر بیمار کا سرکاری خرچ پر علاج کروانے کافرض نبھا نے میں تامل نہیں کرتے ۔لوئر دیر کی بیوہ خاتون کے صاحبزادے کے علاج کیلئے بھی وزیر اعلیٰ اور وزیرصحت سے بجا طور پر توقع ہے ساتھ ہی ساتھ درد دل رکھنے والے مخیر حضرات سے بھی خصوصی گزارش ہے کہ وہ دنیا میں ایک لاچار اور مجبور کے جلتے ہوئے بیٹے کا علاج کروا کریا ان کے علاج میںحتیٰ الوسیع حصہ ڈال کر عند اللہ ماجور ہوں اور بیوہ کی دعائیں لیں ۔

اداریہ