ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکا

ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکا

پانامہ لیکس کے ہنگام میں بعض بڑی خبریں ضروری توجہ حاصل نہیں کر پا رہیں جن پراہل دانش کا تبصرہ وتجزیہ نہایت ضروری معلوم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے فوری بعد جو احکامات صادر کیے ہیںان کے اثرات دنیا اور خود امریکہ پر کیا ہوں گے اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ شام کے معاملے میں روسی پیش قدمی کے بعد روسی تجزیہ کیا جارہا تھا کہ دنیا ایک مرتبہ پھر دو بڑے بلاکس میں تقسیم ہو گی لیکن میرا احساس تھا کہ شام میںروس کی مداخلت امریکاکے ایما پر ہوئی ہے۔ امریکا شام کے مسئلے کو جس طرح ہینڈل کرنا چاہ رہا تھا اس کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکا نے خود سے روس کو مداخلت کا موقع دیا۔ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد اس بات کا امکان نظر نہیں آ رہا ہے کہ امریکا اور روس دو متحارب گروہوں کی قیادت کر رہے ہوں گے۔ امریکا کی پالیسی ہوگی کہ وہ روس کو اپنی سائیڈ پر رکھ کرچین کے اُبھرتے ہوئے خطرے سے نمٹے کیونکہ عوامی جمہوریہ چین ہی وہ حریف ہے جو معاشی میدان میں امریکا کو چیلنج کر رہا ہے اور ٹرمپ کی ''امریکی مصنوعات خریدو اور امریکیوں کو ملازم رکھو'' کی بنیادی پالیسی کے مقابلے میں کھڑا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں خاص طور پر اس مسئلے کو اجاگر کیا گیا ہے کہ امریکی کمپنیاں چونکہ چین میں آپریٹ کر رہی ہیں لہٰذا امریکی لیبر مارکیٹ رفتہ رفتہ تباہی کی طرف گامزن ہے۔ چین اور امریکا کے درمیان تجارتی توازن تو اس قدر بگڑا ہوا ہے کہ 2015ء میں امریکہ نے چین کے ساتھ تجارت میں 367ارب ڈالر کا خسارہ کیا۔ چین کے صدر ژی جن پنگ نے ون بیلٹ ون روڈ کے تحت دنیا بھر میں چینی مصنوعات کی فراہمی کا جو بندوبست شروع کیا ہے اُس سے چین کی معاشی سرداری دنیا میں قائم ہونے اور تادیر رہنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ چین ون بیلٹ ون روڈ کے تصور کے تحت اپنی معاشی سرداری قائم کرنے کا کس قدر خواہش مند ہے اس کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ چین نے بنگلہ دیش کو بھی اس مد میں ایک اقتصادی پیکج دیا ہے جس کی مالیت 38ارب ڈالر ہے۔ آج امریکا روس کو ویسے ہی استعمال کرے گا جیساکہ اُس نے 70کی دہائی میں چین کے ساتھ روابط بڑھا کر اُسے روس کے خلاف استعمال کیا تھا۔ واقعتا نیشنلز م انسانیت کو آفاقی سطح سے اُٹھا کر خود غرضی اور نفسا نفسی کی نچلی ترین سطح تک لے جاتا ہے۔ کہاںوہ امریکا جو دنیا بھر کے انسانوں کو آزاد فضا میں سانس لینے کے لیے امریکا آنے کی دعوت دیتا تھا اور کہاں آج ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکا جو انسانوں کو روکنے کے لیے دیوار لگانے کی بات کر رہا ہے۔ نیویارک کے ساحل پر نصب ''مجسمہ آزادی'' ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس جگہ دنیا بھر سے آنے والے انسانوں کا استقبال کیا جاتا تھا لیکن آج امریکی صدر نے 7ممالک کے شہریوںپر امریکا میں داخل ہونے کی پابندی لگا دی ہے۔ یہ امریکی انتظامیہ کا عدم مساوات پر مبنی رویہ ہے جس کے امریکی معاشرے پر انتہائی مضر اثرات ہوں گے۔ اگر ملک ہمیشہ اندر سے ٹوٹتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا میں اس کی ابتداء ہو چکی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جس جنرل جیمز میٹس کو امریکی وزیر دفاع کا منصب عنایت کیا ہے ان کے خیالات کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ یہ وہ شخص ہے جن کاکہنا ہے کہ پولیٹیکل اسلام کا مقابلہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا سب سے بڑا سیکورٹی ایشو ہے ''اسلام '' اور ''پولیٹیکل اسلام'' کی مغربی تخصیص بھی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اسلام ذاتی عقائد اور رسوم کے اعتبار سے انہیں قابل قبول ہے لیکن ایک تہذیب اور اجتماعی زندگی کے اصولوں پر مشتمل مذہب کی حیثیت سے اسلام اہل مغرب کو قبول نہیں ہے اور وہ اسے اپنی تہذیب کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتے ہیں ۔

مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جس جنگ کی ابتداء جارج ڈبلیو بش کے عہد صدارت میںہوئی تھی ٹرمپ کے اقتدار کے دنوں میں اُس میں خوفناک شدت آنے کا قوی امکان دکھائی دیتا ہے۔ بات محض 7مسلمان ممالک کے شہریوں پر پابندی لگانے کی نہیں ہے ، دیکھا جائے تو ماسوائے ایران کے دیگر تمام ممالک میں آگ لگانے میں امریکا خود شامل رہا ہے۔ اصل مسئلہ اُس مائنڈ سیٹ کا ہے جو مسلمانوں کو دہشت گرد اور اسلام کو دہشت پھیلانے والا مذہب سمجھتی ہے۔ آج تک دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میںاسلام کو ڈائریکٹ ہدف بنانے سے گریز کیاجاتا رہا مگر اب یوںلگتا ہے کہ اسلام کو کھلم کھلا نشانے پر رکھا جائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا میں مسلمانوں کی حالت زار کیا ہوگی اس کا ایک نمونہ اخبارات میں رپورٹ ہوا ہے۔ امریکہ کے جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ پر ہونے والے ایک واقعہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک 57سالہ امریکی نے مسلم ایئر لائن کی ایک ملازمہ جس نے ہیڈ سکارف پہنا ہوا تھا کو نہ صرف گالیاں دیں بلکہ اُس پر حملہ کیا اور کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جلد ہی تم سے ہمیں نجات دلائے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکا لسانی' نسلی اور مذہبی تفریق کی بنیاد پر جس طرح تقسیم ہونے جا رہا ہے اُ سے مسلمانوں اور افریقی کالے تو ضرور متاثر ہوں گے مگر امریکہ کی اپنی سلامتی کو بھی سنگین خطرات لاحق ہوں گے۔ کالم کی ابتداء میں روس امریکا تعلقات کے حوالے سے جس ہم آہنگی کی بات میں نے کی تھی اس کا ایک جزو یہ ہے کہ اسلام کے خلاف جنگ میں یہ دونوںایک صفحے پر ہوں گے۔ امریکانے کمیونسٹ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد کوشش کی تھی کہ نئے اُبھرتے ہوئے ''پولیٹیکل اسلام'' کے خطرے کو کاؤنٹر کرنے کے لیے روس کے ساتھ مل کر حکمت عملی طے کی جائے اور اس میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی رہا۔ آج نئے تعلقات کے تناظر میں اس حوالے سے زیادہ ہم آہنگی کی توقع کی جا رہی ہے۔ یوںمسلمان ممالک کی قیادت کو دریں حالات جس ٹھوس منصوبہ بندی کی اشد ضرورت آج ہے شاید وہ پہلے کبھی نہ تھی۔

اداریہ