Daily Mashriq


منشیات۔ گہری کھائی

منشیات۔ گہری کھائی

مدّتے با گْل نشستم۔۔۔

گِلے خوش بوئے در حمّام روزے

رسید از دستِ مخدومے بہ دستم

ایک دن حمام میں، ایک مہربان کے ہاتھ سے مجھ تک ایک خوشبودار مٹی پہنچی۔

بدو گفتم کہ مشکی یا عبیری

کہ از بوئے دل آویزِ تو مستم

میں نے اس سے کہا کہ تو مشکی ہے یا عبیری (دونوں اعلیٰ خوشبو کی قسمیں ہیں) کہ تیری دل آویز خوشبو سے میں میں مست ہوا جاتا ہوں۔

بگفتا من گِلے ناچیز بْودم

و لیکن مدّتے با گْل نشستم

اس نے کہا میں تو ناچیز مٹی تھی لیکن ایک مدت تک گْل کے ساتھ نشست رہی ہے۔

جمالِ ہمنشیں در من اثَر کرد

وگرنہ من ہماں خاکم کہ ہستم

اور ہمنشیں کے جمال نے مجھ پر بھی اثر کر دیا ہے وگرنہ میری ہستی تو محض خاک ہے۔

شیخ الحدیث پروفیسر مولانا طاہر عابد ہال میں شیخ سعدی کی یہ خوبصورت حکایت سنا رہے تھے ۔پس منظر اس حکایت کا یہ تھا کہ انسان کی صحبت اسے اس صحبت جیسا کردیتی ہے ۔ کہ ایک عام سی مٹی بھی پھول کی ہم نشین ہوکر خوشبودار ہوسکتی ہے تو بھلا انسان کہ تقلید سے جس کا خمیر اٹھا ہے ۔ وہ کیسے کسی صحبت سے اثر حاصل نہیں کرے گا ۔ صحبت کی یہ بحث چھڑی بھی یوں کہ گورنمنٹ کالج پشاور کی کریکٹر بلڈنگ سوسائٹی نے ''انسداد منشیات''کا ہفتہ منایااور اسی میں ایک سیمینار کا بھی ڈول ڈالا۔ہم ایسی محفلوں میں جانا کارثواب سمجھتے ہیں کہ جس میں نوجوان نسل کا حوالہ موجود ہو۔روشن آنکھیں ، جوانی کے خون سے سرخ چہرے ، جواں جسم اورسفید یونیفارم میں ملبوس کالج کے بچے ہمہ تن گوش تھے ۔ سن رہے تھے سکالرز کی خوبصورت باتوںکواور سمجھنے کی کوشش کررہے تھے ۔ شیخ الحدیث پروفیسر طاہر عابد پشاور کی علمی فضاؤں میںعلم کی خوشبو بکھیرنے کا ایک معتبر حوالہ ہیں ۔قرآن مجید کی تفسیر ہو کہ حدیث پاک کا بیاں ،سامع کو یوں کھینچ کر عرب کے ریگزاروں میں لے جاتے ہیں کہ چشم تصور میںحضرت محمد مصطفیٰ ۖکے پاک قدموں کی چاپ بھی سنائی دینے لگے اور دل تقدیس کی کرنوں سے منور ہونے لگے ۔شیخ صاحب نے منشیات کی لعنت کو دین اسلا م کے تناظر میں قرآن اور حدیث کے حوالوں سے یوں بیان کیا کہ جی خوش ہوگیا ۔اسی محفل میں پروفیسر تنویر بھی موجود تھے ۔بلا کے ذہین انسان ، اردو انگریزی ادب کے ماہر ہیں ۔منشیات کے سماجی پہلوؤں پرروشنی ڈالتے کہہ گئے کہ منشیات کا عادی ہوکر انسان سماج سے اپنا رشتہ کاٹ دیتا ہے ۔ اس کے عزیز رشتہ دار، یہاں تک کہ گھر والے بھی اسے Disown کردیتے ہیں ۔ اور ہمارے سماج میں ایسے فعال ادارے بھی نہیں ہیں کہ جو منشیات کے چنگل میں پھنسے لوگوں کو Rehabilitae(بحالی) کے لیے مثبت کام کریں ۔ایسی حالت میں جب سٹیٹ اپنا کام نہ کررہی ہو تو خود سماج ہی کو اس کے لیے کام کرنا پڑتا ہے ۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ منشیات کا جن کب کسی معاشرے کو اپنی زد میں لیتا ہے ،ہمیں ان حوالوں کو سوچنا ہوگا۔ پولیس کے محکمے میں پڑھے لکھے لوگوں کو دیکھ کر جی خوش ہوتا ۔طاہر خان داوڑ جو پولیس میں ڈی ایس پی ہیں ۔ اس سیمینار میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے فرائض کے حوالے سے بات کررہے تھے ۔منشیات کے پھیلاؤکو روکنے میں اپنی مشکلات کاذکر کررہے تھے ۔اور ساتھ ہی اس عزم کو بھی دہرارہے تھے کہ منشیات کے خلاف ان کی جنگ جاری رہے گی ۔ اس موقع پر انہوں نے ایک نئی نشہ آور شے ICEکے حوالے سے بتایا کہ یہ نشہ جو ملک بھر میں نوجوانوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن یہ ایک ایسا خوفناک نشہ ہے کہ جو انسان کو مکمل طور پر تباہ کرکے رکھ دیتا ہے ۔انہوں نے کالج کے طلباء کو دعوت دی کہ کوئی بھی ایسی سرگرمی دیکھنے پر انہیں براہ راست مطلع کریں ۔اس سیمینار کے آخری مقرر پروفیسر ڈاکٹر فضل سبحانی تھے جو کہ گورنمنٹ کالج کے پرنسپل ہیں ۔ چائنہ سے پی ایچ ڈی کرچکے ہیں ۔ ان کادینی پس منظر اور سائنسی معلومات ان کی گفتگو کو خوبصورت انداز بخشتا ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر منشیات کے نقصانات کو سائنسی انداز میں پیش کیا کہ کیسے منشیات کا استعمال ہمارے جسم ، ہمارے اعصاب اور ہمارے اخلاقی نظام کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتا ہے ۔ سوال آگہی کا ہے ۔ شعور کا ہے ۔ بہت سے نوجوان بلا سوچے سمجھے منشیات کی اس لعنت کا شکا رہوجاتے ہیں ۔انہیں خبر ہی نہیں ہوتی کہ وہ کسی کھائی میں اترنے جارہے ہیں ۔ اس ضمن میں جہاں تعلیمی سسٹم ، سماجی اداروں اور حکومتی اقدامات کی ضررورت ہے وہیں یہاں والدین کا بھی ایک فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ منشیات کے موضوع پر مکالمہ کریں ۔ اس سیمینار کی خوبی یہ تھی کہ اس میں دینی ، سماجی ، اخلاقی اور سائنسی بنیادوں پر ایک اہم مسئلے پر بات ہوئی جبکہ اس سیمینار کا سب سے خوبصورت حوالہ طلباء کی وہ دلچسپی تھی کہ جو اس سیمینار میں ان کے چہروں سے عیاں ہورہی تھی اور یہ دلچسپی تو اس وقت ایک جوش اور ایک جذبے میں تبدیل ہوگئی جب شرکاء سیمینار اور طلباء نے انسداد منشیات کے بینرز اٹھاکرسڑک پر ایک واک کی ۔روشن آنکھوں ، جوانی کے خون سے سرخ چہروں ، جواں جسم اورسفید یونیفارم میں ملبوس کالج کے بچوں کی یہ واک ایک تابناک اور منشیات سے محفوظ سماج کی جانب ایک قدم،ایک امیدکااظہارتھی۔

متعلقہ خبریں