یہ سب کیا ہے ؟

یہ سب کیا ہے ؟

ملک میں سیاسی درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے ۔ایک لمحے کے لیے اس ہلچل سے ذرا دور ہو کر تھوڑا اونچا ہو کر ، فضا میں سے اس منظر کو دیکھیں تو صورتحال بالکل واضح دکھائی دینے لگے گی ، یہ حکومت کا آخری سال ہے ۔ اس سال میں وہ انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں ۔ عمران خان جو کچھ بھی کہیں ، عدالتیں کسی بھی سمت میں پیش قدمی کرتی دکھائی دیں یہ سال عوام کو خواب دکھانے کا سال ہے ۔ اس سال میں نئے خوابوں کے بیج بونے کی زمین تیار کی جائے گی ۔ مٹی میں ہل چلائے جائینگے ، کھاد ڈالی جائیگی ، پرانے سوکھے پودے نکالے جائیںگے ۔ اس سال میں حکومت وقت کو اپنے اگلے انتخابات کے پودوں کی آبیاری کا نظام بھی تیار کرنا ہے ۔ اور صرف حکومت وقت نہیں ،یہ سال متحرک زندہ سیاسی جماعتوں کیلئے بھی بہت اہم ہے ۔ حکومت وقت کے وزراء اپوزیشن کے حوالے سے جیسی بھی بد زبانی کرتے رہیں ، انکے بارے میں خواہ اپوزیشن لیڈر سپیکر کو فون کرکے اپنے خدشات کااظہاربھی کریں کہ بعض و زراء ماحول سازگار بنانے کی راہ میں رکاوٹ ہیں اور اگرا ن کا یہی رویہ رہا تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اس کے باوجود اس میں کوئی شک نہیں کہ ان وزراء کی زبان بندی ممکن ہی نہیں ۔سپیکر سے خواہ جس قد ربھی تشویش کااظہار کیا جائے ان وزراء کو وزیراعظم نے اس خصوصی ایجنڈے پر خود مامور کیا ہے ۔ کہیں سے کوئی آواز آئے یہ وزراء اپنے کام پر شروع ہو جاتے ہیں ۔ جناب خورشید شاہ کو تشویش کے اظہار کی ضرورت تو نہ تھی انہیں تو اس بات پر خوش ہونا چاہیے کہ یہ وزراء ان کی جانب سے بھی اصلی اپوزیشن کو جواب دے رہے ہیں ۔پیپلز پارٹی اب کوئی اپوزیشن تو نہیں ۔ جن معاملات کے حوالے سے تحریک انصاف بات چیت کر رہی ہے ۔ لوگوں میں ادراک اور فہم کو جنم دے رہی ہے ان حوالوں سے تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے عوام کے سامنے صرف پنگ پانگ کھیلی ہے ۔ ایک دوسرے کے احتساب کی باتیں ضرور کی ہیں لیکن کبھی حقیقی احتساب کی جانب ایک قدم نہیں بڑھا یا ۔ یہ سیاست دان ہیں وہ سیاست دان جو اپنے ہی ملک ، اپنی ہی ریاست کے کبھی وفادار نہیں ہوئے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس ملک کے مفادات کی سودے بازی میں ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے رہے ہیں اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں بھی مصروف رہے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں کیا لوٹ مار مچی رہی کیا جناب خورشید شاہ کو خو د اندازہ نہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اپنے مقاصد کے حصول کیلئے تکنیکی صلاحیتوں کو بھر پور بروئے کار لاتی ہے اور پیپلز پارٹی آصف زرداری کی سربراہی کے باوجود ابھی تک طاق نہیں ہوسکی ۔ اسکی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پیپلز پارٹی ایک مخصوص سوچ کے لوگوں کی پارٹی ہے ۔ اس میں شاید ایسے لوگ ابھی تک شامل ہیں جو صرف بد عنوانی میں ہی یقین نہیں رکھتے ۔ مسلم لیگ (ن)تو اوپر سے لے کر نیچے تک مفاد پرستوں اور خوشامد پسندوں کی سیاسی جماعت ہے ۔جہاں خوشامد اس قد ر پسند کی جاتی ہو ، وہاں اصولوں کی قبر یں بنتے دیر نہیں لگتی ۔ اور ان کی باتوں میں لمحہ بھر کیلئے بھی سچائی محسوس نہیں ہوتی ۔ پاکستان تحریک انصاف بنیادی طور پر ایک بہتر سیاسی جماعت ہے ۔ان پر جس قدربھی اعتراضات کیے جائیں اور جیسا بھی اصولی اختلا ف محسوس کیا جائے ، ان کے جلسوں میں ہونے والے ناچ گانے سے انسان جتنا بھی متنفر ہو ، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کم تربرائی ہے ۔ 

وہی کم تر برائی جو آئی جے آئی بنا تے ہوئے قاضی حسین احمد نے مسلم لیگ میں دیکھی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہو سکتا ہے تحریک انصاف میں احتساب کا ایک ایسا کلچر بن جائے جو انہیں بہتر کر دے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وقت صرف اچھائی کے خد و خال مٹا نے میں ہی ممد و معا ون ثابت ہو ۔ بہر حال اس وقت تحریک انصاف جو باتیں کر رہی ہے۔ جس طو ر کرپشن کی نشاندہی ہے اور اسکے خلاف جیسے علم بلند کیئے ہوئے ہے ، اس کو سراہا جانا از حد ضروری ہے ۔اگر آج سراہا نہ گیا تو شاید یہ معاملہ بھی یوں ہی ختم ہو جائے ۔ اور یہ ملک جس میں بد عوانی بر ساتی پتنگو ں کی طرح دکھائی دیتی ہے ، اس میں لوگوں کو یہ احساس ہی ختم ہو جائے کہ کوئی نظام اس بد عنوانی کے بغیر بھی چل سکتا ہے ۔

اداریہ