ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں

لگتا ہے ہمارے حساب کتاب کا پیمانہ گڑ بڑ ا گیا ہے ۔ ایک آدھ سال پہلے ہر سیاسی رہنماء ، رائے عامہ کا ہر کردار یہی کہتا پھرتا تھا کہ پاکستان کی آبادی 16کروڑ ہے ، چند ماہ بعد اچانک اس میں تبدیلی لا کریہ تعداد 18کروڑ بتائی جانے لگی اور پھر مزید کچھ عرصہ بعد ایک ہی جست میں 22کروڑ کا ہندسہ ذہنوں کے سکرین پرجھلمل کرتا نظر آیا ، اور جسے دیکھو آبادی کی تعداد 22کروڑ بتانے لگا خصوصاً مختلف ٹی وی چینلز کے ٹاک شو ز میں یہی ہندسہ بار بار دہرایا جانے لگا ، مگر اب پھر 22کروڑ سے کم کر کے کہیں 20کروڑ پر آکر ٹک گیا ہے ، شاید اس لئے کہ 18کروڑ کے بعد ایک ہی زقند بھر کر جس طرح اچانک اسے 22کروڑ کر دیا گیا تھا ، تو کچھ لوگوں کویہ احساس ستانے لگا تھا کہ شاید غلط ہوگیا ہے اور 18 کے بعد ایک ہی لمبی چھلانگ میں 22کروڑ نہیں رہا ، اس لئے بہتر ہے کہ ''آنے والی تھاں'' پر آکر بس 20کروڑ پر ہی اکتفا کر لیا جائے ۔ مگر بات پھر بھی نہیں بنی کہ 22کروڑ کا کلیہ استعمال کرنے والے بھی میدان میں موجود ہیں اور مراجعت کرتے ہوئے 20کروڑ پر اکتفا کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ، اب دیکھنا یہ ہے کہ درست کون ہے ، 20کروڑ والے یا 22 کروڑ کا ہندسہ بتانے والے ، ویسے مردم شماری کے بغیر تو کوئی بھی ہندسہ درست نہیں ہو سکتا ، اور جہاںتک درست ہندسہ معلوم کرنے کا اصولی اور سائنسی طریقہ ہے اس کیلئے تو حکومت اتنی آسانی سے تیا ر ہی نہیں تھی بلکہ گزشتہ کئی حکومتوں نے اس کام کو سنجید گی سے لینے کی ضرور ت ہی محسوس نہیں کی تھی۔ کبھی راضی نہ ہوتی بلکہ جس طرح ہر پیشی پر یہی رٹ لگائی جاتی رہی کہ فوج کی نگرانی کے بغیر یہ کام ممکنا ت میں سے نہیں ہے یوں ہر بار کچھ نہ کچھ وقت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی مگر بھلا ہو سپریم کورٹ کا کہ اس نے بالآخر نہ صرف حکومت کے سارے کس بل نکال کر اسے ملک میں مردم شماری پر مجبور کر دیا بلکہ آرمی چیف نے حکومتی بہانے کو ناک آئوٹ کرتے ہوئے مردم شماری کیلئے افواج پاکستان کی ایک انتہائی معقول تعداد کی فراہمی کو بھی یقینی بنادیا ہے یوں پہلے مرحلے کے طور پر خانہ شماری اور دوسرے مرحلے میں مردم شماری کا کام فوج ہی کی نگرانی میں مکمل کرکے گزشتہ حکومتوں بشمول موجود ہ کے تمام حیلے بہانے ختم کر دیئے جائیں گے ۔ اسی طرح وہ مقولہ کہ دل میں بے ایمانی ہو تو بہانے ہزار کو ناکام کر کے حکومت کی تمام حکمت عملیوں کو ناکامی سے دوچار کر دیا گیا ۔ 

پانی میں عکس دیکھ کے خوش ہورہے تھے ہم
پتھر کسی نے پھینکا تو منظر بدل گیا
حیرت کی بات یہ ہے کہ خواہ ملک کی آبادی 16کروڑ بیس یا 22کروڑ اس میں جب بھی اضافہ بتایا گیا اس کا فائدہ صرف ایک ہی صوبے کو ہوا کہ باقی صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے کبھی ان کا جائز حق ملا نہ ہی کسی نے دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب سے نئی مردم شماری کی بات ہو رہی ہے خیبر پختونخوا کے ایک اہم سیاسی رہنماء آفتاب احمد خان شیر پائو نے اس حوالے سے صوبے کے ساتھ روا رکھے جانے والے مبینہ ناروا سلوک کی نشاندہی کرتے ہوئے مردم شماری کو درست طریقے سے کرانے کے مطالبات شروع کر رکھے ہیں۔ اس چیخ و پکار کی تو ہمیں ایک ہی سمجھ آتی ہے کہ اس وقت پختونوں کے لاکھوں شناختی کارڈز بلاک کرکے نادرا والوں نے پختونوں کی باشندگی کو خطرات سے دو چار کر رکھا ہے اور ا گر مردم شماری کے دوران ان بلاک شدہ شناختی کارڈوں کے باشندوں کو نادرا کے ڈیٹا بیس کے ساتھ ملا کر انہیں پاکستان کے شہری تسلیم کرنے سے انکار کردیاگیا تو یہ پختونوں کی آبادی کم کرنے کی ایک شعوری کوشش ہوگی جس کے نہ صرف ملک بلکہ خصوصاً خیبر پختونخوا کی آبادی پر منفی اثرات پڑنے کی وجہ سے آئندہ برسوںمیں آبادی کے لحاظ سے قومی وسائل میں جائز حصے سے محرومی کے ساتھ ساتھ قومی' صوبائی اسمبلیوں اور بعد میں سینٹ میں نشستوں کے حوالے سے تعداد میں ممکنہ اضافے کو بھی سبو تاژ کرنے کی گہری سازش کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ حال ہی میں لاہور میں رہائش پذیر پختونوں نے نادرا کی جانب سے ان کے شناختی کارڈز بلاک کرنے اور انہیں وہاں تنگ کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔مگر ایسا لگتا ہے کہ کسی کے کانوں پر جوں تک رینگنے کی ضرورت کا احساس تک نہیں ہو رہا ہے۔ اس میں قطعاً شک نہیں کہ بہت سے افغان مہاجرین نے بھی پاکستان کے شناختی کارڈز بنوا رکھے ہیں جن کی چھان بین بالکل جائز ہے مگر اس کی ذمہ داری پاکستان کے حقیقی باشندوں پر تو عائد نہیں ہوتی اس لئے انہیں کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟ یہ تو وہی صورتحال ہے کہ
دو پہر تک بک گیا بازار کاہر ایک جھوٹ
اور میں اک سچ اٹھائے رات تک بیٹھا رہا
پختونوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس ناروا سلوک پر صوبائی اسمبلی بھی خاموشی کی بکل اوڑھے ہوئے منقار زیر پر دکھائی دیتی ہے۔اگر مردم شماری کے اس اہم موقع پر ہمارے منتخب سیاسی رہنماء یونہی منہ میں گھونگھنیاں ڈالے چپ سادھے رہیں گے تو پھر صوبے کے جائز حقوق کے حصول کا موقع آگے آنے والی مردم شماری (جو موجودہ ممکنہ مردم شماری کے دس سال بعد بھی متوقع نہیں) تک ضائع ہو جائے گا اور نہ صرف قومی محاصل میں صوبہ جائز حقوق سے محروم رہے گا بلکہ اسمبلیوں میں آبادی کے تناسب سے نمائندگی بھی نہیں ملے گی۔
اس لئے اس ضمن میں صوبے کی جملہ سیاسی قیادت کو بلاتخصیص اور پارٹی پالیٹیکس سے اوپر اٹھ کر حقوق کے حصول کے لئے یک آواز ہونے کی ضرورت کا احساس ہونا چاہئے ۔ اب تو ان معزز ممبران کو اپنی تنخواہوں میں چار سو فیصدکے اضافے کی منظوری سے بھی چھٹکارا مل گیا ہے اور یہ اس ''اہم مقصد'' میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اس لئے اب ذرا صوبے کے مفادات پر بھی ایکا کرکے دیکھیں تاکہ عوام کو بھی فائدہ مل سکے۔ ایسے نہ ہو کہ منیر نیازی کے مصرعے یاد دلانا پڑ جائیں کہ
ضروری بات کرنا ہو کوئی وعدہ نبھاناہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو
سی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو
ہمیشہ دیرکر دیتا ہوں میں ہرکام کرنے میں

اداریہ