Daily Mashriq


ٹرمپ بمقابلہ مودی

ٹرمپ بمقابلہ مودی

امریکی ذرائع ابلاغ اس وقت حالتِ جنگ میں نظر آ رہا ہے جس کی وجہ ٹرمپ کا صدارت کا حلف اُٹھانا اور اس کے بعد نئے منتخب صدر کی طرف سے جاری ہونے والے فیصلے ہیں جو اس وقت امریکہ کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں موضوعِ بحث بنے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ذرائع ابلاغ میں ان اقدامات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ صحافی برادری ٹرمپ کے مخالفین کو اس بات کا موردِ الزام بھی ٹھہرا رہی ہے کہ انہوں نے ٹرمپ کو 'نارمل' ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ اگر ہم ٹرمپ کی صدارتی مہم پر نظر دوڑائیں تو بہت سی باتیں ایسی ہیں جو کسی طرح سے بھی نارمل کے زمرے میں نہیں آتیں لیکن اپنی انتخابی مہم کے مقابلے میں صدارت کا حلف اُٹھانے کے بعد ٹرمپ کافی نارمل دکھائی دیتے ہیں۔یہاں پر ایک بات نہایت قابلِ غور ہے کہ ٹرمپ ایک ایسے جمہوری نظام کے ذریعے صدر بنے ہیں جس کی مثالیں پوری دنیا میں دی جاتی ہیں۔ ایک ایسا جمہوری نظام جو برداشت ، ثقافتی ہم آہنگی اور اجتماعیت کا استعارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی شخصیت کس حد تک امریکی جمہوری اقدار پر اثر انداز ہو سکتی ہے ؟ یہاں پر دنیا کی ایک اور بڑی 'جمہوریت ' کے ساتھ امریکہ کا تقابل ناگزیر نظر آ رہا ہے۔ ایسے لوگ جو اس وقت ٹرمپ کے 'نارمل' ہونے کی حمایت کررہے ہیں اس وقت بالکل خاموش تھے جب نریندر مودی بھارت کے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تھے۔ یہاں پر یہ یاد رکھنا نہایت ضروری ہے کہ اپنے انتخاب کے موقع پر امریکہ سمیت تہذیب یافتہ دنیا کے بہت سے ممالک میں مودی کے داخلے پر پابندی تھی ۔ مودی پر پابندیوں کی وجہ ان کے دورِ حکومت میں گجرات میں ہونے والا مسلمانوں کا قتلِ عام ہے جس کو روکنے کے لئے بطورِ وزیرِ اعلیٰ انہوں نے کوئی اقدامات نہیں کئے تھے۔ مودی پر مسلمانوں کے قتلِ عام کے حوالے سے عینی شاہدین، متاثرین، سرکاری عہدیداروں اور سنجیو بھٹ اور ٹیسٹا سٹالویڈ جیسے انسانی حقوق کے علمبردارو ں کی جانب سے بہت سے سنگین الزامات عائد کئے گئے تھے۔ انسانی حقوق کے ان کارکنوں اور مودی کے خلاف بیان دینے والے دیگر افراد پر آج بھی بھارت میںعرصہ حیات تنگ ہے۔ لیکن جہاں تک وزیرِ اعظم بننے کی بات کی جائے تو ان کو قبول کرنے میں کسی خاص تردد سے کام نہیں لیا گیا۔ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کو آج تک ایسے کسی ایک الزام کا بھی سامنا رہا ہے جیسے الزامات مودی پر عائد کئے جاتے رہے ہیں ؟یہاں پر یہ بات نہایت دلچسپی کا باعث ہے کہ بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر سٹیٹ کہتا ہے لیکن دونوں الفاظ اس نے مغرب سے ہی مستعار لئے ہیں ۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی ) دراصل راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) کا سیاسی ونگ ہے جس کو ماضی میں کچھ زیادہ پذیرائی حاصل نہیںتھی۔ بی جے پی کی مرکزی سیاسی دھارے میں شمولیت اس وقت شروع ہوئی جب اٹل بہاری واجپائی بی جے پی سے تعلق رکھنے والے پہلے وزیرِ اعظم بنے۔یہی وہ وقت تھا جب بی جے پی کی قیادت نے اپنے انتہا پسند ایجنڈے کو ہندو نیشنل ازم کا نام دینا شروع کردیا۔ یہاں پر سب سے زیادہ پریشان کُن بات دنیا کی خاموشی ہے جس نے ہندو انتہا پسندی کو ہندو نیشنل ازم کے طور پر قبول بھی کر لیا۔ اگر طالبان خود کو پشتون یا مسلم قوم پرست کہنا شروع کردیں تو کیا دنیا اس دعوے کو قبول کر لے گی ؟ بالکل بھی نہیں اور نہ ہی ہم میں سے کسی کو اس دعوے کو قبول کرنا چاہیے۔ اب مودی اور ٹرمپ کی ذاتی زندگیوں کا موازنہ کرتے ہیں۔ ٹرمپ ایک نہایت کامیاب بزنس مین اور ٹی وی سٹار ہیںجنہوں نے دنیا کے ایک بہترین بزنس سکول سے ڈگری حاصل کی ہے۔اگرچہ ٹرمپ کی پچھلی دو شادیاں ناکام ہوچکی ہیں لیکن انہوں نے اپنے بچوں کی اچھی پرورش کی ہے۔ دوسری جانب مودی ابھی تک کنوارے ہیں اور ان کی جعلی ڈگری کی کئی خبریں منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔ اس کے علاوہ مودی کی ذاتی زندگی کے بارے میں ایسی کوئی خاص بات نہیںہے جسے بیان کیا جاسکے۔ٹرمپ کی مخالفت سراسر اصولی بنیادوں پر کی جارہی ہے اور ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دوران بھی انہوں نے صرف لفظوں کی حد تک جارحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔ یہ امریکہ ہے جہاں پر کئی دہائیوں سے قائم 'کلو کلکس کلان ' جیسی انتہا پسند تنظیم بھی چند ہزار سے زائدامریکیوں کو اپنا ممبر بنانے میں ناکام رہتی ہے۔یہ امریکہ ہے جہاں پر آزادیِ رائے، جمہوریت، اجتماعیت اور آزادیِ اظہار جیسی اقدار کے لئے سخت جدوجہد کی گئی ہے۔دوسری جانب بھارت امریکہ نہیں ہے۔ بھارت کے باشندے مودی سے کہیں بہتر قیادت کے حق دار ہیں جو انہیں انتہا پسندی کے اندھیروں کی بجائے ترقی پسندی اور خوشحالی کی طرف لے کر جاسکے۔ ایک ایسی قیادت جو معاشی ترقی کی آڑ میں انتہاپسندی ایجنڈے پر کارفرما نہ ہو۔ مودی کے انتخاب کے موقع پر بھارتی سول سوسائٹی کا شدید ردِ عمل سامنے آنا چاہیے تھا لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہوسکا۔ اس سے بھی زیادہ افسو س ناک بات یہ ہے کہ مودی کے انتخاب کے وقت پوری دنیا کی زبانوں پر تالے لگ گئے تھے۔ یہاں پر میرا عالمی ضمیر سے ایک سوال ہے کہ اگر ایک ایسے انسان کو قبول کیا جاسکتا ہے جس کے ہاتھوں پر لاتعداد معصوم انسانوں کا خون لگا ہو ا ہے تو پھر ٹرمپ کو کیوں نہیں ؟

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں