عدالتی فیصلوں سے کھلواڑ نا مناسب ہے

عدالتی فیصلوں سے کھلواڑ نا مناسب ہے

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ فوج اورعد لیہ سے کوئی پس پردہ بات چیت نہیں ہو رہی۔ اداروں کے درمیان رشتے آئین نے بنا دئیے ہیں اور اس کے تحت ساری بات چیت سامنے ہی ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ احتساب صرف سیاستدانوں کا ہی ہو رہا ہے‘ پارلیمنٹ کو اختیار ہے کہ وہ جو قانون بھی بنائے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلے ایسے ہونے چاہئیں کہ تاریخ میں یاد رکھے جائیں۔ اب ایسے فیصلے ہو رہے ہیں کہ جن کاتاریخ میں شاید حوالہ نہ دیا جاسکے۔ منگل کو اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج اور عدلیہ ملک کے ادارے ہیں اور سب کا مقصد ملک کی بہتری ہے۔ سیاست کے فیصلے عدالتوں میں نہیں عوام میں ہوتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستانی سیاست کے رنگ ڈھنگ اور سیاستدانوں کے خیالات کے حوالے سے حتمی رائے دینا قدرے مشکل ہے۔ وجہ یہی ہے کہ سیاستدان اپوزیشن کے دنوں میں جن عدالتی فیصلوں پر تحسین کرتے ہوئے آسمان سر پر اٹھاہوئے ہوتے ہیں اقتدار کے دنوں میں اس طرح کے بعض فیصلوں پر ناک چڑھاتے ہوئے بسا اوقات ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں کہ عام آدمی حیران ہوتا ہے کہ یہ خیالات اپنے ہی ملک کی عدالتوں بارے ہیں یا پھر پڑوسی ملک کی۔ اداروں کے درمیان دستوری طریقہ کار کے مطابق مشاورت اگر ہوتی ہے تو اس پر اعتراض کس کو ہے۔ بالفرض حکومت اسے ضروری خیال نہیں کرتی تو اس وضاحت کی ضرورت کیا تھی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی معاملے کی پردہ داری مقصود ہے۔ اس پر دو آراء ممکن نہیں کہ قانون سازی کا حتمی اختیار بہر طور پارلیمنٹ کو ہی ہے نیا قانون بنانے‘ پہلے سے موجود قوانین میں ترامیم یا کسی قانون کو یکسر ختم کردینے کے پارلیمنٹ کے حق پر اعتراض نہیں البتہ یہ کون طے کرے گا کہ قانون سازی کے وقت پارلیمان نے کسی فرد واحد یا خاص طبقے کے مفاد کو مد نظر رکھا یا عوام کے اجتماعی مفاد میں قانون سازی کی؟ وزیر اعظم کے مذکورہ خیالات کا اگر موجودہ حالات کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ وہ نا اہل شخص کو پارٹی صدارت پر برقرار رکھنے کے لئے کی گئی حالیہ قانون سازی پر قانونی حلقوں کے اعتراضات اور اس حوالے سے سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے حوالے سے اپنے دل کی بات کر رہے ہیں۔ زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ وہ اپنی گفتگو میں اس معاملے کا ذکر نہ کرتے اور اگر وزیر اعظم کی حیثیت سے وہ اظہار خیال کرنا ضروری سمجھتے تھے تو مناسب فورم پارلیمان ہے۔ مسلم لیگ(ن) جس سے وزیر اعظم کا تعلق ہے اس کے سربراہ جناب نواز شریف ایک عدالتی فیصلے پر نا اہل ہوئے اور پارلیمان میں اکثریت کے بل بوتے پر حکومت نے نا اہل شخص کو پارٹی صدارت پر فائز رکھنے کے لئے قانون سازی کرلی اب یہ قانون اور جناب نواز شریف کی اہلیت ہر دو سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ اصولی طور پر تو حکومت وقت کا فرض ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں کا احترام کرے مگر ہمارے یہاں ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت‘ نون لیگ اور خود سابق وزیر اعظم نواز شریف پچھلے چند ماہ سے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ سپریم ورٹ کا فیصلہ جمہوریت اور شریف خاندان کے حق حکمرانی کی توہین ہے۔ سابق وزیراعظم ان کے رفقاء چند وفاقی وزراء اور خود جناب وزیر اعظم نے بعض عدالتی فیصلوں کی بھد اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہماری دانست میں عدالتی فیصلوں پر قانونی آراء اور فیصلوں کو لے کر انکار کی تکرار کرتے ہوئے معزز جج صاحبان کو متنازعہ قرار دینا دو الگ الگ معاملات ہیں۔ ایک ایسے ملک میں جہاں دستور و قانون کی بالادستی 70برس گزر جانے کے بعد بھی ایک خواب ہی ہو وہاں اگر حکومتی ذمہ داران بھی اگر عدالتی فیصلوں پر رائے زنی کرتے ہوئے احتیاط کا دامن چھوڑ دیں تو کسی دوسرے سے عدالتی احترام کا تقاضہ عجیب لگتا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے حکمران طبقات میں سے بہت کم لوگ دستور اور قانون کے تقدم کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں۔ غالب اکثریت خود کو ہر قانون سے ماورا خیال کرتی ہے۔ اس احساس برتری کے پیدا کردہ مسائل کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ہماری رائے میں کسی عدالتی فیصلے سے اختلاف کے اظہار کا سیدھا سادہ طریقہ یہ ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرکے عدالتوں میں اپنا موقف ثابت کیاجائے۔ عدالت کے فیصلے پر عوامی اجتماعات میں انکار کی دھمال اگر حکومتی سرپرستی میں ڈالی جائے تو اس کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔بلا شبہ عوام کو اپنی قیادت کے انتخاب کا مکمل حق ہے‘ جمہوریت اس کو کہتے ہیں لیکن کیا انتخابی قوانین کی ساکھ اور بالادستی اتنی نہیں ہونی چاہئے کہ کوئی عادی جرائم پیشہ اور سزا یافتہ شخص قانون کی آنکھ میں دھول جھونک کر انتخابی سیاست کے اکھاڑے میں نہ اتر سکے؟ احتساب اگر صرف سیاستدانوں کا ہی ہو رہاہے تو اس سوال کاجواب وزیر اعظم اور ان کے رفقاء کے ساتھ پارلیمان پر واجب ہے کہ پچھلے پونے پانچ سال میں اجتماعی احتساب کے لئے قانون سازی کرکے ایک مرکزی ادارہ قائم کرنے میں کیا امر مانع تھا؟ قانون سازی کے حوالے سے اپنی ناکامیوں یا دوسرے معاملات کا ملبہ عدالتوں یا کسی دوسرے ادارے پر ڈالنے کی بجائے زیادہ مناسب یہ ہوگا کہ قانون کی بالادستی کا احترام کیا جائے۔ دستور جہاں اداروں میں باہمی تعلق قائم کرتا ہے وہیں اداروں اور افراد کی حدود کا تعین بھی کرتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وزیر اعظم اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ عدالتی فیصلوں اور جج صاحبان کو عوام میں متنازع بنانے کی بجائے دستوری طریقہ کار کے مطابق مناسب فورم پر اپنے موقف کا دفاع کریں تاکہ ایسا بگاڑ در نہ آئے کہ کل کو کوئی بھی شخص آج کی روش کو مثال بنا کر عدالتوں کے فیصلے ماننے سے انکار کردے۔

اداریہ