Daily Mashriq


دہشت گردی کے خلاف افغانستان سے پاکستانی تعاون

دہشت گردی کے خلاف افغانستان سے پاکستانی تعاون

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اپنے ٹیوٹر پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان نے نومبر 2017ء میں طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے تعلقات رکھنے والے 27مطلوب افراد کو افغانستان کے حوالے کیا۔ حوالگی کو افغان حکومت کی خواہش پر راز میں رکھا گیا ، اب اس کے اعلان کا مقصد اس تاثر کو زائل کرنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا نہیں کر رہا ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ نومبر 2017ء میں مطلوب افراد کی افغانستان کو حوالگی پہلا موقع ہر گز نہیں ماضی میں بھی افغان حکومت کو مطلوب افراد اگر پاکستانی سر زمین پر پائے گئے تو انہیں گرفتار کرکے افغانستان کے حوالے کیا گیا۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے ان برادرانہ اقدامات کے باوجود افغان حکومت کے ذمہ داران منفی پروپیگنڈے اور بھارت کی زبان بولنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اس پر ستم یہ ہے کہ افغان حکومت نہ تو اپنی سر زمین سے پاکستان کے خلاف ہوئی دہشت گردی کی کارروائیوںکو روک سکی اور نہ ہی سرحدی خلاف ورزیوں کے ریاستی واقعات سے پیدا شدہ مسائل کے تدارک کے لئے موثر اقدامات کئے گئے ۔ اسی طرح یہ امر افغان حکومت ، نیٹو اور امریکی حکام پر بھی عیاں ہے کہ پاکستان کو مطلوب ٹی ٹی پی کے دونوں گروپوں اور بعض دوسری تنظیموں کے دہشت گردوں کی بڑی تعداد نہ صر ف افغانستان میں موجود ہے بلکہ وہاں بیٹھ کرپاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو منظم بھی کرتے ہیں ۔ متعدد بار کی درخواستوں اور پیش کئے گئے شواہد کے باوجود افغانستان نے اپنی سرزمین پر موجود دہشت گرد گروپوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔ افغان حکومت کے ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا کہ دوطرفہ تعاون ، بہتر تعلقات کار کی اہمیت دوچند ہے مگر یہ امر بھی بہت ضروری ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان اپنا کردار ادا کرنے کی بجائے محض الزام تراشی کرتا رہا تو قیام امن کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی جبکہ امن، باہمی تعاون اور ترقی دونوں ملکوں کی ضرورت ہے ۔

مہنگائی کا نیا طوفان

پٹرولیم مصنوعات میں یکم فروری سے مزید اضافے کی تجویز پر مبنی سمری سے اس امر کی عکاسی ہوتی ہے کہ مختلف محکموں کے پالیسی سازوں اور خود حکومت کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس سے مہنگائی کا جو نیا طوفان آئے گا اس سے عوام الناس کی کیا درگت بنے گی ۔ وزارت پٹرولیم کے ذمہ داران کو عوام پر پٹرولیم بم گرانے کی بجائے حکومت کے خالص منافع میں چند روپے کی کمی بارے تجویز دینی چاہیئے تھی ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ماہ جنوری کے دوران عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جس ردو بدل کا ہوا کھڑا کیا جارہاہے اس کا بوجھ صارفین پر ڈال کر آنکھیں موند لی جائیں گی۔ یہاں ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ پٹرول پمپ مالکان ہائی ویز پر اپنے فاصلوں کے گڈزاخراجات بھی صارفین سے وصول کرتے ہیں ۔ حکومت پٹرولیم کمپنیاں اورپٹرول پمپ مالکان تینوں میں سے کوئی بھی خالص منافع میں سے ایک پیسے کی بھی صارفین کے لئے قربانی نہیں دیتا ۔ دوسری طرف یہ تلخ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافے کے علاوہ مہنگائی کا ایک نیا طوفان عام آدمی کی گردن دبوچتا ہے ۔ آمدنی اور اخراجات میں عدم توازن کی بنا پر پیدا شدہ مسائل اور فی کس آمدنی میں کمی کی وجہ سے شہریوں کی حالت پہلے ہی ناگفتہ بہ ہے ۔ اصولی طور پر ہونا یہ چاہیئے تھا کہ حکومت مہنگائی و بیروزگاری میں کمی کرنے کے لئے مئوثر اقدامات کرتی پبلک سیکٹر میں حکومت کی مقررہ تنخواہ کی عام حد پر عمل کو یقینی بناتی لیکن ماضی کی طرح اب بھی کسی کو عام آدمی کے مسائل سے دلچسپی نہیں ۔ پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کی سمری بس رسمی کارروائی ہے حکومت اور متعلقہ حکام کے پا س ہمیشہ کی طرح جواز موجود ہوں گے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ انتہا کوچھوتی غربت اور مہنگائی کے ستائے ہوئے شہری کس کے دروازے پر فریاد لے کر جائیں ۔ زیادہ مناسب یہ ہو گا کہ حکومت عوام پر پٹرولیم بم گرانے کی بجائے دیگر حدود میں سے کٹوتی کر کے ضرورتیں پوری کر لے تاکہ مہنگائی کا نیا طوفان لوگوں کی زندگی اجیرن نہ بنا سکے ۔

متعلقہ خبریں