Daily Mashriq


اداروں کے اختیارات اور کردار

اداروں کے اختیارات اور کردار

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے صحافیوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین اداروں کے کردار اور اختیارات کو وضع کرتا ہے ۔ سیاست کے فیصلے عدالتوں میں نہیں عوام میں ہوتے ہیں۔ عوام جس جماعت کے حق میں فیصلہ کریں گے وہ حکومت بنائے گی۔ حکومت بنانے کی حد تک یہ بات سچ ہے تاہم عوام اکثریتی ووٹ اس لیے نہیں دیتے کہ ان کی منتخب جماعت کی حکومت سیاہ و سفید کی مالک ہو جائے اور اس کا سربراہ مطلق العنان حکمران ہو جائے۔ حکومت بنانے کا مطلب یہ ہے کہ حکومت بنانے والی پارٹی آئین کے وضع کردہ کردار اور اختیارات کے تقاضوں کے مطابق حکومت کا کاروبار چلائے گی۔ اگر اس آئین کے تقاضوں سے انحراف کرے گی تو آئین حرکت میں آئے گا اور عدالتیں اپنا کردار ادا کریں گی جس کی وضاحت آئین میں ہے۔ حکومت بنانے سے پہلے سیاسی جماعتیں جو بلند بانگ دعوے کرتی ہیں ان پر پورا اترنے کی ذمہ داری بھی انہیں نبھانی چاہیے۔ آئین کا تقاضا اگر یہ ہے کہ آپ کسی غیر ملک سے کمائی ہوئی واجب الوصول آمدنی کو انتخابی گوشواروں میں ظاہر نہیں کریں گے تو یہ تقاضا پورا کرنا ہر اس شخص پر فرض ہو گا جو عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے انتخابی گوشوارے داخل کرتا ہے۔ اگر اس گوشوارے میں وہ اپنے اثاثے چھپاتا ہے تو آئین کے تقاضے سے انحراف کرنے والا گردانا جاتا ہے اور اس کی سزا آئین اس کی نااہلی کی صورت میں طے کرتا ہے جو سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے مقدمے میں سنائی گئی۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ میاں نواز شریف کے مقدمے میں انہیں اپیل کا حق نہیں دیا گیا۔ یہ قانونی نکتہ ہے ، اس پر فیصلہ کرنا عدالت کا کام ہے۔ اگر کسی کو یہ شکایت ہے کہ میاں نواز شریف کو اپیل کا حق نہ دیا جانا ان کے ساتھ زیادتی ہے تو وہ عدالت سے رجوع کرسکتا ہے جس نے میاں نوا زشریف کی نظرِ ثانی کی درخواست پر فیصلہ سنا دیا ہے۔ اس قانونی نکتہ کو بھی جس کا جواب عدالتوں ہی سے آ سکتا ہے عام گفتگو کا موضوع بنانا مستحسن نہیں ہو گا۔وزیر اعظم نے کہا ہے کہ سیاست کے فیصلے عوام کرتے ہیں ۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں عوام جس جماعت کو اکثریتی ووٹ دیں گے وہ جماعت حکومت بنائے گی ۔ یعنی عوام کی امنگوں اور آرزوؤں کے مطابق اور ملک کے آئین کے دائرہ میں رہتے ہوئے جو اداروں کے کردار اور اختیارات کا تعین کرتا ہے ملک کا انتظام چلائے گی ، عوام کو امن وامان ، انصاف کی فراہمی اور خوشحالی کے لیے کام کرے گی ۔ ہمارے ہاں اس حوالے سے حکومت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ۔ حکومت کے لفظ کے ساتھ نتھی حکمرانوں کی ایک تاریخ وابستہ ہے لیکن جمہوری حکومتوں کے لیے بھی انتظامیہ کی بجائے حکومت کا لفظ مسلسل استعمال ہو رہا ہے۔ اس لیے یہ خیال قوی ہے کہ حکمران جماعتیں اپنے آپ کو ملک کا انتظام چلانے کی ذمہ دار سمجھتی ہیں حکمرانی کا نہیں۔ عوام یہ حق حکمرانی پارلیمنٹ کو تفویض کرتے ہیں جو انتظامیہ یعنی حکومت کی نگرانی کرتی ہے۔ کئی سال تک جمہوری حکومتیں قائم رہنے کے بعد یہ سادہ سی سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن اب بھی یہ تاثر عام ہے کہ عوام ووٹ کے ذریعے براہ راست حکمران منتخب کرتے ہیں اور انہیں آئندہ پانچ سال کے لیے مطلق العنان اختیارات عطا کرتے ہیں جو حقیقت نہیں ہے۔ عوام ارکانِ پارلیمنٹ کو منتخب کرتے ہیں جو پارلیمنٹ کے زیر نگرانی پارلیمنٹ میں عوام کا اختیار استعمال کرتے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے جلسوں میں حاضرین اور سامعین کو کن کن حوالوں سے لایا جاتا ہے یہ سب جانتے ہیں۔ ان حاضرین میں سے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ان میں سے سو فیصد لوگ اس جماعت یا لیڈر کے حامی ہیں جس کے جلسے میں وہ جاتے ہیں۔ سبھی مشہور پارٹیاں اور ان کے لیڈر آج کل بھاری بھر کم جلسے کر رہے ہیںاور ان جلسوں کے سائز کو عوام کی حمایت کا پیمانہ ظاہر کرتے ہیں۔ اس طرح تو کوئی جماعت ایسی نظر نہیں آتی جو آئندہ انتخابات کے بعد کل اپوزیشن میں نظر آئے گی۔ ان جلسوں میں شرکت کی دعوت عام ہوتی ہے‘ کسی پر یہ پابندی نہیں ہوتی کہ وہ اگر کسی دوسری جماعت کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے تو جلسہ میں شرکت نہ کرے۔ ہرجلسے میں مخالف جماعت پر تیر و نشتر برسائے جاتے ہیں۔ اس طرح سب جماعتیں دوسری جماعتوں کی خامیاں زیادہ بیان کرتی ہیں اپنی خوبیاں کم۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ان جلسوں میں شریک عوام مختلف جماعتوں او رلیڈروں کی خامیوں کی نشاندہی پر زیادہ زور سے داد دیتے ہیں ۔ اور کہا جاتا ہے کہ ان جلسوںکو ریفرنڈم سمجھ لیا جائے ۔ حالانکہ ریفرنڈم کسی ایک سوال پر سارے ملک کے ووٹروں کا ہاں یا ناں میں جواب ہوتا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اگر ایسے جلسوں کی کارکردگی لے کر عوام کے پاس ووٹ کے لیے جائیں گی تو وہ عوام کی کوئی خدمت نہیںکر رہی ہوں گی۔ جمہوری ملکوں میں لیڈروں کے بڑے جلسے کم نظر آتے ہیں البتہ ایشوز پر ریلیاں بھاری بھر کم ہوتی ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی سیاسی جماعتوں نے اپنے عوام کو قومی ایشوز پر اپنے نقطۂ نظر کا قائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ عوام کو مختلف ایشوز پر اپنے نقطۂ نظر سے بھرپور طریقے سے آگاہ کریں تاکہ کل اگر ان کی جماعت برسراقتدار آئے تو ان کے ووٹر قومی ایشوز کے حوالے سے ان کی رہنمائی کر سکیں۔ لیکن ہمارے ملک میں ووٹروں کا کام محض انتخابات میں اکثریتی ووٹ دے کر کسی جماعت کو حکمران بنانے کی حد تک محدود سمجھا جاتا ہے۔ یہ آدھا سچ ہے اس کے بعد ان حکمرانوں کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ ریاست کے آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے عوام کو آگے لے جانے کی کوشش کریں۔ آئین اداروں کے کردار اور اختیارات کی وضاحت کرتا ہے۔ اس کے منافی اگر کوئی اقدام ہو گا تو اس پر آئین حرکت میں آئے گا اور اپنا کردار انجام دے گا۔

متعلقہ خبریں