Daily Mashriq


سیاسی ڈھانچہ

سیاسی ڈھانچہ

پاکستانی سیاست میں جھوٹ اور منافقت کا عنصر اس حد تک سرایت کر چکا ہے کہ اب کوئی سیاستدان سچ بھی بولے تو جھوٹ کا گمان ہوتا ہے۔دھوکہ،فریب اور ریاکاری کی اس سیاست کو عوام سمجھتے ہیں لیکن اس کا حصہ بھی بن جاتے ہیں جس کی دو وجوہ ہو سکتی ہیں۔اول یہ کہ ان کے پاس کوئی چوائس نہیں ہے اور دوم یہ کہ چونکہ معاشرہ خود جھوٹ اور منافقت کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اس لئے اہل سیاست میں پائی جانے والی برائیاں ان کے لئے اچنبھے کی بات نہیں۔الیکشن سے پہلے سیاستدان جو گوشوارے بھرتے اور حلف نامہ جمع کراتے ہیں ان میں غلط اعدادوشمار کا سہارا لیتے ہیں۔الیکشن کمیشن یہ جانتے اور سمجھتے ہوئے بھی کہ اسے دھوکہ دیا جارہا ہے غلط معلومات کو قبول کر لیتا ہے اور یوں ایک امیدوار جھوٹ کی سیڑھی پر چڑھ کراقتدار کی بلندی کو چھو لیتا ہے۔چونکہ سیاست اور الیکشن پیسے کا کھیل ہے اس لئے جو سیاستدان پانچ کروڑ روپے خرچ کر کے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوتا ہے اس کی اولین کوشش ہوتی ہے کہ پاور میں آنے کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو قوم سے پانچ کا دس وصول کر لے۔اس ہدف کے حصول کے بعد پھر وہ اقتدار کی کنجی سے کرپشن کی تجوری کھولتا اور لوٹ مار میں مصروف ہو جاتا ہے۔قانون سازی سے اسے کچھ زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی کیونکہ عوامی فلاح اس کا مقصد سیاست نہیں ہوتی۔اکثر لوگ جو جیت کر حکومت بناتے ہیں اس خدشے میں مبتلارہتے ہیں کہ حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر پائے گی اس لئے وہ سنجیدہ سیاست سے دور ہی رہتے ہیں۔آپ نے سیاست کے بارے میں پڑھا اور سنا ہوگا کہ اس کے سینے میں دل نہیں ہوتا ۔یہ سو فیصد ٹھیک بات ہے۔ابھی کچھ عرصہ پہلے ڈیرہ اسماعیل خان کی ایک نواحی بستی میں ایک با اثر خاندان کے چند لوگوں نے ایک غریب گھرانے کی لڑکی کی بے عزتی کییہ اندوہناک واقعہ رپورٹ ہوا توپورے ملک کو اس کی خبر ہو گئی لیکن مرکزی حکومت نے اس کا نوٹس لیا اور نہ صوبائی حکومت ٹس سے مس ہوئی۔اعلیٰ عدلیہ نے بھی بروقت اس کا نوٹس نہیں لیالیکن یہ ایک انتظامی معاملہ تھا جس پر حکومت کو فوری ایکشن لینا چاہئے تھا لیکن چونکہ بے عزت کی جانے والی لڑکی کسی وزیر،مشیر ،ایم این اے یا سینیٹر کی بیٹی ،بھتیجی یا بھانجی نہیں تھی اس لئے کوئی اس کی دادرسی کو آگے نہ بڑھا۔سو ثابت ہوا کہ اس سیاسی نظام میں اصلاحات کے جتنے مرضی پیوند لگا دئیے جائیں یہ اپنی ڈریکولائی ہیئت نہیں بدلے گا۔اس سیاسی نظام میں پولیس کو تحریری طور پر چند احکامات کا پابند تو کیا جا سکتا ہے لیکن یہ لوگ جس مزاج میں ڈھل گئے ہیں اسے بدلنا ممکن نہیں ہے۔طاقتور کی چاکری اور کمزور کی ٹھکائی پولیس کا وہ عمومی رویہ ہے جس کی جڑیں سماجی نظام میں پیوست ہیں۔اس نظام میں ہر طاقتور کمزور کے بخئے ادھیڑتا ہے اور کامیابی کا تصور یہ ہے کہ جب تک کمزور کو لاتیں اور گھونسے مار کر نیچے نہیں گرائو گے اس وقت تک تمہاری طاقت کی دھاک نہیں بیٹھے گی سو پولیس کے پی کی ہو ،پنجاب،سندھ یا بلوچستان کی اس سے یہ امید رکھنا عبث ہے کہ وہ کسی مظلوم کا ساتھ دے گی۔ جماعت اسلامی پیسہ خرچ نہیں کرتی اس لئے پارلیمانی سیاست میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ جماعت کے لوگ اخلاقی اعتبار سے بہتر ہیں لیکن چونکہ ان لوگوں کے پاس الیکشن مہم کے دوران ’’دیگیں کھڑکانے‘‘ اور نوٹوں کے ذریعے دل گرمانے کا سامان نہیں ہوتا اس لئے لوگ ان کنگلوں کو مسترد کر کے ان لوگوں کو چنتے ہیں جو الیکشن پر پیسہ خرچ نہیں کرتے لٹاتے ہیں۔سال خوردہ اور بوسیدہ عمارت کو ستر سال بعد گرانا ہی پڑتا ہے ورنہ یہ کئی جانیں لے جاتی ہیں۔ہمارا یہ نظام جس کی سیاست کرپٹ،جس کی معاشرت باعث اذیت، اور جس کے ادارے کھوکھلے ہو چکے ہیں اب اسے زمین بوس کر دینا چاہئے ورنہ یہ اپنے ساتھ معاشرے کو بھی تہ و بالا کر کے رکھ دے گا اس معاشرے کو جو پہلے ہی آکسیجن ٹینٹ میں پڑاہے۔یہ دیوار دھکا دے کر نہ گرائی گئی تو اکیس کروڑ لوگوں کے اوپر آن گرے گی۔ فوری علاج یہ ہے کہ عدلیہ ہاتھ میں ڈنڈا پکڑ لے اور ملک کو تباہ کرنے والوں کے ساتھ وہ سلوک کرے کہ جب کرپٹ باپ کا آخری وقت آئے تو وہ اولاد کو نصیحت کر کے مرے کہ بھوک برداشت کر لینا مگر کرپشن نہ کرنا۔عبرتوں کی ایسی لازوال مثال قائم کی جائے کہ مورخ جہاں ہماری تباہی اور بربادی کا ذکر کرے تو ساتھ ہی یہ بھی لکھے کہ جب پاکستانی قوم تباہی کے دہانے پر تھی تواس وقت منصفوں نے کمر ہمت کسی اور کشتوں کے پشتے لگا کر ،پھانسی گھاٹ سجا کر اوربے رحم انصاف کے ساتھ ہجوم پاکستان کو ایک قوم بنا دیا۔یہ نہ ہوا تو انصاف کی اونچی اونچی مسندوں پر بیٹھے منصف بھی تباہی کے اس ملبے تلے دب کر رہ جائیں گے۔فوج خود کو مکمل طور پر سیاست سے دور رکھے کیونکہ بار بار کی فوجی مداخلت نے نہ صرف ملک بلکہ خود فوج کے لئے بھی مسائل پیدا کئے ہیں۔دہشت گردی کے جس عفریت کا ہمیں سامنا ہے اس کے خلاف فوج کو ابھی مزید کئی سال لڑنا ہے اس لئے فوجی قیادت اپنی تمام تر توجہ اس عفریت پر رکھے ورنہ سب یاد رکھیں کہ اگر پاکستان غیر مستحکم ہو گیا تو سب کچھ ختم ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں