Daily Mashriq


خاموشی کا شور

خاموشی کا شور

ہنگامہ،شور شرابا، ہلا گلا مچی ہوئی تھی، وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ کچھ لوگ خاموشی کے موضوع پر باتیں کررہے ہیں۔ خاموشی کے فوائد بتائے جارہے ہیں۔ کوئی کہہ رہا تھا خاموشی عقل مندی کی علامت ہے۔ کسی کا دعویٰ تھا کہ جو لوگ زیادہ بولتے ہیں زیادہ غلطیاں کرتے ہیں۔ کوئی خاموش رہنے والوں کو بزدل قرار دے رہے تھا، کوئی زیادہ باتیں کرنے والے کو باتونی کہہ رہا تھا۔ کوئی بولتے رہنے کو شور کی آلودگی کہہ رہا تھا۔ ایک صاحب خاموشی ہی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہہ رہا تھاکہ ’’نیاگرہ کی آبشار کا شور یہاں سے میلوں دور سنائی دیتا ہے ۔ سیر بین خواتین کو مخاطب کرکے ان کے گائیڈ نے کہا ۔ خواتین گائیڈ کی یہ با ت سن کر حیرت بھرے انداز سے گائیڈ کی اس بات پر بولنے لگیں ۔ وہ اس قدر شور مچا کر بولے چلی جارہی تھیں کہ گائیڈ کو کہنا پڑا ’’ خدار ا ، ذرا خاموش ہوجاؤ تاکہ نیاگرہ کی آواز کو ہم سب سن سکیں‘‘ خاموشی کے موضوع پر بولنے والے بھلا کب چپ رہ سکتے تھے۔

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا

ہم کو خاموشی کے موضوع پر بولنے کو کہا گیا لیکن ہم یہ سب سن اور دیکھ کر یوں چپ ہورہے جیسے ہمیں سانپ سونگھ گیا ہو۔ جو بندہ کوئی بات سن کر ایک دم خاموشی اختیار کر لے تو اس کے بارے میں یہی جملہ کہا جاتا ہے کہ وہ یوں خاموش ہوگیا جیسے اسے سانپ نے سونگھ لیا ہو۔ حالانکہ سانپ سونگھا نہیں کرتے کاٹا کرتے ہیں۔ زہریلے دانت ہوتے ہیں ان کے جبڑوں میں۔ پھن پھلا کر جہاں وہ اپنے دفاع کی کوشش کرتے ہیں وہاں اس بات کی تاک میں رہتے ہیں کہ کب موقع ملے اور کب وہ اپنے مد مقابل پر حملہ آور ہوکر اسے کاٹ لے اور پھیلا دیں اپنا زہر اس کی رگ و پے میں۔ کہتے ہیں کہ جب سانپ کی موت آتی ہے تو وہ چوراہے میں آ بیٹھتا ہے۔ سانپ سانپ کرتے لوگ اس کے گرد جمع ہوجاتے ہیں اور مار مار کر اس کا بھرکس نکال دیتے ہیں۔ لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ سانپ کو سانپ جانتے ہوں یعنی اس کے کرتوتوں سے واقف ہوں۔ ہمارے ہاں بدقسمتی یہ ہے کہ ہم سانپ کے گرد جمع ہوکر بھی اسے مارنا پسند نہیں کرتے۔ بلکہ سانپ اور سپیرے کا کھیل دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ تالیاں بجانے لگتے ہیں۔ ویسے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سانپ چوراہے میں کیوں آبیٹھتا ہے۔ شاید اس لئے کہ کوئی جلسہ یا پریس کانفرنس کرنا چاہتا ہے۔جلسہ یا پریس کانفرنس کرنے کے لئے سانپ کا بولنا بہت ضروری ہوتا ہے لیکن وہ بولنے کی بجا ئے صرف پھنکارنا جانتا ہے۔ لیکن ہمیں اس وقت بڑی حیرت ہوتی ہے جب وہ صرف پنکھارنے کی بجائے ڈنکے کی چوٹ پر بولنے اور دھواں دھار تقریریں کرنے لگتا ہے۔اور جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سانپ جون بدل سکتا ہے تو ہمیں اس کے بولنے پر حیرت نہیں ہوتی ۔ جاننے والے کہتے ہیں کہ سانپ کے کان نہیں ہوتے پھر بھی جوگی یا سپیرے اس کے آگے بین بجا کر اسے ناچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بین سپیرا اور سانپ ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں یا ایک ہی تکون کے تین کونے یا کنارے ہیں یعنی ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض سپیرے سانپ کو چھوڑ کر بھینس کے آگے بین بجانے لگتے ہیں۔ سانپ کے کانوں کے برعکس بھینس کے سینگ ہی نہیں ہوتے اس کے لمبے لمبے کان بھی ہوتے ہیں۔ وہ بین کی آواز سنتی ہے لیکن اس کو خاطر میں نہیں لاتی بس وہ ایک ہی لہجے میں ہاں ناں گاں یا ماں کا لفظ دہراتی رہتی ہے۔ ضروری نہیں کہ بھینس کی اس آواز کی تکرار یا پکار سننے کے لئے اس کے سامنے بین بجائی جائے۔ ہمارے وقتوں میں پشاور ایک شہر تھا ، سنا ہے آج کل اسے کھنڈر بنا دیا گیا ہے۔ وہاں چلنا پھرنا دوبھر ہوگیا ہے۔ کل ہی کی بات ہے میں گھنٹہ گھر پشاور کو ایک نظر دیکھنے کی غرض سے پہنچا وہیں موجود تھا بے چارا اپنے مچھی ہٹے میں۔ کسی زمانے میں مچھی ہٹہ اس مقام کو کہتے تھے جہاں مسلم مینا بازار قائم ہے وہاں کا مچھلی بازار گھنٹہ گھر کے دامن میں ایسا آباد ہوا کہ مچھلی کی باس نے یہاں کے مکینوں کے ناک میں دم کردیا۔ وہ حکام بالا سے بار بار شکایت کرتے رہے۔ اس عذاب سے پیچھا چھڑانے کی لیکن ان کی ہر شکایت بھینس کے آگے بین بجانے کے مصداق بے اثر ثابت ہوئی۔ اگر وہ سانپ کے آگے بین بجاتے تو تب بھی نتیجہ وہی نکلتا جس کا انہیں مدتوں پہلے سے سامنا ہے کہا نا کہ سانپ کے تو کان ہی نہیں ہوتے۔ ناچتا اس لئے ہے کب موقع ملے اور کب کسی کو کاٹ ڈالے۔ گھنٹہ گھر پشاور کو کسی زمانے میں ’’بالو دا گھڑیال‘‘ بھی کہتے تھے۔ لیکن بعد میں اسے پشاور کا گھنٹہ گھر کہا جانے لگا۔ گھنٹہ گھر سے آگے گاڑی کو لیکر جانا ممنوع تھا کیونکہ وہاں تعمیرات نامی تخریبات کا سلسلہ جاری تھا۔ ہم نے حسرت بھری نظروں سے بڈھے ٹھڈے گھنٹہ گھر کی ناکارہ گھڑیوں کو دیکھا اور ان کے عقب میں پشاور کی شان رفتہ کو تلاش کرنے لگے ، ہم نے پشاور کے اس اکلوتے گھنٹہ گھر کو بیساکھیوں کے سہارے کھڑا دیکھ کر چیخنا چاہا۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم چیخ اٹھتے ہمارے اندر سے ایک چیخ ابھری جو ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ خاموشی عقل مندی کی علامت ہے۔ ہم تحصیل گورگٹھری کی جانب جانا چاہتے تھے لیکن ایسا کرنا ممکن نہ تھا۔ سو ہم خاموش رہنے کی کوشش کا شور سن کر الٹے قدم واپس ہولئے اور بس ریپڈ ٹرانسیکشن کی رکاوٹیں عبور کرتے جام ٹریفک کے ہجوم میں جام ہوکر رہ گئے۔

متعلقہ خبریں