Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

ابراہیم بن ادہم ؒ مشہور ولی گزر ے ہیں ۔ ولایت سے پہلے بلخ کے بادشاہ تھے ، ایک دن ایک اجنبی شخص دندناتا ہوا دربار میں آیا اور ان سے پوچھنے لگا : کیا میں اس سرائے میں ایک روز ٹھہر سکتا ہوں ؟ حضرت ابراہیم بن ادہم ؒ نے غصے میں آکر کہا یہ سرائے نہیں بلکہ یہ تو شاہی محل ہے ، اجنبی نے یہ سن کر سوال کیا کہ آپ سے پہلے اس شاہی محل میں کون رہتا تھا ؟ ابراہیم بن ادہمؒ نے جواب دیا : میرا باپ ، اجنبی نے کہا ان سے پہلے کون رہتا تھا ؟ فرمایا میرے دادا پھر اجنبی نے پوچھا آپ کے داد ا سے پہلے کون رہتا تھا ؟فرمایا: پرداد ا ۔ اجنبی نے سوال کا رخ تبدیل کر کے سوال کیا : اچھا ابراہیم ! آپ کے بعد کون یہاں ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا : میرا بیٹا ،ا جنبی نے پھرپو چھا اس کے بعد ؟ فرمایا : میرا پوتا ۔ اتنے سوالات کے بعد اجنبی نے کہا ابراہیم ! خود سوچو ، جس جگہ اتنے آدمی آئے چلے گئے اور بعد میں آتے رہیں گے تو اسے محل کہنا چاہیئے یا سرائے کہنا چاہیئے ، اتنا کہہ کر اجنبی چلا گیا اور حضرت ابراہیم بن ادہمؒ تخت کو چھوڑ کر تارک الدنیا ہو گئے اور بڑے اولیائے کرام میں شمار ہونے لگے ۔

ایک مرتبہ ہارون رشید کے زمانے میں رومیوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا اور خواتین کو قید کر لیا تو لوگوں نے منصور ابن عمار سے کہا کہ آپ لوگوں کو رومیوں کے خلاف آمادہ کیجئے ، چنانچہ ایک روز وہ لوگوں کے مجمع میں تقریر کر رہے تھے تو ان کو ایک بند لفافہ لا کر دیا گیا ۔ جب لفافہ کھولا گیا تو اس میں ایک خط اس مضمون میں تھا : ’’میں ایک پردہ نشین خاتون ہوں ۔رومیوں نے جو کچھ مسلمان خواتین کے ساتھ کیا ہے ، اس کی بھی اطلاع ہے ، میں اور تو کچھ نہیں کر سکتی ہوں ، لیکن اپنے سر کے بال آپ کی خدمت میں پیش کر رہی ہوں کہ شاید کوئی غازی اپنا گھوڑا باندھنے کے کام میں لے آئے اور اسی وجہ سے رب العالمین میری مغفرت فرمائے ‘‘۔

جس وقت یہ خط پڑھا جارہا تھا ، پورا مجمع زاروقطار رو رہا تھا ۔ (صفۃ الصفوۃ لابن الجوزی 4ص،7)

محمود غزنوی ؒ کے دور میں نو شتگین سپہ سالار پچاس ہزار فوج پر افسری کرتا تھا ۔ ایک دن نشہ کی حالت میںتھا کہ سوسواروں کے جھرمٹ میں جھومتا جھامتا نکلا اور سپا ہیا نہ جوش میں محتسب کی بھی کوئی پروانہ کی ۔

جب محتسب نے اس کو بد مستی کی حالت میں دیکھا تو حکم دیا کہ گھوڑے سے اتارو ۔ اس کے بعد خود گھوڑے سے اتر کر اپنے ہاتھ سے درے لگائے ۔ سوار اور پیادے کھڑے دیکھتے تھے اور دم نہ مار سکتے تھے ۔ سپہ سالار کو سخت ندامت تھی کہ نشہ کی حالت میں گھر سے باہر کیوں نکلا ۔ محمود ؒ کو سپہ سالار کے شراب پینے کی خبر تھی ۔ مگر محتسب کے ملنے اور حد شرعی جاری کرنے کا علم نہ تھا ۔ دوسرے دن علی نوشتگین جب سلطان کے پاس آیا تو سلطان نے محتسب کے ادائے فرض کے لیے اپنے سپہ سالار کی پیٹھ کھول کر دیکھی تو اس پر دروں کے نشان موجود تھے ، ہنس کر فرمایا تو بہ کرو ، اب کبھی گھر سے جھومتے ہوئے نہ نکلنا ۔

(نظام الملک طوسی حصہ دوم ،ص235)

متعلقہ خبریں