Daily Mashriq


ٹیکس چوروں سے حساب کتاب، آغازکہاںسے ہو؟

ٹیکس چوروں سے حساب کتاب، آغازکہاںسے ہو؟

وزیراعظم عمران خان کی ایف بی آر کو بڑے ٹیکس چوروں سے ریکوری اور نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر خصوصی توجہ کی ہدایت اور بے نامی جائیدادوں کے حوالے سے متعلقہ قانون کے تحت رولز کی تشکیل کا عمل جلد مکمل کرنے کی ہدایت محصولات میں اضافہ کرنے کی ایک سنجیدہ سعی ضرور ہے بشرطیکہ اس ہدایت پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وطن عزیز میں ٹیکس کلچر کے فروغ کیلئے وزیراعظم اگر سب سے پہلے اپنے ٹیکس گوشواروں اور آمدنی ودولت کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھیں تو یہ ایک ایسی مثال ہوگی جس پر دوسروں کیلئے عمل کرنا اور کروانا دونوں ہی ممکن ہوگا۔ اس کیساتھ ساتھ وزیراعظم اپنی کابینہ کے اراکین اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی اور زعماء کے ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات جاری کر کے ارکان سینٹ اور اراکین قومی اسمبلی سے اس کی اپیل کی جائے تو یہ ایک عمدہ مثال ہوگی۔ اس ضمن میں وہ تفصیلات کافی نہیں جو الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی ہیں کیونکہ جب بھی اس نوعیت کی دستاویزات کی چھان بین ہوتی ہے تو وہ متنازعہ نکلتے ہیں اور نامکمل دستاویزات اور گوشوارے ثابت ہوتے ہیں علاوہ ازیں الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے دستاویزات کی عوامی اور ادارہ جاتی طور پر چھان بین اور ان پر اعتراضات بھی نہیں ہوئے بلکہ ایک ضابطے کی کارروائی کی تکمیل کے حامل دستاویزات سمجھ کر ان کی اصابت پر صادکر لیا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکمرانوں کی جانب سے رازداری، کاروباری تفصیلات اور ٹیکس گوشواروں کی دستاویزات وغیرہ کے افشاء کی قربانی دیئے بغیر اس بیل کے منڈھے چڑھنے کا امکان کم ہے۔ اس طرح کی ہدایات اور اس قسم کے اقدامات کا عندیہ کوئی معنی نہیں رکھتا جب تک عملی طور پر اس کا اطلاق اور اظہار سامنے نہ آئے۔ ایک مرتبہ اس قسم کی نظیر اعلیٰ ترین سطح پر قائم ہو جائے تو اس کے بعد سابق حکمرانوں اور اعلیٰ کاروباری شخصیات کے پاس اس کی تقلید کے بغیر چارہ باقی نہیں رہے گا۔ اگر محولہ تجاویز کی موجودہ قوانین میں گنجائش نہیں تو یا تو اس کیلئے آرڈینس کا سہارا لیا جائے یا پھر قانون سازی کی جائے۔ بہت ساری پیچیدگیاں اور صورتحال ایسی بن گئی ہے کہ اب ہمارے بینکنگ قوانین مالیاتی اداروں کے ضوابط اور ٹیکسوں کی وصولی کے نظام طریقۂ کار اور اس ضمن میں مشکلات وپیچیدگیاں دور کرنے کیلئے قانون سازی کی جائے اور اخفاء میں رکھے جانے والے معاملات پر ایک حد تک متعلقہ حکام، میڈیا اور عوام کو رسائی دی جائے اس کے بغیر ٹیکس دینے کے کلچر کا فروغ اور غیرقانونی دولت چھپانے کے عمل کی حوصلہ شکنی ممکن نہیں۔ جہاں تک پراپرٹی کے شعبے کو ٹیکس بچانے اور نقد کے کاروبار کا تعلق ہے اس ضمن میں بھی اقدامات اور قانون سازی کی ضرورت ہے۔ صرف بے نامی جائیداد ہی ٹیکس کی رقم چھپانے کا ذریعہ نہیں بلکہ غیرقانونی دولت کو چھپانے کیلئے پرائز بانڈز کے انعامات کی خرید اور بانڈز کے ذریعے غیرقانونی دولت کو چھپانے کیلئے پرائز بانڈز کے انعامات کی خرید اور بانڈز کے ذریعے غیرقانونی دولت کو قانونی ظاہر کرنے کی ایک کوشش بھی مروج ہے۔ علاوہ ازیں بڑے بڑے ادارے اور کاروباری طبقہ کیش کی صورت میں بھاری رقم اپنے پاس رکھ کر ٹیکس بچانے اور غیرقانونی دولت پوشیدہ رکھنے کی سعی کرتی ہے۔ غیرقانونی رقم کی کسی نہ کسی ذریعے سے بیرون ملک منتقلی کے بعد ان رقوم کو کسینو میں جیتی ہوئی رقم ظاہر کر کے واپس لانا یا بیرون ملک رکھنا بھی ایک مستعمل طریقہ کار ہے۔ سرکاری افسران اور ملازمین کی اپنی حیثیت اور استطاعت سے بڑھ کر املاک کی خریدای، پرتعیش گھروں گاڑیوں کا استعمال اور بچوں کو بھاری فیسوں والے اداروں میں پڑھانے کے عمل کی نگرانی تحقیقات اور پوچھ گچھ سے کرپشن وبدعنوانی کا بآسانی کھوج لگایا جاسکتا ہے۔ ماہرین درجنوں طریقہ کار بتا سکتے ہیں لیکن سوال عملدرآمد کے عزم کا ہے جس کیلئے حکومت کو ہمت دکھانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایف بی آر بڑے ٹیکس چوروں سے ٹیکس ریکوری اور نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر خصوصی توجہ دے، بے نامی جائیدادوں کے حوالے سے متعلقہ قانون کے تحت رولز کی تشکیل کا عمل جلد ازجلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں عوام الناس اور خصوصاً بزنس کمیونٹی کو ٹیکس حکام کی جانب سے ہراساں کرنے، ٹیکس وصولیوں کے پیچیدہ عمل، کرپشن اور ٹیکس سے جمع شدہ رقم کو حکمرانوں کے شاہانہ رہن سہن کیلئے استعمال کرنے کی وجہ سے عام شہریوں کا اعتماد ٹیکس کے نظام اور ایف بی آر سے اٹھ چکا ہے۔ اس اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایف بی آر بڑے ٹیکس چوروں سے ٹیکس ریکوری اور نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میںلانے پر خصوصی توجہ دے۔ بے نامی جائیدادوں پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ متعلقہ قانون کے تحت رولزکی تشکیل کا عمل جلد ازجلد مکمل کیا جائے۔

متعلقہ خبریں