Daily Mashriq


عجلت میں قانون سازی نہ کی جائے

عجلت میں قانون سازی نہ کی جائے

کمیٹی برائے انسانی حقوق کی جانب سے شادی کی عمر اٹھارہ سال کرنے کے بل کی منظوری سے ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز متوقع ہے۔ اس معاملے پر قرآن وشریعہ کے مطابق ترمیم کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی مشاورت لینے کا مشورہ مناسب تھا جس کی مخالفت کی گئی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے قانون سازی کیلئے لازمی نہیں۔ وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری کے مطابق حکومت کو اٹھارہ سال شادی کی عمر کی حد مقرر کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ کم عمری کی شادی کے حوالے سے تحفظات اور اس کے نقصانات ومعاشرتی طور پر اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیاں اپنی جگہ لیکن شرعی طور پر اس میں کوئی قید نہیں اور معاشرے میں بھی اس قانون کی مخالفت اور خلاف ورزی معمول ہوگی اولاً ابھی اس کے قانون کا درجہ حاصل کرنے کا مرحلہ باقی ہے اور اگر یہ ہو بھی جائے تب بھی اس پر عملدرآمد کا سوال اٹھے گا قانون سازی کے ذریعے اس کی ممانعت پر ردعمل بھی ہو سکتا ہے لہٰذا اس کا بہتر طریقہ معاشرتی طور پر اس حوالے سے شعور وآگہی پیدا کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ بہت سی اس قسم کی شادیاں جہالت ولاعلمی کی بناء پر نہیں کچھ سخت حالات اور مجبوریاں بھی کمسنی کی شادی کی وجوہات میں شامل ہیں جن سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازیں آج کل جہاں نو سال کی عمر میں بلوغت کی عمر کو پہنچا جاتا ہے وہاں بلوغت کے بعد مزید نوسال انتظار کرانے کے قانون کی منظوری مناسب نہیں۔ بناء بریں ایسا طرز عمل اور طریقہ کار اختیار کرنے کی ضرورت ہے کہ بچوں کے رشتے کی عمر اٹھارہ سال مقرر کرنے کی بجائے والدین کو اس امر پر قائل کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کی نشوونما، قد کاٹھ اور مناسب عمر سبھی عوامل دیکھ کر رشتے طے کریں جہاں تک مجموعی معاشرتی رجحان کا تعلق ہے اس معاشرے میں اب رشتہ کرنے کی عمر نکل جانے تک رشتے آنے کا انتظار کوئی راز کی بات نہیں، ساتھ ہی پہلے کیرئیر بنانے اور بعدازاں شادی کا رجحان بڑھ رہا ہے جہاں شعور وآگہی موجود ہے وہاں اس قانون کی ضرورت نہیں اور جہاں ایسا نہیں وہاں اس پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔

ریاست مدینہ کے طرز کی ریاست کے تقاضے

اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں ریاست مدینہ کے حتمی خدوخال کیلئے 4رکنی کمیٹی کی تشکیل اپنی جگہ لیکن اولاً ریاست مدینہ کے خدوخال کسی کمیٹی کے طے کرنے کا نہیں بلکہ یہ طے شدہ اور مسلمہ ہیں دوم یہ کہ ریاست مدینہ کے طرز کی ریاست کا لفظ استعمال کرنا موزوں ہوگا کیونکہ ریاست مدینہ ایک ماڈل تھا اور رہے گا اس کے سربراہ اور عمال سبھی ہمارے لئے کردار وعمل کا نمونہ تھے جن کے نقش قدم پر چلنے کی سعی ہی ممکن ہے اس لئے بہتر ہوگا کہ لفظی غلطی سے گریز کیا جائے۔ ریاست مدینہ کی طرز کی ریاست میں سود اور شراب کے امتناع کا فوری حکم ہونا چاہئے جبکہ یہاں صورتحال یہ ہے کہ سود کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل ایک جامع رپورٹ مرتب کر چکی ہے۔ شراب پر پابندی کے بل کی ایوان میں مخالفت ہو چکی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کی صرف سفارشات پیش کرنے کا حامل ادارہ بنا کر رکھنا ریاست مدینہ کے طرز کی حکومت کیلئے مناسب نہیں بلکہ اس کا تقاضا ہے کہ تمام قانون سازی عملی طور پر قرآن وسنت کے مطابق کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ شراب اور سود سمیت انسداد فواحش کو یقینی بنانا ہی ریاست مدینہ کے طرز کی ریاست کا تقاضا ہے۔

ای او بی آئی پنشن میں اضافہ،خوش آئند اقدام

ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کی جانب سے معمر پنشنرز کی پنشن میں 20فیصد اضافے کے نوٹی فیکیشن کے اجراء سے پنشنروں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگیا ہے جس کا ان کی جانب سے خیر مقدم ہی نہیں ہوگا بلکہ ان کے خاندانوں کو بھی تھوڑی سی مدد ملے گی وزارت خزانہ نے ای او بی آئی پنشنرز کی پنشن میں10فیصد اضافے کی منظوری دی تھی تاہم وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز نے مزید10فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا، جس کی ای او بی آئی بورڈ نے باقاعدہ منظوری بھی دی تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس محروم طبقے کے پنشن میں اگر سوفیصد اضافہ بھی کیا جاتا تو یہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر تھا۔ ملکی معاشی حالات اجازت دیتے تو ای او بی آئی پنشنروں کے پنشن میں سو فیصد اضافے کا مطالبہ کیا جا سکتا تھا معروضی معاشی صورتحال میں پنشنروں کی پنشن میں دس فیصد اضافے کے بعد وزیراعظم کے مشیر کی جانب سے مزید دس فیصد اضافہ کر کے بیس فیصد اضافہ ایسا اقدام ہے جسے نہ سراہنا ناانصافی ہوگی۔ ای او بی آئی کے پنشنروں کو پانچ ماہ کے بقایاجات بھی ملیں گے۔ ای او بی آئی پنشنروں کی پنشن میں سرکاری ملازمین کی طرح سالانہ بجٹ میں اضافہ ہونا چاہئے تاکہ ان کو پنشن میں اضافے کیلئے سالوں کا انتظار نہ کرنا پڑے۔

متعلقہ خبریں