Daily Mashriq


سیاحت کا فروغ

سیاحت کا فروغ

کے فروغ کی خاطر ویزاپالیسی نرم کر دی گئی ہے۔ بہت سے ملکوں کے شہریوں کے لیے ویزا کا حصول آسان بنا دیا گیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ سیاح جوق در جوق پاکستان آئیں گے ‘ زرمبادلہ خرچ کریں گے ‘ عام پاکستانی ملکوں ملکوں کے لوگوں سے متعارف ہوں گے اور دنیا کے بارے میں نقطہ ٔ نظر میں ایک مثبت تبدیلی آئے گی۔ یہ خوش آئند سوچ ہے لیکن اس کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے ملک سیاحت سے بہت سرمایہ کما رہے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر سماجی سرمایہ بنا رہے ہیں‘ اپنا بہتر تصور اجاگر کر رہے ہیں جس کی پاکستان کو بہت ضرورت ہے کہ پاکستان کے لوگوں کی حقیقی ملنساری‘ تواضع اور اعلیٰ اقدار کی پاسداری کا تصور دنیا پر واضح نہیں ہے۔ پاکستان کو بین الاقوامی دنیا کے باشندے یہاں سے جنم لینے والی خبروں کے حوالے سے پہچانتے ہیں اور گزشتہ کئی عشروں سے پاکستان سے ایسی خبریں نہیں ابھر رہیں جو پاکستانی قوم کا حقیقی تعارف اجاگر ہو رہا ہو اور یہ خبریں ان کے لیے قابلِ فخر ہوں ۔ پاکستانی قوم کے مزاج اور مہمان نوازی کا تصور دنیا پر واضح نہیںہے۔ ہم لاکھ کہتے رہیں کہ پاکستانی قوم نہایت اعلیٰ اوصاف کی حامل ہے اس کا یقین عمومی تجربے ہی سے واضح ہو سکتا ہے۔سیاحت کے فروغ کا خواب بہت پرانا ہے ۔ کئی عشرے پہلے یہاں فروغ سیاحت کا ایک محکمہ قائم کیا گیا تھا۔ آج اس کی چند گاڑیاں تو نظر آتی ہیں لیکن خود عام پاکستانیوں پر یہ واضح نہیں کہ یہ محکمہ کیا کرتا ہے۔ پاکستان میں سارے موسم پائے جاتے ہیں۔ پھلوں اور سبزیوں کی مختلف انواع پیدا ہوتی ہیں۔ پاکستان میں سمندر کے ساحل سے لے کر دنیا کی بلند ترین چوٹیاںہیں اور اس متنوع وسعت میں بے شمار خوبصورت مناظر ہیں ۔ پاکستان میں جنگلی حیات اور پرندوں کی نادر اور خوبصورت انواع پائی جاتی ہیں جو سیاحوں کی گہری دلچسپی کی حامل ہوتی ہیں۔ ان مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے پاکستان میں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں لیکن اتنے نہیں جتنی تعداد کے یہ مناظر اور آثار اور تاریخی ورثہ مستحق ہیں۔ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں ایک کوشش ہوئی تھی ۔ ایک مشہور و معروف فوٹوگرافر کو پاکستان کے مختلف مناظر کی تصویریں اتارنے کا کام سونپا گیا تھا۔ ایک البم نما کتاب بھی تیار کی گئی تھی لیکن پھر حکومت بدل گئی اور نہ جانے اس منصوبے کا کیا ہوا۔ آج بھی یہ کام نہایت آسانی سے ہو سکتا ہے۔ اگر حکومت ان مناظر ‘ آثار‘ ثقافتی رسم و رواج اور تاریخی ورثہ کی فوٹو گرافی کا ایک مقابلہ منعقد کروا دے ‘ اس مقابلے سے جو تصویریں حاصل ہوں ان میں سے نمایاں تصویروں کو قدرے تفصیلی تعارفی بیان کے ساتھ پاکستان کے سفارت خانوںکو بھیج دیا جائے اور وہ ان کی مستقل نمائش کا بندوبست کریں۔ہر سال اس مقابلے کی نمایاں تصویر یں اس نمائش میں شامل کی جاتی رہیں۔ یہ تعارفی بیان مختصر ہونے کے باوجود اس قدر تفصیل کا ضرور حامل ہونا چاہیے کہ اس کے باعث دیکھنے والوں کو خود محظوظ ہونے کی ترغیب ہو۔ لیکن اصل مسئلہ محض سیاحو ں کو راغب کرنا نہیں ہے ان کو تحفظ ‘ صاف ستھری کم خرچ رہائش ‘ مشاورت‘ رہنمائی اور مقامی سفر کی سہولتیں فراہم کرنا اہم ہے۔ سیاحت کے فروغ کے لیے کرنے کے بہت کام ہیں جن پر توجہ دی جانی ضروری ہے۔ فروغ سیاحت کی کارپویشن جس حال میں بھی ہے وہ سیاحوں کی دلچسپی کے مقامات کی نشاندہی کر سکتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے رہنماؤں (ٹورسٹ گائیڈز) کا ایک مختصر کورس بھی شروع کر سکتی ہے۔ تاکہ یہ گائیڈ سیاحوں کی رہنمائی کر سکیں اور ان کو ضروری خدمات اور سہولتیں حاصل کرنے میں مدد کر سکیں۔ یہ ایک پارٹ ٹائم پیشہ ہو گا جس سے متعلقہ علاقوں کے نوجوانوں کی ایک تعداد استفادہ کر سکتی ہے۔ ہمارے ہاں بے شمار تاریخی مقامات ہیں‘ کچھ محفوظ ہیں اور کچھ گزرے وقت کی دست برد پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ مقامی‘ صوبائی اور وفاقی حکومتیں ان کا اگر تحفظ نہیں کر سکتیں تو ان پر ان کے تعارف کی تختیاں ضرور لگوا سکتی ہے جو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہوں گی اور عام لوگ ان کے باعث اپنے تاریخی ورثے کے بارے میں شناسائی حاصل کر سکیں۔ تاریخ میں جہاں کہیں کسی نے آزادی کی جدوجہد میں کوئی نمایاں کام کیا ہے ‘ کوئی لڑائی لڑی ہے وہاں ایسی تختی لگا دی جائے تو یہ ہمارے قومی افتخار میں اضافے کا باعث ہو گی ۔ حالیہ عشروں میں جن مقامات پر بم دھماکوں میںکشت و خوں ہوا ہے وہاں اس وقت کی تصویریں اگر ہیں اور آج کی چہل پہل کی تصویریں لگانی چاہئیں یا کم ازکم اس واقعہ کی مختصر روداد کی تختی لگا دی جائے تاکہ لوگ آج زمانہ امن میں اس کو دیکھ کر یہ اندازہ کر سکیں کہ ہم کس ابتلا سے گزرے ہیں۔پاک فوج قبائلی علاقوں میں میوزیم قائم کر سکتی ہے۔ ایک تو سیاحوں کیلئے سفر کو محفوظ بنانے کی طرف توجہ بہت ضروری ہو گی تاکہ اغواء برائے تاوان ایسی وارداتوں سے سیاحوں کو تحفظ مل سکے۔ دوسرے سیاحتی مقامات پر آنے جانے کی سہولتوں کی طرف دھیان دیا جانا چاہیے ۔ مثال کے طور پر ٹیکسلا جائیں تو مختلف مقامات کی سیر کیلئے بہت دقت سہنی پڑتی ہے۔ سیاحوں کو جعل سازوں اور دھوکے بازوں سے بچانے کیلئے مشاورت فراہم کرنے کا بندوبست ضروری ہوگا۔ ان کیلئے محفوظ ٹھکانے مہیا کرنے پر توجہ دینی ہوگی جہاں وہ عارضی قیام کر سکیں اور انہیں کم خرچ صاف ستھرا کھانا مل سکے۔ صاف پانی اور ساتھ لے جانے والا ہلکا پھلکا کھانا میسر آ سکے۔ جعلی آثار فروخت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ضروری ہو گی۔ سیاحتی مقامات کی صفائی کا بندوبست ضروری ہوگا تاکہ وہاں جانے والے کوڑا کچرا نہ پھیلائیں۔ پہاڑی مقامات پر یہ انتظام اور بھی اہم ہوگا۔ الغرض سیاحت کو ایک صنعت کے طور پر فروغ دینے کیلئے پرائیویٹ سیکٹر میں چھوٹے چھوٹے ٹورآپریٹر یونٹ قائم کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ یہ محض چند گزارشات ہیں۔ سیاحت کے متعدد پہلو ہیں جن پر الگ الگ توجہ دی جانی چاہئے۔

متعلقہ خبریں